Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Syed Badar Saeed
  3. Dunya Ke Pehle Nobel Inam Yafta Ka Pakistan Mein Daftar

Dunya Ke Pehle Nobel Inam Yafta Ka Pakistan Mein Daftar

دنیا کے پہلے نوبل انعام یافتہ کا پاکستان میں دفتر

ہینری ڈونانٹ تاریخ کا وہ کردار ہے جسے امن کا پہلا نوبل انعام دیا گیا تھا۔ ان کے دفاتر آج بھی پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ وہ ایک تاجر تھے جن کا تعلق جنیوا سوئٹزرلینڈ سے تھا۔ 1859 میں وہ اٹلی کے قریب ایک جگہ سے گزرے جہاں کچھ دیر قبل ہی جنگ ختم ہوئی تھی۔ انہوں نے میدانِ جنگ میں ہزاروں کٹے پھٹے زخمی فوجیوں کو بغیر کسی طبی امداد کے تڑپتے دیکھا تو وہ اس منظر نے انہیں ذہنی طور پر بہت پریشان کر دیا۔ انہوں نے اپنا تجارتی سفر ختم کر دیا اور زخمیوں کی مرہم پٹی شروع کر دی۔

یہاں سے ایک نئی کہانی کا آعاز ہوا۔ ہینری نے اس صورت حال پر کتاب بھی لکھی جس نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر ان کی زندگی بچانا بہت ضروری ہے اس لیے کوئی ایسی تنظیم ہونی چاہیے جسے جنگ کے دوران بھی ابتدائی طبی امداد دینے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔ ان کی کوششوں سے 1863 میں "انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس" (ICRC) کا قیام عمل میں آیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اس تنظیم کا کوئی ایسا نشان ہونا چاہیے جسے دیکھ کر اس کے کارکنوں پر حملہ نہ ہو اور انہیں جنگی علاقوں میں کام کرنے دیا جائے۔

ہینری کا تعلق چونکہ سوئٹزرلینڈ سے تھا لہذا ان کی خدمات کے اعزاز میں اس تنظیم کا نشان منتخب کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے قومی پرچم کے رنگوں کو الٹ کر اسے ریڈ کراس کا جھنڈا بنا دیا گیا۔ یہ نشان مکمل طور پر غیر مذہبی تھا اور صرف ایک ملک کے پرچم میں رنگ تبدیل کیا گیا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسے مذہبی رنگ دے دیا گیا۔ 1877-1878 کی "روس ترک جنگ" کے دوران عثمانی سلطنت نے اسے "صلیب" قرار دیا اور جواز پیش کیا کہ میدان جنگ میں ترک سپاہی اس نشان کو صلیبی فوج کا نشان سمجھ کر رضاکاروں پر حملہ کر سکتے ہیں اس لیے صلیب کے متبادل کے طور پر "ہلالِ احمر" (ریڈ کریسنٹ) کے نشان کا استعمال شروع ہوا۔

1929 کے جنیوا کنونشن کے ذریعے ہلال احمر کو ریڈ کراس کے مساوی ایک بین الاقوامی علامت کے طور پر باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی۔ آج دنیا میں بیک وقت اس تنظیم کے دو نشانات عالمی سطح پر رجسٹر ہیں۔ ایک کے سوا باقی مسلم ممالک ہلال احمر یعنی چاند کا نشان استعمال کرتے ہیں اور دیگر ممالک صلیب سے مشابہہ "جمع" کا نشان استعمال کرتے ہیں۔ ہینری ڈونانٹ کی یہ تحریک آج دنیا بھر میں اپنا کام کر رہی ہے لیکن اس تحریک کی مصروفیت کی وجہ سے ڈونانٹ کی ذاتی زندگی مالی مشکلات کا شکار رہی۔ ان کے کاروباری پراجیکٹ ناکام ہونے لگے اور وہ گمنامی کی زندگی جینے لگے۔

