Main Sabaq Yaad Karta Hoon Lekin Bhool Jata Hai
میں سبق یاد کرتا ہوں لیکن بھول جاتا ہے

"سر، میں نے پوری رات سبق یاد کیا تھا، لیکن پرچہ سامنے آیا تو سب کچھ غائب ہوگیا"۔
چند روز پہلے ایک اسکول میں ایک طالب علم نے یہ جملہ اس انداز میں کہا جیسے اس کے ساتھ کوئی دھوکا ہوگیا ہو۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ کمزور طالب علم نہیں تھا۔ اس کی کاپی صاف ستھری تھی، نوٹس مکمل تھے اور والدین کی شکایت بھی یہی تھی کہ "یہ گھنٹوں پڑھتا ہے، مگر یاد کچھ نہیں رہتا"۔ سوال صرف اس ایک بچے کا نہیں۔ پاکستان کے لاکھوں طلبہ ہر امتحانی موسم میں اسی خاموش اذیت سے گزرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ ان کی یادداشت ہے، حالانکہ اکثر مسئلہ یادداشت نہیں بلکہ ہمارا پورا تعلیمی رویہ ہوتا ہے۔
میں نے اس بچے سے پوچھا، "سبق کیسے یاد کرتے ہو؟" اس نے جواب دیا، "ایک ہی صفحہ دس دس بار پڑھتا ہوں، پھر بند کرکے دوبارہ رٹتا ہوں"۔ اس کا جواب سنتے ہی اصل تصویر سامنے آ گئی۔ وہ سیکھ نہیں رہا تھا، صرف الفاظ کو وقتی طور پر دماغ پر بوجھ بنا رہا تھا۔
تعلیمی نفسیات کی کئی تحقیقات اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ صرف بار بار پڑھنا، معلومات کو دیر تک محفوظ رکھنے کا مؤثر طریقہ نہیں۔ دماغ اس وقت زیادہ مضبوط یادداشت بناتا ہے جب انسان خود معلومات کو یاد کرنے کی کوشش کرے، وقفے وقفے سے دہرائے، مختلف مثالوں سے جوڑے اور اسے کسی دوسرے کو سمجھائے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی طلبہ کم وقت پڑھ کر بھی بہتر نتائج لے آتے ہیں، جبکہ بعض پوری رات جاگنے کے باوجود امتحانی ہال میں خالی ذہن کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام بھی اس مسئلے کو بڑھاتا ہے۔ کلاس میں اکثر سوال یہ نہیں ہوتا کہ "تم نے سمجھا کیا؟" بلکہ یہ ہوتا ہے کہ "کتنا یاد کیا؟" نمبر رٹنے پر ملتے ہیں، سمجھنے پر نہیں۔ والدین بھی اکثر بچے کے مطالعے کے گھنٹے گنتے ہیں، سیکھنے کا معیار نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے کتاب کے ساتھ وقت تو گزارتے ہیں، مگر علم کے ساتھ تعلق پیدا نہیں کر پاتے۔
اس مسئلے کو سوشل میڈیا نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طالب علم کتاب کھولتا ہے، پانچ منٹ بعد موبائل کی اطلاع آتی ہے، پھر ایک مختصر ویڈیو، پھر دوسرا پیغام، پھر ایک اور کلپ۔ اسے لگتا ہے کہ وہ مسلسل پڑھ رہا ہے، لیکن حقیقت میں اس کا دماغ ہر چند لمحوں بعد اپنی توجہ کھو دیتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ بار بار توجہ ٹوٹنے سے نئی معلومات کو طویل مدتی یادداشت میں منتقل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی آسان ضرور بنا دی ہے، مگر اگر طالب علم صرف فوری جواب لینے کا عادی ہو جائے تو سوچنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بچے سبق کیوں بھول جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں سیکھنا سکھا بھی رہے ہیں یا نہیں؟ ہم نے تعلیم کو ایک ایسی دوڑ بنا دیا ہے جس میں رفتار کو اہمیت دی جاتی ہے، سمت کو نہیں۔ ہم بچوں سے کہتے ہیں کہ زیادہ پڑھو، مگر یہ نہیں بتاتے کہ مؤثر طریقے سے کیسے پڑھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امتحان ختم ہوتے ہی کئی سال کی محنت بھی چند ہفتوں میں ذہن سے مٹ جاتی ہے۔
مجھے اس طالب علم کی آخری بات آج بھی یاد ہے۔ اس نے آہستہ سے کہا، "سر، شاید میرا دماغ کمزور ہے"۔ میں نے اس کے چہرے پر مایوسی دیکھی، مگر اصل کمزوری اس کے دماغ میں نہیں تھی۔ کمزوری اس نظام میں تھی جس نے اسے یہ یقین دلا دیا تھا کہ رٹ لینا ہی سیکھ لینا ہے۔
شاید ہمیں اپنے بچوں سے یہ سوال بدلنا ہوگا۔ "کتنے صفحات یاد کیے؟" کے بجائے اگر ہم پوچھنا شروع کر دیں، "آج تم نے کون سی نئی بات سمجھی؟" تو ممکن ہے ہمارے اسکولوں سے صرف امتحان پاس کرنے والے طلبہ نہیں، زندگی کو سمجھنے والے انسان بھی نکلنا شروع ہو جائیں۔ کیونکہ یادداشت کا سب سے بڑا راز دماغ میں نہیں، سیکھنے کے طریقے میں چھپا ہوتا ہے۔

