Saturday, 25 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dawood Ur Rahman
  4. Fazail e Maah e Safar

Fazail e Maah e Safar

فضائل ماہ صفر

ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا قمری مہینہ ہے۔ یہ مہینہ انسانیت میں زمانہ جاہلیت سے ہی منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا ہے، زمانہ جاہلیت کے لوگ اس ماہ میں خوشی کی تقریبات (شادی، بیاہ اور ختنہ وغیرہ) قائم کرنا منحوس سمجھتے تھے۔ یعنی زمانہ جاہلیت سے لوگ صفر کے مہینے کے متعلق مختلف قسم کے توہمات کا شکار ہیں اور آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی بہت سے مسلمان ماہ صفر کے بارے میں بڑی بد عقیدگی کا شکار ہیں اور ان کے ذہنوں میں مختلف خیالات جمے ہوئے ہیں اور جیسے ہی یہ مہینہ شروع ہوتا ہے، نادانوں کی جانب سے اس مہینے سے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیوں پر مشتمل پیغامات پھیلائے جاتے ہیں۔

آج کل کے مسلمان اسلامی تعلیمات کی کمی کی وجہ سے اس ماہ مبارک کو منحسوس سجھنتے ہیں اور سوچتے ہیں اس ماہ مبارک میں بیماریاں، بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ حالانکہ سرکار دو عالم ﷺ نے اس کی نفی فرمائی ہوئی ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوت چھات (بیماری کا دوسرے سے لگنے کا وہم) اور اُلو (کو منحوس سمجھنے) اور صفر (کے مہینہ کو منحوس سمجھنے) کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (صحیح البخاري: (بابُ لاَ صَفَرَ، وَهُوَ دَاءٌ يَأُخُذُ الُبَطُن، رقم الحدیث: 5717)

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے بڑے واضح انداز میں تو ہم پرستی، چھوت چھات اور صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنے کی نفی فرمائی ہے، لہذا کسی وقت اور زمانے میں کوئی نحوست اور برائی نہیں ہے۔

بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔ (صحیح البخاري: (رقم الحدیث: 7491) صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 5863)

لہذا پتہ چلا کہ نحوست کی اصل وجہ زمانہ وغیرہ نہیں ہے، نہ کوئی دن منحوس ہے اور نہ کوئی مہینہ، بلکہ نحوست کی اصل وجہ انسان کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جو مصیبت بھی تم پر پڑتی ہے، وہ تمہارے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے۔ (سورۃ الشوریٰ: آیت نمبر: 30)

بعض لوگ صفر کے مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات منعقد نہیں کرتے اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ صفر میں کی ہوئی شادی صِفر (زیرو) اور ناکام ہوجاتی ہے اور ربیع الاول کے مہینہ سے اپنی تقریبات شروع کر دیتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ صفر کے مہینے کو نامبارک اور منحوس سمجھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شریعت میں سال کے بارہ مہینوں اور دنوں میں کوئی مہینہ یا دن ایسا نہیں جس میں نکاح کی تقریب مکروہ اور ناپسندیدہ ہو یا اس میں نکاح منحوس اور شادی ناکام ہوجاتی ہو۔

ماہ صفر کے آخری بدھ کو نماز ادا کی جاتی ہے، جس کی ادائیگی کا ایک مخصوص طریقہ یہ بیان کیا جاتا ہے، کہ ماہِ صفر کے آخری بدھ دو رکعت نماز، چاشت کے وقت، اس طرح ادا کی جائے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ﴿قُل اللّٰھُمَّ مَالِکَ الُمُلُکِ﴾ دو آیتیں پڑھیں اور دوسری رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد ﴿ قُل ادُعُوا اللہَ أوِ ادُعُوا الرَّحُمٰنَ﴾ دوآیتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد نبیِ اکرم ﷺ پر درود بھیجیں اور دعا کریں۔

اس طریقہ نماز کی تخریج کے بعد حضرت علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ "اس قسم کی مخصوص طریقوں سے ادا کی جانے والی نمازوں کا حکم یہ ہے کہ اگر اس مخصوص طریقہ کی شریعت میں مخالفت موجود ہو تو کسی کے لیے ان منقول طریقوں کے مطابق نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے اور یہ مخصوص طریقے والی نماز شریعت سے متصادم نہ ہو تو پھر ان طریقوں سے نماز ادا کرنا مخصوص شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔

وہ شرائط یہ ہیں:

