Saturday, 25 July 2026
  1.  Home
  2. Hameed Ullah Bhatti
  3. Gen Z Ki Baghawat, Modi Ka Gherao

Gen Z Ki Baghawat, Modi Ka Gherao

جین زی کی بغاوت، مودی کا گھیراؤ

بھارتی معاشرے میں گُھٹن بڑھ گئی ہے کیونکہ سوال کرنا غداری بنا دیا گیا ہے۔ صدیوں سے زات پات اور مذہبی تقسیم اب نفرت، تشدد اور عدم برداشت کی شکل میں ہے۔ اِس تناظر میں جین زی کی بغاوت اور مودی کے گھیراؤ کو سمجھنا مشکل نہیں۔ مودی جو تین بار انتخابات میں یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ تم عظیم قوم ہو ہمارا ساتھ دینے سے بھارت خالص ہندو ملک بنے گا اور اکھنڈ بھارت کی راہ ہموار ہوگی جنونی ہندو ایسے دلفریب اور جھوٹے نعروں پر کچھ اِس طرح یقین کر بیٹھے کہ مودی کی حمایت میں شواہد جھٹلا دیتے دلیل سے بات کرنے کے راستے بند کرنے کی وجہ سے آج بھارتی معاشرہ ایسے بلند مینار پر کھڑا ہے جہاں اندھیروں اور خرابیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

عالمی تنہائی کے شکار اِس ملک کا سب سے زیادہ عرصہ وزیرِ اعظم رہنے والا شخص بیرونی دوروں میں کھی کھی کرتا عالمی رہنماؤں کے زبردستی گلے ملتا اور اپنی زات کے لیے کوئی اعزاز لیکر واپس آتا ہے۔ بھارت کا بھلا نہ ہونے سے ہی عام شہریوں کی طرح بی جے پی کے جنونی ہندو بھی اپنی یکطرفہ اُلفت ترک کرنے پر مجبور ہیں جو اضطراب و بے چینی کی صورت میں ظاہر ہے مقبول قیادت کی ناقص کارکردگی پر بھارت کے طول و عرض میں موجود غم و غصہ مظاہروں کی صورت میں عیاں ہے۔

کئی عشروں سے ایسی کہانیاں سنائی جاتی رہیں کہ پاکستان اصل میں بھارت کو توڑنا چاہتا ہے لہذا حل یہ ہے کہ پاکستان کو توڑ دیا جائے ایسی کہانیاں مقبولیت بڑھانے اور اقتدار دلانے کاعرصہ دراز تک آسان نسخہ رہیں مگر 1971 میں جب پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تو یہ نسخہ اہمیت کھو بیٹھا جو کانگرسی مقبولیت میں کمی کا باعث بنا توبی جے پی جیسے جنونی اور انتہا پسندوں نے بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانے کا نعرہ دیکر تقویت پائی۔ ہندو اکثریت کے اِس نعرے پر یقین سے ملک کے طول و عرض میں ہندو مسلم فسادات ہوتے رہے یہ ایسا نتیجہ تھا جو ملکی وحدت و سلامتی کے لیے خطرناک تھا لیکن مقبولیت کے لیے جنونی ہندوؤں نے پرواہ نہ کی آج مسلمان، سکھ اور دلت سب مذہبی تفریق کا شکار اور خود کو بچانے کی تگ و دو میں ہیں۔

بات ہورہی تھی پاکستان کے خطرناک ہونے کی مگر جب تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد مودی نے کہنا شروع کردیا کہ پاکستان کی معاشی کمر توڑ کررکھ دی ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے جبکہ بھارتی زرِ مبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالر سے زائد ہیں جو معاشی طور پر مضبوط ہونے کا ثبوت ہے تو پاکستان کے خطرناک ہونے کا دعویٰ قدر کھو بیٹھا۔ آج جب طالب علم تحریک پورے بھارت میں پھیل رہی ہے تو وہی بھارتی قیادت جو کہتی تھی کہ پاکستان کا خزانہ خالی ہے وہ کارکردگی، نفرت کے فلسفے اور عوامی تقسیم کی سازشوں سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے کہنے پر مجبورہے کہ طالب علم تحریک کی پُشت پناہی اور فنڈنگ میں پاکستان کا ہاتھ ہے مگر کوئی یقین نہیں کررہا۔ بھارتی سمجھ گئے ہیں کہ دلیل سے جواب دینے کی بجائے دوبارہ پاکستان کا چورن پیش کیا جارہا ہے وہ سوال کرتے ہیں ارے بھائی جس کا خزانہ خالی ہے وہ زرِ مبالہ کے سات سو ارب ڈالر ذخائر رکھنے والے ملک میں کیسے رقوم بانٹ کر افراتفری پھیلا سکتا ہے؟

