Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Farhan Yashaf
  4. Sarhad Ke Molvi Bradran Aur Tareekh Ka Sabaq

Sarhad Ke Molvi Bradran Aur Tareekh Ka Sabaq

سرحد کے مولوی برادران اور تاریخ کا سبق

ازل سے ہنوز انسانی تاریخ کے ورق ورق پر کئی انقلابات اور تحاریک نے جنم لیا جس نے انسانی سماج کو یکسر ایک نئے رخ سے روشناس کرایا کچھ شورش زدہ انقلابات سے اگر صرفِ نظر کیا جائے تو من حیث المجموع ہر انقلاب انسانی سماج کی بہبود کے لئے روشن راہوں کا پیام بر ثابت ہوا اور ہر تحریک نے ایسے لوگ پیدا کیے کہ جو ہر لحاظ سے نسل انسانی کے لئے فخر و تکریم کا باعث ٹھرے جن کی شخصیت کی پاکیزگی اخلاق کی بلندی اور اپنے نظریات سے حیران کن وابستگی آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ٹھہری اور انہی عظیم اشخاص کی پیروی کرکے آجکل کے ترقی یافتہ اقوام نے خوشحالی اور آسودگی کا یہ کٹھن سفر طے کیا کہ ان کی پیروی ہی میں اقوام کی خوشحالی پنہاں ہے۔۔

آپ موجود دنیا کی کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی تاریخ کا اجمالی مطالعہ کیجئے آپ پر یہ بات منکشف ہوگی کہ ان قوموں نے اپنے عظیم لیڈران یا بالفاظ دیگر اپنے ہیروز کی ان کی زندگی میں قدر و تکریم کے ساتھ ان کے افکار کو اٹھان کے اس سفر میں اپنا زادِ راہ بنایا تبھی ان کو دنیا کے سٹیج پر عزت و توقیر کا مسند ملا اس کے برعکس جن بدقسمت قوموں نے اپنے مخلص اور عظیم لوگوں کو حاشیوں میں دھکیل کر نظریات کے سوداگروں اور چند موقع پرست دولت کے پجاریوں کو اپنا نجات دہندہ مانا وہ قومیں تاریخ کے جبر کا شکار ہوگئی وقت کے بے رحم موجوں نے جنہیں داستان عبرت بنا دیا۔

میں جب اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو لرز جاتا ہوں کہ ہم بھی شاید اسی راہ پر چل رہے ہیں کہ جس کی منزل تخریب سے عبارت ہے یہ ملک تاج برطانیہ اور ہندو زدہ پارٹی کانگریس کے بے رحم شکنجے سے مسلم لیگ نے قائدِ اعظم کی بے مثل قیادت کے زیر سایہ آزاد کروایا لیکن آزاد ہوتے ہی ان عظیم اور مخلص لوگوں کو کھڈے لائن لگایا گیا جنہوں نے حصول پاکستان کے لئے اپنے تن من کی بازی لگائی تھی اور وہ لوگ اقتدار کی راہداریوں میں نمودار ہوئے کہ جن میں آدھے تو تاج برطانیہ کے نمک خوار تھے اور کچھ گاندھی جی کے چرنوں میں بیٹھ کر ہندوستان کی تقسیم کو گناہ عظیم سمجھ کر مسلم لیگیوں پر کفر کے فتوے لگاتے تھے جن کو پاکستان کے وجود سے نفرت تھی وہی لوگ پاکستان کے ٹھیکدار بن گئے۔۔

قائد اعظم جس نے دن رات بیک وقت دو طاقتوں سے لڑ کر پاکستان حاصل کیا اس کو حالت نزع میں کھلے آسمان تلے خراب ایمبولینس میں بے یار و مددگار چھوڑا گیا کسی نے کوئی احتساب نہ کیا قائد کے دست راست لیاقت علی خان کو سرِ بازار گولیوں سے بھون دیا گیا یہ قوم تب بھی نہ اٹھی خواجہ ناظم الدین جس نے جائداد بھیج کر کانگریس کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو مات دینے کے لئے سٹار انڈیا نامی اخبار نکالا اس کو ذلیل کرکے عہدے سے ہٹایا گیا کوئی حرف ملامت تک منہ پر نہ لایا حسین شہید سہروردی ایوب کھوڑو سمیت کئی جانے پہچانے نام ہے جن کو اس قوم کی آزادی کی قیمت چکانی پڑی۔۔

