Sarkon Ka Sach Aur Hamare Bekhabar Hukmaran
سڑکوں کا سچ اور ہمارے بے خبر حکمران

سرحد پار سے آنے والی تصویروں نے ذہن پر ایک عجیب سا بوجھ ڈال دیا ہے۔ دہلی کی ایک نامور یونیورسٹی کے باہر سڑک پر نعرے لگاتے اور پولیس کے آنسو گیس کے گولوں کے درمیان چیختے ہوئے نوجوانوں کو دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ اکیس یا بائیس سال کا ایک لڑکا، جس کے ماتھے پر لاٹھی کا شدید زخم تھا اور خون رس کر اس کی قمیص کے کالر کو لال کر رہا تھا، وہ چیخ چیخ کر صرف ایک ہی سوال پوچھ رہا تھا: "ہمارا پرچہ کیوں بکا؟ ہماری سال بھر کی محنت اور راتوں کی جاگ کا سودا کس نے کیا؟"
اس کے گرد سینکڑوں دوسرے لڑکے اور لڑکیاں جمع تھیں، جن کے ہاتھوں میں کتابوں اور قلم کے بجائے احتجاجی بینر اور پلے کارڈز تھے۔ کوئی واٹر کینن کے تند و تیز پانی سے بھیگ رہا تھا تو کوئی پولیس کے بوٹوں کی زد میں تھا۔ وہاں کا تعلیمی نظام اربوں روپے کے پیپر لیک اسکینڈلز، امتحانی دھاندلیوں، نصاب کی مسخ شدگی اور تعلیمی اداروں پر ایک خاص نظریے کی زبردستی چھاپ کے باعث وینٹی لیٹر پر جا چکا ہے۔ سرحد پار کا حاکمِ وقت اپنے سیاسی مفادات، انتہا پسند ووٹ بینک کو سنبھالنے اور اپنی تعلیمی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ان بچوں کی آواز کو لاٹھیوں، واٹر کینن اور جیلوں کے ذریعے دبانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا۔
اسی شام، میں اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھا یہ المناک مناظر سکرین پر دیکھ رہا تھا کہ ایک دوست کا فون آیا۔ باتوں باتوں میں، میں نے اس سے کہا کہ ذرا ٹی وی کا بٹن دباؤ اور دیکھو کہ سرحد پار کیا ہنگامہ برپا ہے۔ وہاں سڑکوں پر نسلِ نو کا مستقبل اور ان کی محنت رل رہی ہے۔ مگر دوسری طرف جب ہم نے اپنے ملکی نیوز چینلز پر نظر ڈالی تو منظر ہی بالکل مختلف تھا۔ وہاں کسی ایئر کنڈیشنڈ اور شاندار اسٹوڈیو میں چار سیاست دان بیٹھے ایک دوسرے پر چِلا رہے تھے۔ ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ اچھالا جا رہا تھا، پرانے مقدمات کی فائلیں لہرائی جا رہی تھیں اور اس بات پر لفظی گلی گلوچ ہو رہی تھی کہ اگلے الیکشن میں اقتدار کا تاج کس کے سر پر سجے گا اور کس کو اقتدار کی راہداریوں سے باہر پھینکا جائے گا۔
مجھے اچانک ایک شدید ہول اور گھبراہٹ محسوس ہوئی۔ بارڈر کے اس پار حاکم کی فرعونی رعونت اور ہمارے ہاں اقتدار کا یہ گھناؤنا کھلواڑ، دونوں طرف کہانی ایک ہی تھی، بس کردار اور چہرے بدل گئے تھے۔ ایک طرف ریاست کی بے رحم طاقت سے نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر ان کے ہاتھ میں احتجاج کا پوسٹر تھما دیا گیا تھا اور دوسری طرف اسی نوجوان نسل کو مکمل طور پر فراموش کرکے صرف اور صرف کرسی کی جنگ لڑی جا رہی تھی۔
ہمارے اپنے ملک کا حال دیکھ لیجیے۔ پاکستان کا عام اور تعلیم یافتہ نوجوان اس وقت جس شدید مایوسی، بے یقینی اور معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے، اس کا اندازہ ایوانوں میں بیٹھی اس بے حس قیادت کو ہو ہی نہیں سکتا۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں سے ایم اے اور ایم فل کی ڈگریاں لے کر نکلنے والا طالب علم ہاتھ میں کاغذی فائلیں تھامے، سستے جوتے گھیستے ہوئے سرکاری دفاتر اور نجی کمپنیوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک جاتا ہے۔ مگر ہر جگہ اسے یا تو رشوت کی ناقابلِ عبور دیوار کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا پھر کسی بااثر شخص یا سیاست دان کی سفارش کا۔ جہاں میرٹ کی دھجیاں کھلے عام اڑائی جا رہی ہوں، وہاں محض ڈگری اور قابلیت کا ہونا کسی سزا سے کم نہیں لگتا۔
نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ ہمارے بہترین، ہنر مند اور لائق نوجوان روزانہ اس ملک کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ جسے بھی ویزا ملتا ہے، وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے پاسپورٹ پر مہر لگواتا ہے اور دیارِ غیر کی طرف ہجرت کر جاتا ہے۔ جو مجبوری کے تحت یہاں رہ جاتے ہیں، وہ اندر ہی اندر گھٹ کر رہ جاتے ہیں یا پھر روٹی کے بنیادی سوال، مہنگائی اور بجلی و گیس کے بھاری بلوں کی ادائیگی میں اپنے تمام تر روشن خواب اور صلاحیتیں ضائع کر دیتے ہیں۔ مگر ہمارے سیاست دانوں کے پاس ان نوجوانوں کے مسائل پر غور کرنے یا ان کی بابت سوچنے کا وقت کہاں ہے؟ ان کے پاس ہر مسئلے کا واحد حل صرف پریس کانفرنسیں کرنا، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا، این آر او کے لیے جوڑ توڑ کرنا اور اپنے بیٹوں، بھتیجوں اور رشتہ داروں کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔
اگر آپ گہرائی سے تجزیہ کریں تو سرحد پار کا وہ طالب علم جو سڑک پر اپنے امتحانات کی شفافیت کے لیے لاٹھیاں کھا رہا ہے اور ہمارے ملک کا وہ نوجوان جو بے روزگاری سے تنگ آ کر مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب رہا ہے، دونوں ایک ہی بگاڑ کا شکار ہیں۔ دونوں ملکوں کی قیادت بصیرت، سوچ اور دردِ دل سے مکمل طور پر محروم ہو چکی ہے۔ سرحد پار نفرت اور انتہا پسندی کو سیاست کا ذریعہ بنا کر طلبا کے حقوق کا استحصال کیا جا رہا ہے اور ہمارے ہاں سیاست دانوں نے بے حسی اور خود غرضی کا وہ لباس پہن لیا ہے جس میں عام عوام اور نوجوانوں کی چیخیں اندر تک نہیں پہنچتیں۔
قلم، کتاب، شائستگی اور علم کسی بھی قوم کا سب سے بڑا اثاثہ اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ جس قوم کے جوانوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھوٹ جائیں اور وہ اپنے بنیادی تعلیمی و معاشی حق کے لیے سڑکوں کی دھول چاٹنے پر مجبور ہو جائیں، یا پھر اپنے ہی ملک میں اجنبی اور بے گانہ بن کر رہ جائیں، اس قوم کی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ تاریخ کا یہ بہت پرانا، بے رحم اور سچا سبق ہے کہ جب حکمران صرف اپنے اقتدار، طاقت اور ذاتی مفادات کے قیدی بن جاتے ہیں اور اپنے گرد و پیش میں اٹھتی ہوئی نفاق اور بدامنی کی آگ سے آنکھیں چرانے لگتے ہیں، تو پھر وقت اور قدرت کے فیصلے بہت سخت ہوتے ہیں۔
آج وقت کا تقاضا اور شدید ضرورت اس بات کی تھی کہ ہماری قیادت خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی، معاشی و سماجی حالات پر گہری نظر رکھتی۔ وہ دیکھتی کہ پڑوس میں اٹھتا ہوا یہ سیاسی و تعلیمی بحران، طلباء کا یہ ابال اور عوامی بے چینی کل کو پورے خطے کی معیشت، خطے کے امن اور باہمی تعلقات کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ ہم اپنے ملک کے تعلیمی اداروں کا معیار بہتر کرتے، امتحانی نظام میں شفافیت لاتے، اپنے نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے راستے کھولتے اور انہیں اس قابل بناتے کہ وہ ملک کی معاشی ترقی میں اپنا مثبت حصہ ڈال سکتے۔ مگر افسوس صد افسوس! ہمارے ایوانوں میں بیٹھے نام نہاد دانشور، سیاست کے بازی گر اور اقتدار کے سوداگر صرف اس بات کی جوڑ توڑ اور منصوبہ بندی میں مصروف ہیں کہ اگلی باری کس کی ہوگی، کس کو کس طریقے سے راستے سے ہٹایا جائے گا اور کس کی پگڑی اچھالی جائے گی۔
یہ کالم صرف ایک سیاسی تنقید نہیں بلکہ ایک عمیق نوحہ ہے۔ ان لاکھوں خوبصورت خوابوں کا نوحہ جو ہر روز ہمارے تعلیمی اداروں سے سند حاصل کرکے نکلتے ہیں مگر باہر بے روزگاری، سفارش اور ناانصافی کی بھیٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ان حسرتوں کا نوحہ جو سرحد کے دونوں طرف سڑکوں کی دھول میں رل رہی ہیں۔ سیاست دانوں اور حکمرانوں کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کا صبر جب جواب دے جاتا ہے، تو پھر تاریخ کا دھارا بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔
مصنوعی ذرائع، میڈیا کے ذریعے جھوٹے اور دلکش دعوے اور مانگے کے اجالے سے چند دن کے لیے تو اقتدار کا بستر گرم رکھا جا سکتا ہے، مگر سچائی، انصاف اور حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا یا خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کی پکار ہے کہ ہمارے سیاست دان اقتدار کی اس اندھی اور بے مقصد جنگ سے باہر نکلیں، اپنے نوجوانوں کے ہاتھوں کو تھامیں، ان کی بات سنیں اور انہیں احتجاجی سڑکوں يا مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر ایک روشن، محفوظ اور باوقار مستقبل کی طرف لے جائیں، ورنہ تاریخ کا قلم جب ان کا حساب لکھے گا تو معافی کا کوئی راستہ یا عذر باقی نہیں رہے گا۔

