Friday, 03 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Khalid Mahmood Faisal
  3. Governor Punjab Ke Naam Khula Khat

Governor Punjab Ke Naam Khula Khat

گورنر پنجاب کے نام کھلا خط

محترم و مکرمی گورنر صاحب!

آپکی توجہ پنجاب ملازمین کے اہم ایشوز کی جانب مبذول کروانے کی جسارت ہے آپ کے علم میں ہے، ریاست میں ایک نئی "بدعت" کا آغاز محکمہ جاتی ہاوسنگ سکیم کے قیام سے ہوا، نامی گرامی شعبہ جات واپڈا، پی آئی اے، ٹی این ٹی، ریلوے، وکلاء اور جسٹس اینڈ جرنلسٹس کالونی، ڈی ایچ اے، عسکری، بحریہ، فضائیہ کالونیاں ا یم ڈی اے، ایل ڈی اے، ایف ڈی اے، یونیورسٹی کالونی وغیرہ شامل ہیں، کہا جاتا ہے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے ان کا قیام عمل میں لایا گیا، بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر رہائشی سہولیات کی فراہمی اور مکانات کی تعمیر کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی ہاوسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ کے شعبہ جات کی تھی مگر وہ ذمہ داری پوری نہ کرسکے۔ یوں ہر سرکاری اور نیم سرکاری محکمہ نے اپنے ملازمین کے لئے رہائشی سکیم شروع کردیں، ارض وطن میں اگر کسی طبقہ کی کوئی کالونی یا رہائشی سکیم نہیں تو وہ اساتذہ کرام یا پھر دوسرے، تیسرے درجہ کے "ماتڑ" ملازمین ہیں۔

چوہدری پرویز الہی نے ایسے ہی ملازمین کی رہائشی مشکلات کو دیکھتے ہوئے، 2004 پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاوسنگ فاونڈیشن قائم کی، ایکٹ کے تحت اس کی منظوری پنجاب اسمبلی سے لیتے ہوئے کہا کہ آنے کی حکومتیں من مانی نہ کر سکیں، یہ ایکٹ آج بھی موجود ہے، مگر اسکی حیثیت اب کاغذ کی سی ہے، سرکاری ملازمین جن کو اسکی ممبر شپ دی، ان کی تنخواہ سے ماہانہ سکیل وائز کٹوتی کا آغاز 2004 سے ہوا، تاکہ ریٹائرڈ منٹ پر انہیں گھر یا پلاٹ دیئے جائیں، فاونڈیشن کے قیام اور اسکی کامیابی کے لئے بھاری بھر رقم سرکار نے مختص کی تھی۔

ریٹائرڈ ملازمین کو مکانات دینے کا سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا، بعد ازاں پلاٹ کی الاٹمنٹ تک سکیم کو محدود کر دیا، 2013 سے یہ سلسلہ بھی منقطع ہے، مکان یا پلاٹ کے حصول کے لئے اپنی تنخواہ سے رقم کی کٹوتی کروانے والے ملازمین کی بڑی تعداد پلاٹ کے حصول سے تاحال محروم ہے۔

فاونڈیشن کے پاس ان ملازمین کے اعدادو شمار بھی نہیں ہے جو وفات پا چکے، جمع شدہ ان کا پیسہ کہاں ہے؟ لواحقین کو پلاٹ کی بابت کوئی اطلا ع دی یا نہیں اس بابت راوی خاموش ہے، فاونڈیشن کے فرانزنک آڈٹ ہی سے معلوم ہوگا کہ ملازمین کا سرمایہ کہاں خرچ کیا جاتا رہا۔

ایکٹ میں طے تھا کہ اسٹیٹ لینڈ پر یہ منصوبہ بنے گا، ملازمین کو زمین مفت ملے گی مگر ترقیاتی اخراجات ملازم دے گا، اس ایکٹ میں یک طرفہ تبدیلیاں کی جاتی رہیں، ملازمین کو جو اسٹیک ہولڈرز ہیں ان کا سرمایہ فاونڈیشن کا اثاثہ ہے، ان کو ساری "واردات" سے بے خبر رکھا، فاونڈیشن کی ہاوسنگ اسکیم میں مختلف اضلاع میں کمرشل پلاٹس موجود ہیں انہیں فروخت یا رینٹ آوٹ کیا گیا، ملازمین کی جمع شدہ رقم میں مذکورہ پلاٹس کا منافع شامل نہیں۔

معاملہ کی سنگینی یہ ہے، اب فاونڈیشن کے ذمہ دارارن ملازمین کو پرائیویٹ سیکٹر کی مجوزہ سکیموں میں پلاٹس کی آفر مارکیٹ نرخ پر کررہے ہیں، یہ مالیت کئی لاکھ روپئے فی مرلہ بنتی ہے، ریٹائرڈ سرکاری ملازم اتنی رقم کہاں سے لائے؟ جس وقت انکی تنخواہ سے ماہانہ کی بنیاد پر رقم لی جاتی رہی اَس وقت فاونڈیشن کی سکیموں میں زمین کی فی مرلہ قیمت چند ہزار تھی۔