(1) اِن نمازوں کو ادا کرنے والا اِن کے لیے ایسا اہتمام نہ کرے، جیسا کہ شرعاً ثابت شدہ نمازوں (فرائض و واجبات وغیرہ)کے لیے کیا جاتا ہے۔

(2) ان نمازوں کو شارعؑ سے منقول نہ سمجھے۔

(3) ان منقول نمازوں کے ثبوت کا وہم نہ رکھے۔

(4) ان نمازوں کو شریعت کے دیگر مستحبات وغیرہ کی طرح مستحب نہ سمجھے۔

(5) ان نمازوں کا اس طرح التزام نہ کیا جائے جس کی شریعت کی طرف سے ممانعت ہو۔ جاننا چاہیے کہ ہر مباح کام کو جب اپنے اوپر لازم کر لیا جائے، تو وہ شرعاً مکروہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے افراد معدوم (نہ ہونے کے برابر) ہیں جو مذکورہ شرائط کی پاسداری رکھ سکیں اور شرائط کی رعایت کیے بغیر ان نمازوں کو ادا کرنے کا حکم اوپر گزر چکا ہے کہ یہ عمل "نیکی برباد، گناہ لازم" کا مصداق تو بن سکتا ہے، تقرب الی اللہ کا نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے مخصوصة، القول الفیصل في ھٰذا المقام: 5/ 103,104,إدارة القرآن کراتشي)

صفر کے آخری بدھ کو روزہ رکھنا بالکل غلط اور بے اصل ہے، اس (روزہ) کو خاص طور سے رکھنا اور اس پر ثواب کا عقیدہ رکھنا بدعت اور ناجائز ہے، نبی اکرم ﷺ اور تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم سے کسی ایک ضعیف حدیث میں (بھی) اس کا ثبوت بالالتزام مروی نہیں اور یہی دلیل ہے اس کے بطلان و فساد اور بدعت ہونے کی، کیونکہ کوئی عبادت ایسی نہیں، جو نبی اکرم ﷺ نے امت کو تعلیم کرنے سے بخل کیا ہو۔ (امداد المفتین: فصل في صوم النذر و صوم النفل، ص: 416، دارالاشاعت)

سوال: ماہِ صفر کے آخری بدھ کو بہترین کھانا پکانا درست ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہِ صفرکے آخری بدھ کو نبی کریم ﷺ کو مرض سے شفاء ہوئی تھی، اس خوشی میں کھانا پکانا چاہیے، یہ درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب: یہ غلط اور من گھڑت عقیدہ ہے، اس لیے ناجائز اور گناہ ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم (احسن الفتاویٰ، کتاب الایمان والعقائد، باب فی رد البدعات: 1/360، ایچ ایم سعید)

سوال: جناب مفتی صاحب! بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ کچھ لوگ ماہِ صفر المظفر کے آخری بدھ کو خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ ﷺ کو مرض سے شفاء ہوئی تھی اور اس دن بلائیں اوپر چلی جاتی ہیں، اس لیے اس دن خوشیاں مناتے ہوئے شیرینی تقسیم کرنی چاہیے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ماہِ صفر میں اس عمل کا شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب: ماہِ صفر المظفرکو منحوس سمجھنا خلافِ اسلام عقیدہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے، اس ماہِ مبارک میں نہ تو آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور نہ اس کے آخری بدھ کو اوپر جاتی ہیں اور نہ ہی امامُ الانبیاء جنابِ محمد رسول اللہ ﷺ کو اس دن مرض سے شفاء یابی ہوئی تھی، بلکہ موٴرخین نے لکھا ہے کہ 28/ صفر کو آنحضرت ﷺ بیمار ہوئے تھے، مفتی عبدالرحیم فرماتے ہیں: "مسلمانوں کے لیے آخری چہار شنبہ کے طور پر خوشی کا دن منانا جائز نہیں۔ "شمس التواریخ" وغیرہ میں ہے کہ 26/صفر 11ھ دو شنبہ کو آں حضرت ﷺ نے لوگوں کو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا اور 27/صفر سہ شنبہ کو اُسامہ بن زیدؓ امیرِلشکر مقرر کیے گئے، 28/صفر چہار شنبہ کو اگرچہ آپ ﷺ بیمار ہوچکے تھے، لیکن اپنے ہاتھ سے نشان تیار کرکے اُسامہ کو دیا تھا، ابھی (لشکرکے)کوچ کی نوبت نہیں آئی تھی کہ آخر چہار شنبہ اور پنج شنبہ میں آپ ﷺ کی علالت خوفناک ہوگئی اور ایک تہلکہ سا مچ گیا، اسی دن عشاء سے آپ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ کو نماز پڑھانے پر مقرر فرمایا۔ (شمس التواریخ: 2/1008)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ 28/ صفر کو چہار شنبہ (بدھ) کے روز آنحضرت ﷺ کے مرض میں زیادتی ہوئی تھی اور یہ دن ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ تھا، یہ دن مسلمانوں کے لیے تو خوشی کا ہے ہی نہیں، البتہ یہود وغیرہ کے لیے شادمانی کا دن ہو سکتا ہے، اس روز کو تہوار کا دن ٹھہرانا، خوشیاں منانا، مدارس وغیرہ میں تعظیم کرنا، یہ تمام باتیں خلافِ شرع اور ناجائز ہیں"۔ (فتاویٰ حقانیہ، کتاب البدعة والرسوم: 2/84، جامعہ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک، وکذا فی فتاویٰ رحیمیہ، ما یتعلق بالسنة والبدعة: 2/68، 69، دارالاشاعت)