یہ تو وہ لوگ تھے جن کے ناموں سے قوم کسی نہ کسی حد تک واقف ہے لیکن ان کے علاوہ کئی ہیروز ایسے بھی ہیں کہ جن کے نام ایک منظم سازش کے تحت تاریخ کے اوراق ہی سے مٹا دیے گئے جنہوں نے حصول پاکستان میں بیش بہا قربانیاں دی۔۔

ان میں ہمارے مردان شہر کے دو بھائی جنہیں اُس دور میں مولوی برداران کہا جاتا تھا مولانا محمد شعیب اور مفتی مدار اللہ قابل ذکر ہے اور یقیناً ان دو ناموں سے شاید ہی کوئی واقف ہوگا اور یہی ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے عظیم لوگوں سے کٹ کے رہ گئے کہ جن کے افکار و نظریات ہی میں ہماری نجات پوشیدہ ہے۔۔

ان دو بھائیوں نے سرحد جیسے کانگرس زدہ صوبے میں کہ جہاں سرخ پوشوں یعنی خدائی خدمت گاروں کا ایسا غلغلہ تھا کہ کسی میں جرات تک نہ تھی کہ مسلم لیگ کا نام تک زبان پر لے آئے اسی اعصاب شکن ماحول میں اپنی جان کا خطرہ مول لیکر انہیں دو بھائیوں نے مسلم لیگ کا علم بلند کیا اور سرحد کے مسلمانوں کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرکے مسلمانان سرحد کو حصول پاکستان کے مقدس جہدوجہد میں اپنا ہمنوا بنایا۔۔

اگست سن چھتیس میں جب قائد اعظم سرحد تشریف لائے تو کوئی ایک شخص بھی استقبال کو نہ آیا یہاں کے لوگ دل و جان سے خدائی خدمت گاروں کے ہمنوا تھے جو متحدہ ہندوستان کی سب بڑی پرچارک تنظیم تھی سینتیس کے الیکشن میں مسلم لیگ کو بری طرح شکست ہوئی لیکن پھر انہیں لوگوں نے مولوی برادران کی انتھک محنت سے سن سینتالیس کے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور یوں ہم آج پاکستان کے عظیم مملکت کا حصہ ہے اور یہ مولوی برادران سمیت ان عظیم ہستیوں کی بدولت ممکن ہوا جن کی شخصیات کا خمیر خلوص اور سچائی میں گندا ہوا تھا اور جو قیام پاکستان کو مسلمانانِ ہند کی نجات کا واحد حل سمجھتے تھے اور تاریخ نے جن کے حق میں فیصلہ دیا یقین نہ آئے تو ہندوتوا نواز حکومت کے زیر سایہ ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لیجئے لگ پتہ جائے گا۔۔

لیکن بد قسمتی سے آج پختون قوم مولوی برداران کے نام تک سے واقف نہیں کہ جن کی مخلص قیادت کے بدولت ہم آج آزاد مملکت میں زندگی بسر کررہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کا پختون نوجوان اپنے اصل ہیروز کی معرفت کے حصول کے ساتھ ساتھ ان کے افکار کو اپنی فکر کا زیور بنائے اور مولوی برادران سمیت ان تمام اشخاص جلیلہ کی قدر کرے کہ جنہوں نے رات کا چین اور دن کا سکون اپنی قوم پر نچھاور کیا بصورتِ دیگر تنزلی کا پاتال ہی ہماری اس روش کا منطقی نتیجہ ہے۔

Check Also

Hazrat Imam Hussain Ka Maqsad e Shahadat

By Khalid Mahmood Faisal