ذرائع کہتے ہیں، پرائیویٹ سکیموں میں آفر کردہ پلاٹ کی بابت پراپرٹی مافیا متحرک ہے، جن ممبران کو پلاٹ کے آفر لیٹرملے ہیں، بذریعہ فون ڈیل کرکے معمولی منافع کے عوض از خود پلاٹ یہ مافیا خریدنا چاہتا ہے، اس فعل سے ارزاں نرخوں پر پلاٹ کی فراہمی اور ملازمین کی بہبود کا منصوبہ خاک میں مل رہا ہے۔

2004 سے ڈیٹا اور رقم جمع ہونے کے باوجود 22 سال کے بعد بھی پی جی ایس ایچ ایف سرکاری ملازمین کو مکان یا پلاٹ کی الاٹمنٹ نہیں کر سکا، پنجاب گورنمنٹ کی گورننس پر یہ سوالیہ نشان بھی ہے، اس فاونڈیشن پر مشتمل ممبران میں سے بیوگان اور یتیم بچوں کی بڑی تعداد بھی ہے، جو والد، والدہ یا شوہر کی طرف سے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے منتظر اور اذیت ناک کرب میں ہیں، پرویز الہی کے سنہرے منصوبہ کو سیاست کیاگیا ہے، میڈیا کی وساطت سے ارباب اختیار کو توجہ دلائی گئی، نتیجہ ڈھاک کے تین پات نکلا۔

محترم گورنر صاحب۔ فاونڈیشن کے ذمہ داران ریٹائرڈ ملازمین کی بزرگی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، جو ملازم پلاٹ کی الاٹمنٹ پر زیادہ اصرار کرے، اسے کہا جاتا ہے کہ جمع شدہ رقم بغیر منافع وآپس لے لیں، 2004 سے جمع شدہ رقم کو بغیر منافع کے دینا کس قدر ظلم اور ناانصافی ہے، ملازمین کا کہنا ہے کہ جمع شدہ رقم پر منافع ادا کرنے اور مکان کی تعمیر کے لئے بنک سے قرض کی فراہمی کی سہولت کی شرائط ایکٹ میں ہیں، مگر فاونڈیشن کا بورڈ آف ڈائریکٹر اس سے انکاری ہے۔

محترم گورنر صاحب۔ پنشن میں کٹوتی دوسرا اہم ایشو ہے، دھرتی کے جن سپوتوں نے برطانوی جنگوں میں حصہ لیا، ارض وطن میں سینکڑوں فوجیوں کوبرطانوی حکومت سے باقاعدہ پنشن اب بھی مل رہی ہے، فوج کا ملازم اگر وفات پا چکا ہے تو اسکی بیوہ کو پنشن مل رہی ہے، دلچسپ امر یہ ہے، کہ انہیں شرائط پر پنشن مل رہی ہے، جن پر وہ بھرتی ہوئے تھے۔

برطانوی سرکار کا کبھی یہ بیان سامنے نہیں آیا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے ریاست پوری پنشن دینے سے قاصر ہے، ہماری طرح ان کے ملازمین کے مابین مالی مراعات کی بابت اتنا تفاوت نہیں تھا، ہر چند ہم انکو غاصب کہتے ہیں، مگر پنشن دینے میں برطانوی ریاست نے تمام اخلاقی اقدار کی پاسداری کی ہے، برعکس اسکے پنجاب میں سرکاری ملازم ہونا اب جرم بنتا جارہا ہے، صرف پنجاب میں سرکاری ملازمین کے مالی حقوق کو دیدہ دلیری سے پامال ہی نہیں کیا بلکہ جن شرائط پر ملازمین کو بھرتی کیا اس کے مطابق پنشن دینے سے سرکار اب انکاری ہے۔ یہی معاملہ گروپ انشورنس اور بینوولنٹ فنڈ کی رقوم کی ادائیگی کا ہے، وفاق اور دیگر صوبہ جات میں ملازمین کو انکی ادائیگی کے احکامات صادر ہوئے ہیں، پنجاب میں تاحال گہری خاموشی ہے۔

پی جی ایس ایچ ایف میں پلاٹس کی الاٹمنٹ، وفاق کے مطابق پنشن، گریجویٹی، لیوان کیشمنٹ، انشورنس اور جی پی فنڈ کی رقوم کی ادائیگی کے لئے متاثرہ ملازمین خط کی وساطت سے آپ سے بھر پور کردار ادا کرنے کی جسارت کرتے ہیں، آپ صوبہ کے آئینی سربراہ ہیں، ملازمین کے بنیادی حقوق کی آئینی حق تلفی کے ازالہ کی ذمہ داری بھی آپ کے ناتوں کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔

بشکریہ: نئی بات

Check Also

50 Baras Pehle

By Aftab Alam