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ اپنی تالیف "سیرت المصطفیٰ" میں لکھتے ہیں کہ " ماہِ صفر کے اخیر عشرہ میں آپ ﷺ ایک بار شب کو اُٹھے اور اپنے غلام" ابو مویہبہ" کو جگایا اور فرمایا کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ اہلِ بقیع کے لیے استغفار کروں، وہاں سے واپس تشریف لائے تو دفعةً مزاج ناساز ہوگیا، سر درد اور بخار کی شکایت پیدا ہوگئی۔ یہ ام المومنین میمونہؓ کی باری کا دن تھا اور بدھ کا روز تھا"۔ (سیرت المصطفیٰ ﷺ، علالت کی ابتداء: 3/156، کتب خانہ مظہری، کراچی)

سیرة النبی ﷺ میں علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ "صفر / 11 ہجری میں آدھی رات کو آپ ﷺ جنت البقیع میں جو عام مسلمانوں کا قبرستان تھا، تشریف لے گئے، وہاں سے واپس تشریف لائے تو مزاج ناساز ہوا، یہ حضرت میمونہؓ کی باری کا دن تھا اور روز چہار شنبہ تھا"۔ (سیرة النبی: 2/115، اسلامی کتب خانہ)

اسی کے حاشیہ میں "علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ" لکھتے ہیں: "اس لیے تیرہ (13) دن مدتِ علالت صحیح ہے، علالت کے پانچ دن آپ ﷺ نے دوسری ازواج کے حجروں میں بسر فرمائے، اس حساب سے علالت کا آغاز چہار شنبہ (بدھ) سے ہوتا ہے"۔ (حاشیہ سیرة النبی: 2/114، اسلامی کتب خانہ)

سیرة خاتم الانبیاء ﷺ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ" 28/ صفر 11 ہجری چہار شنبہ کی رات آپ ﷺ قبرستان بقیعِ غرقد میں تشریف لے جا کر اہلِ قبور کے لیے دعاءِ مغفرت کی اور فرمایا: اے اہلِ مقابر تمہیں اپنا حال اور قبروں کا قیام مبارک ہو، کیوں کہ اب دنیا میں تاریک فتنے ٹوٹ پڑے ہیں، وہاں سے تشریف لائے تو سر میں درد تھا اور پھر بخار ہوگیا اور بخار صحیح روایات کے مطابق تیرہ روز تک متواتر رہا اور اسی حالت میں وفات ہوگئی"۔ (سیرت خاتم الانبیاء، ص: 126، مکتبة المیزان، لاہور)۔

پاکستان کے بعض علاقوں مثلاً صوبہ سرحد میں ماہ صفر کے آخری بدھ کو چوری بنائی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے جناب نبی اکرم ﷺ کی صحت یابی کی خوشی میں صفر کے آخری بدھ کو چوری بنائی تھی۔

واضح رہے کہ چوری بنانا نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور نہ آثار اور کتب فقہ سے، لہذا اس کو ثواب کی نیت سے بنانا بدعت سیئہ ہے اور رواج کی نیت سے بنانا رسم قبیحہ ہے اور تاریخی روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ ماہ صفر کے آخری بدھ کو جناب رسول اللہ ﷺ کی بیماری بڑھ گئی تھی اور یہودِ خیبر نے اس دن خوشیاں منائی اور دعوتیں تیار کی تھیں، لہذا یہ طریقہ بدعت ہے، اس اجتناب کرنا چاہیے۔ (فتاويٰ حقانیة: 46/2، ط: دارالعلوم حقانیة، فتاويٰ فریدیة: 296/1، 297، 298، ط: دارالعلوم صدیقیة، زروبی)