1895 میں ایک صحافی کی تحریر کے بعد دنیا کو ان کی کوششوں کا علم ہوا اور پھر 1901 میں انہیں دنیا کے پہلے "نوبل امن انعام" سے نوازا گیا۔ نوبل انعام ملنے کے 9 سال بعد دنیا میں انسانی ہمدردی کے لیے ایک بڑے نیٹ ورک کی بنیاد رکھنے والا یہ شخص وفات پا گیا لیکن 167 سال بعد بھی انسانیت کی خدمت کا وہ سفر جاری ہے جو ہینری ڈونانٹ نے شروع کیا تھا۔ اگلے روز کالم نگاروں کے ایک وفد کے ہمراہ ہلال احمر پنجاب کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا تو بریفنگ کے دوران یہ تفصیلات معلوم ہوئیں۔

پاکستان ہلالِ احمر پنجاب کے چیئرمین میاں محمد حنیف (ستارہ امتیاز) ہیں۔ ایک خوبصورت بات یہ بھی تھی کہ ہلالِ احمر پنجاب کی مینجنگ کمیٹی کے رکن پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی بھی وہاں موجود تھے جو مختلف کالجز میں پرنسپل رہے۔ انہوں نے عوامی فلاح اور غریب بچوں کی اعلی تعلیم کے لیے چار سال تنخواہ لیے بغیر پڑھایا۔ پروفیسر شوکت علی بیک وقت ہلال احمر اور انجمن حمایت اسلام سے وابستہ ہیں۔ اس موقع پر یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہلالِ احمر پنجاب اپنی 100 سال سے زائد قدیم تاریخی عمارت کو اس کی اصل حالت میں محفوظ کر رہا ہے اور اسے "ریڈ کراس ریڈ کریسنٹ میوزیم" میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ میوزیم نہ صرف تنظیم کی ایک صدی پر محیط انسانی خدمات کی تاریخ کو محفوظ کرے گا بلکہ اسے ایک تعلیمی اور ثقافتی مرکز کے طور پر بھی پیش کرے گا۔

میرے لیے اس دورے میں سب سے اہمیت کا حامل تھیلیسیمیا سنٹر تھا جو کہ پنجاب اسمبلی کے قریب ہیڈ آفس میں قائم ہے۔ یہاں موجود ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ہر چار ماہ بعد رضاکارانہ طور پر خون دینا بہت ضروری ہے کیونکہ تھیلیسیمیا کے ایسے مریض بچے بھی ہیں جنہیں ایک ہفتے بعد خون لگتا ہے لیکن ان کے لیے اکثر خون کی دستیابی سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔ انہوں نے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سب توہمات ہیں کہ خون دینے سے موٹاپا آتا ہے کسی قسم کا نقصان ہوتا ہے۔ اگر انسان صحت مند ہو تو 60 سال کی عمر تک خون کا عطیہ دے سکتا ہے۔ سیکرٹری ذکا الرحمان نے بتایا کہ پی آر سی ایس ٹیچنگ ہسپتال میں 250 بستروں پر مشتمل جدید ونگ کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ تشخیصی سہولیات کو عالمی معیار پر لانے کے لیے جدید ترین CT اسکین اور MRI مشینیں نصب کی جا رہی ہیں جبکہ ڈائلیسس مراکز کا قیام ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ انسانی خدمت کا ایک کام انسان کو صدیوں تک زندہ رکھتا ہے۔ دنیا نہیں جانتی ہے ہینری ڈونانٹ کے وقت کے بڑے بزنس مین کون تھے۔ دنیا اس کے عشرے داروں، محلہ داروں اور ساتھی کاروباری افراد کے بارے میں بھی خاموش ہے لیکن ہینری ڈونانٹ کا کام آج بھی دنیا بھر میں جاری ہے یہاں تک کہ ان کی وفات کے کئی سال بعد بننے والے ملک میں بھی ان کی تصویر، ان کا نام اور ان کا کام جاری ہے۔

بشکریہ: نئی بات

Check Also

Kasb e Kamal Kun: Baba Ahmund

By Asif Masood