Friday, 03 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Ikhtelaf Kijye, Kirdar Kushi Nahi

Ikhtelaf Kijye, Kirdar Kushi Nahi

اختلاف کیجیے، کردار کشی نہیں

شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب، نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد، ایک صاحبِ قلم اور محقق عالمِ دین ہیں۔ آپ کی تحریروں میں دینی، فقہی اور فکری موضوعات کا گہرائی کے ساتھ احاطہ کیا جاتا ہے۔ آپ مختلف دینی مسائل پر سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، مگر سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ہمیشہ آپ کے خلاف برہم رہتا ہے۔ اختلافِ رائے تک تو بات قابلِ فہم ہے، لیکن کچھ مخصوص مذہبی حلقوں کی جانب سے آپ کی توہین و تحقیر کی جاتی ہے۔

​آپ پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ آپ "متجددین" (جدت پسندوں) سے متاثر ہیں یا خود ایک مؤثر متجدد ہیں اور آپ کی تحریروں میں "اکابر بیزاری" کا شائبہ تلاش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ جہاں تک جدیدیت سے متاثر ہونے کا تعلق ہے تو ہم نے انہیں ہمیشہ طلبہ کو یہی تلقین کرتے سنا ہے کہ اپنے علم کی جڑیں ماضی میں تلاش کریں اور علمائے سلف کی علمی روایت کا ادراک حاصل کریں۔ یہ آگاہی ہی تنگ نظری کو ختم کرتی ہے۔ ان کا زور اسی بات پر ہوتا ہے کہ سلف صالحین کی کتب سے براہِ راست رجوع کریں، کیونکہ بعد کے مصنفین کے ہاں بعض اوقات ایسی آراء ملتی ہیں جو سلف صالحین کے موقف سے مختلف ہوتی ہیں۔ اگر بعد کے علماء کی کسی بات سے اختلاف کیا جائے تو لوگ اسے "نئی بات" سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ موقف سلف صالحین کے ہاں موجود ہوتا ہے۔

​مولانا زاہد صاحب ایک جید عالمِ دین ہیں۔ وہ جو بہتر سمجھتے ہیں اس کا اظہار کرتے ہیں اور علمی بنیاد پر اکابر کے موقف سے اختلاف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اکابر کا ہر موقف تسلیم کرنا لازم نہیں، اگر علمی دلائل کی روشنی میں کسی بات سے اختلاف ہو تو اسے بیان کر دینا چاہیے، اسے "اکابر بیزاری" نہیں کہا جا سکتا۔

​ناقدین اس لیے ان سے نالاں رہتے ہیں کہ وہ مشاجراتِ صحابہ کے معاملے میں سیدنا علیؓ کو حق پر اور ان کے مخالفین کو خطی (غلطی پر) مانتے ہیں، حالانکہ اہل سنت کے ہاں یہ مؤقف ماضی میں بھی اکابر علماء کا رہا ہے۔ ​یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ صدیوں بعد مشاجراتِ صحابہ کے موضوع پر اس طرح بات کرنا جس سے کسی کی دل آزاری ہو، بالکل غیر ضروری ہے۔ اگرچہ موقف درست ہی ہو، تب بھی میرا خیال ہے کہ اس سے گریز کرنا چاہیے۔ کس نے ماضی میں کیا کیا، اس کا حساب ہم سے ہرگز نہیں لیا جائے گا۔ اگر کوئی بے احتیاطی کرتا ہے تو اس سے علمی اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کی بات کا رد پیش کیا جا سکتا ہے، مگر لوگ دلیل دینے کے بجائے توہین و تحقیر اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ سامنے ایک ایسی علمی شخصیت ہے جس کی پوری زندگی دین کی اشاعت اور احادیثِ نبوی ﷺ پڑھاتے گزری ہے۔

​مولانا معاویہ اعظم کا ایک پوڈ کاسٹ وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے انتہائی تحمل سے جذباتی موضوعات پر گفتگو کی۔ ان کے اس اسلوب کی بہت تعریف کی جا رہی ہے، ان کے پیروکاروں کو بھی اسی اخلاق کو اپنانا چاہیے۔ کسی عالمِ دین سے اختلاف ضرور کریں، دلیل سے رد بھی کریں، لیکن کسی کی توہین ہرگز نہ کریں۔

​آج سوشل میڈیا پر مذہبی افراد کی جانب سے مختلف آراء رکھنے والے علماء کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ دینی حلقوں کے ایک حصے نے اختلافِ رائے کو دشمنی، تنقید کو توہین اور علمی گفتگو کو گالی میں بدل دیا ہے۔ ​یہ لوگ جب کسی سے متفق ہوں تو اس کے فضائل کے گیت گاتے ہیں، لیکن اختلاف پیدا ہوتے ہی الزام تراشی اور بدزبانی پر اتر آتے ہیں۔ ایک طرف یہ لوگ علماء اور مدارس کے احترام کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف اپنے مخالف علماء پر بہتان طرازی سے گریز نہیں کرتے۔ یہی جذباتی ذہن جب کسی مذہبی جماعت کا حصہ بنتا ہے یا سوشل میڈیا کے میدان میں آتا ہے تو اسی عدم توازن کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جس نے دینی طبقے کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

​علم کے دعوے دار اگر علم کے تقاضے پورے نہ کریں اور دین کے نمائندے اگر تعلیماتِ نبوی ﷺ کو اپنے عمل میں نہ ڈھالیں تو ان کی تبلیغ، جماعت، تحریر اور تقریر سب بے اثر ہو جاتی ہے۔ اختلاف جرم نہیں، یہ انسانی فطرت اور فکری ارتقاء کا حصہ ہے، لیکن افسوس اب علمی مناظرہ نہیں، کردار کشی ہوتی ہے۔ اب علمی نقد نہیں، شخصی حملے ہوتے ہیں۔ مدارس علم تو دیتے ہیں، مگر تربیت اور کردار سازی کے بغیر علم کا نور نہیں چمکتا۔ اگر درسگاہیں اخلاق کو نظرانداز کریں اور مذہبی جماعتیں اپنے کارکنوں میں برداشت اور حلم کی تربیت نہ دیں تو علم صرف ایک ہتھیار بن جاتا ہے جو انسانوں کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کر دیتا ہے۔

Check Also

Sitaron Se Aage Jahan Aur Bhi Hain

By Saleem Zaman