بہت سے احباب ایک من گھٹرت روایت پراستدال کرتے ہوئے ماہ صفر کو "منحوس" قرار دیتے ہیں اور یہ الفاظ بیان کرتے ہیں۔

"مَنُ بَشَّرَنِيُ بِخُرُوُجِ صَفَرَ، بَشَّرُتُہ بِالُجَنَّةِ"۔

ترجمہ: "جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا، میں اُسے جنت کی خوش خبری دوں گا"۔

یہ حدیث موضوع ہے اس کو ائمہ حدیث نے من گھڑت قرار دیا ہے۔

ملا علی القاري رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مَنُ بَشَّرَنِيُ بِخُرُوُجِ صَفَرَ، بَشَّرُتُہ بِالُجَنَّةِ" لَا أصُلَ لَہ"۔ (الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبریٰ، حرف المیم، رقم الحدیث: 437، 2/324، المکتب الإسلامي)

علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی رحمہ اللہ ملا علی قاری رحمہ اللہ کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ "مَنُ بَشَّرَنِيُ بِخُرُوُجِ صَفَرَ، بَشَّرُتُہ بِالُجَنَّةِ " قال القاري في الموضوعات تبعاً للصغاني: "لَا أصُلَ لَہ"۔ (کشف الخفاء و مزیل الإلباس، حرف المیم، رقم الحدیث: 2418، 2/538، مکتبة العلم الحدیث)

شیخ الاسلام محمد بن علی الشوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مَنُ بَشَّرَنِيُ بِخُرُوُجِ صَفَرَ، بَشَّرُتُہ بِالُجَنَّةِ " قال الصغاني: "موضوع"۔ وکذا قال العراقي۔ (الفوائد المجموعة في أحادیث الضعیفة والموضوعة للشوکاني، کتاب الفضائل، أحادیث الأدعیة والعبادات في الشھور، رقم الحدیث: 1260، ص: 545، نزارمصطفیٰ الباز، مکة المکرمة)

اگر ان روایات پر غور کیا جائے تو ایک بات ملتی ہے کہ"لَا أصُلَ لَہ" کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔

اسی طرح علامحمد طاہر پٹنیؒ اور امام رضی الدین صغانیؒ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔

علامہ محمد طاہر پٹنی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وکذا (أي: موضوع) "مَنُ بَشَّرَنِيُ بِخُرُوُجِ صَفَرَ، بَشَّرُتُہ بِالُجَنَّةِ " قزویني، وکذا قال أحمد بن حنبل: اللآلیٴ عن أحمد ومما تدور في الأسواق ولا أصل لہ۔ (تذکرة الموضوعات للفتني، ص: 116، کتب خانہ مجیدیہ، ملتان)

امام رضی الدین صغانی لکھتے ہیں: موضوع احادیث میں سے بعض احادیث یہ ہیں پھر اس کے تحت انہوں نے کئی موضوع روایتوں کو ذکر کیا ہے، اُنہیں میں سے ایک زیر بحث روایت بھی ہے۔ (الموضوعات للصغاني: ص: 61، ط: دار المأمون للتراث)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ: میں نے ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا جو ماہِ صفر میں سفر نہیں کرتے (یعنی: سفر کرنا درست نہیں سمجھتے) اور نہ ہی اس مہینے میں اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں، مثلاً: نکاح کرنا اور اپنی بیویوں کے پاس جانا وغیرہ اور اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان "کہ جو مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا، میں اُسے جنت کی بشارت دوں گا" سے دلیل پکڑتے ہیں، کیا نبیِ اکرم ﷺ کا یہ فرمانِ مبارک (سند کے اعتبار سے) صحیح ہے؟ اور کیا اس مہینے میں نحوست ہوتی ہے؟ اور کیا اس مہینے میں کسی کام کے شروع کرنے سے روکا گیا ہے؟

جواب ملا کہ ماہِ صفر کے بارے میں جو کچھ لوگوں میں مشہور ہے، یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو اہلِ نجوم کے ہاں پائی جاتیں تھی، جنہیں وہ اس لیے رواج دیتے تھے کہ ان کا وہ قول ثابت ہو سکے، جسے وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتے تھے، حالاں کہ یہ صاف اورکھلا ہوا جھوٹ ہے (5/461)۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اسلام کی صحیح معنوں میں سمجھ عطا فرمائے۔

Check Also

Taleem Dushmani Ki Akhri Hadd

By Muhammad Zeashan Butt