مودی اور اُس کی جماعت نے تو ملک میں ایسا کلچر روشناس کرایا تھا کہ وہ جو کہیں گے عوام من و عن یقین کرلے گی کبھی کوئی سوال نہیں ہوگا اور جب بھی انتخاب ہوگا ووٹ ملتے رہیں گے اندازوں کے مطابق کچھ عرصہ تو ایسا ہوا بھی یہاں تک کہ ممتابینرجی جیسی لبرل خاتون بھی اقتدار سے محروم ہوگئیں۔

بی جے پی کے اقتدار میں کچھ کردار اِداروں کا ہے نہ صرف مخالف ووٹ فہرستوں سے ختم کردیے بلکہ عدالتیں تک حکومت کے خلاف مقدمات سُننے سے انکاری رہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ کا دہلی مظاہروں کے دوران پولیس تشدد کی درخواست پر فوری سماعت اور پولیس تشددکی ویڈیوز دیکھنے سے انکار کرنا اِداروں کی کھلم کھلا جانبداری ہے۔ چیف جسٹس سوریاکانٹ نے درخواست پر ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس ویڈیوز دیکھنے کا وقت نہیں نہ ہی اِس میں کوئی دلچسپی ہے لہذا وقت ضائع نہ کریں۔ یاد رہے کہ رواں برس مئی میں اسی چیف جسٹس کے اُس متنازع بیان پر آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آئی جس میں انھوں نے بے روزگار نوجوانوں کو کارکروچ اور معاشرے پر بوجھ قرار دیا جس پر نوجوانوں کا شدید ردِ عمل آیا مگر عدلیہ اور حکومت نے کوئی توجہ نہ دی۔ آج جب دہلی سے لیکر کلکتہ اور گوا تک احتجاج پھیل چکا ہے تو پاکستان کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی جانے لگی ہے جس میں کوئی صداقت نہیں۔ مودی کے اقتدار کے خلاف ماضی میں ایسی کوئی طاقتور تحریک کبھی نہیں دیکھی گئی اسی لیے واقفانِ حال اِسے جین زی کی بیداری اورمودی کے گھیراؤ کی تحریک کہتے ہیں۔

طالب علموں کا مطالبہ ہے کہ داخلے اور ملازمتوں کے حوالے سے ہونے والے امتحانات کو شفاف بنایا جائے تاکہ منظورِ نظر طبقات کی بجائے پورے ملک کو یکساں مواقع حاصل ہوں جواب میں مودی حکومت کے رویے میں رعونت و تکبرہے۔ امتحانی اسکینڈل سے جنم لینے والی تحریک نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تو حکومت نے حقارت سے یہ مطالبہ رَد کر دیا جس پر طلبا مشتعل ہوئے اور احتجاج میں شدت آئی اور حکومتی احتساب کا مطالبہ بھی ہونے لگا۔ سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی نے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت دی اب جوتحریک وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کررہی تھی وہ مودی استعفیٰ چاہتی ہے جس پر مودی کا گودی میڈیا حیران ہے اور اِسے مودی کے خلاف گھیرا تنگ ہونا سمجھتا ہے حالانکہ اِس نوبت میں زیادہ ہاتھ حکومت کا ہے دراصل حکمران مقبولیت اور اقتدار میں من مرضی کرتے ہیں اور انجام کا رزلت و رسوائی کے ساتھ رُخصت ہوتے ہیں ایساہی کچھ بھارت میں ہو رہا ہے۔

بھارتی اِداروں پر حکومتی غلبہ و رسوخ عیاں حقیقت ہے فوج اور پولیس میں حکومت نواز انتہا پسندوں کا غلبہ ہے الیکشن کمیشن کی جانبداری بھی حقیقت ہے جو بھارتی معاشرے کی شکست و ریخت کا باعث ہے لوگ جان گئے ہیں کہ خرابیوں کی جڑ حکومت ہے لہذا بہتری لانی ہے تو حکومت کو ہٹانا ہوگا۔ امتحانی طریقہ کار کو شفاف بنانے کی بات کا استعفے تک جانا اور مودی کے خلاف گھیرا تنگ ہونا کافی غیرمعمولی ہے۔ بھارت میں جین زی کی یہ بغاوت کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے یا نہیں اِس بارے وثوق سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا مگر اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کی گرفتاری کو اہمیت نہ دینے والی حکومت بہت دباؤ میں ہے شاید ہی طلبا تحریک کو کُچل سکے مودی کا جانا یقینی ہے یہ جتنی دیر حکومت میں رہیں گے ملک کا نقصان کرنے کے ساتھ اپنی سرپرست جنونی جماعت بی جے پی کا بھی کباڑہ کریں گے۔

Check Also

Taleem Dushmani Ki Akhri Hadd

By Muhammad Zeashan Butt