Kal Wo Thay, Aaj Ye Hain
کل وہ تھے، آج یہ ہیں

پاکستانی سیاست میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر عوام کی مشکلات، حکمرانی کا انداز اور اقتدار کا رویہ اکثر وہی رہتا ہے۔ ہر نئی حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے تبدیلی، احتساب اور عوامی خدمت کے دعوے کرتی ہے، لیکن اقتدار ملتے ہی وہی فیصلے، وہی طرزِ عمل اور وہی تکبر سامنے آ جاتا ہے جس پر کل تک تنقید کی جا رہی ہوتی تھی۔
تحریکِ انصاف کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر پندرہ روز بعد کرنے کا نظام متعارف کرایا۔ اس وقت کہا گیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے مطابق فیصلے کرنا ضروری ہیں، لیکن اس نظام نے عوام اور کاروباری طبقے کو مسلسل غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھا۔ آج موجودہ حکومت نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر شروع کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے عوام کو استحکام ملا ہے یا بے یقینی میں مزید اضافہ ہوا ہے؟
سوشل میڈیا کا ماحول بھی ہماری سیاست کی ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ تحریکِ انصاف کے دور میں مخالفین کے خلاف بدزبانی، کردار کشی اور نفرت انگیز مہمات پر شدید اعتراضات کیے جاتے تھے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ سیاسی مخالفین کے خلاف رکیک اور غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے والے بعض سوشل میڈیا کارکن نہ صرف نمایاں حیثیت رکھتے ہیں بلکہ بعض مواقع پر انہیں حکومتی شخصیات کی قربت اور پذیرائی بھی حاصل ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ بدزبانی نہیں بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ بدزبانی کون کر رہا ہے۔
سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی رویے تبدیل نہیں ہوئے۔ ایک دور میں ہیلی کاپٹر کے استعمال پر سوال اٹھا تو جواب ملا کہ اس کا خرچ معمولی ہے۔ آج حکومتی طیاروں کے استعمال پر سوال کیا جائے تو جواب آتا ہے کہ "ہاں استعمال کیا ہے، جو کرنا ہے کر لو"۔ جواب مختلف ہو سکتے ہیں، مگر احتساب سے بے نیازی کا انداز ایک جیسا دکھائی دیتا ہے۔
معیشت کے بارے میں بھی بڑے دعوے کیے گئے تھے۔ کہا گیا تھا کہ روایتی معاشی سوچ سے ہٹ کر عوام دوست فیصلے کیے جائیں گے، مگر آج بھی معاشی پالیسیاں وہیں گھومتی نظر آتی ہیں جہاں پہلے تھیں۔ اعداد و شمار میں بہتری کے دعوے اپنی جگہ، لیکن عام آدمی کی زندگی مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کے باعث پہلے سے زیادہ مشکل محسوس ہوتی ہے۔
دونوں حکومتوں میں ایک اور مشترک پہلو بھی نمایاں ہے اور وہ ہے اپنی ناگزیریت کا احساس۔ ایک حکومت سمجھتی تھی کہ اس کا کوئی متبادل نہیں، جبکہ دوسری بھی اسی اعتماد کے ساتھ اقتدار میں بیٹھی ہے کہ سیاسی میدان میں اس کا کوئی حقیقی حریف موجود نہیں۔ مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ عوام جب فیصلہ کرتے ہیں تو سب سے طاقتور حکومت بھی ماضی کا حصہ بن جاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کی حکومت بہتر تھی یا موجودہ حکومت۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکمرانی کا انداز بدلا؟ کیا عوام کو ریلیف ملا؟ کیا سیاسی برداشت میں اضافہ ہوا؟ کیا احتساب سب کے لیے یکساں ہوا؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر فرق صرف چہروں کا ہے، نظام اور سوچ کا نہیں۔
اقتدار کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہوتا ہے اور جب حکمران عوام کی آواز سننا چھوڑ دیتے ہیں تو تاریخ انہیں بھی اسی طرح یاد رکھتی ہے جیسے اپنے پیش روؤں کو۔ فرق صرف حکومتوں کے نام کا نہیں ہونا چاہیے، فرق طرزِ حکمرانی، سیاسی اخلاقیات اور عوامی خدمت میں نظر آنا چاہیے۔

