Professor Kt Hussain Ka Akhri Lecture
پروفیسر کے۔ ٹی۔ حسین کا آخری لیکچر

یہ درست ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی طلبہ کی سیاست کا گڑھ سمجھی جاتی تھی، مگر اس شور کے اندر علم کی ایسی خاموش نہریں بھی بہتی تھیں جن میں ڈوب جانے والے طلبہ سیاست سے کنارہ کش ہو کر اپنی دنیا آباد کیے رکھتے تھے۔ لائبریری چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھی، گویا علم کو کبھی نیند نہ آتی ہو۔ اُس زمانے میں جب پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ انگریزی سوٹ پہن کر خود کو جدید ثابت کرنے میں مصروف تھے، ڈھاکہ یونیورسٹی کے اساتذہ سادہ کرتا پاجامہ زیب تن کیے، وقار اور حلم کے ساتھ چلتے نظر آتے تھے۔ یہ سادگی محض لباس کی نہیں تھی، یہ سوچ، رویّے اور تدریس کی بھی سادگی تھی، جس میں بناوٹ نہیں، گہرائی تھی۔ اسی درسگاہ میں پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے کا واحد باعزت حل، چھ نکات، جنم لیتے ہیں اور یہ محض سیاست نہیں بلکہ ایک فکری کاوش تھی جس کے پیچھے ڈھاکہ یونیورسٹی کے اساتذہ کی علمی دیانت کھڑی تھی۔ کامرس، ریاضی، اسلامک ہسٹری اینڈ کلچر اور اکنامکس جیسے شعبے اپنے عروج پر تھے، اساتذہ پوری تیاری کے ساتھ آتے اور علم کو ذمہ داری سمجھ کر منتقل کرتے تھے۔ انہی روشن چہروں میں ایک چہرہ، ایک نام، ایک حوالہ تھا، پروفیسر ڈاکٹر کے ٹی حسین۔
ڈاکٹر کے ٹی حسین ہمارے شعبۂ اکنامکس کے سربراہ تھے۔ ایم اے فائنل کی کلاس کو وہ دو مضامین پڑھاتے تھے۔ ڈیموگرافی اور ڈیولپمنٹ۔ ان کی آمد میں کوئی شور نہیں ہوتا تھا۔ ہاتھ میں بیگ لٹکائے، متانت اور دھیمے پن کے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لاتے، جیسے علم خود آہستگی سے کلاس روم میں داخل ہو رہا ہو۔ ان کی آخری کلاس آج بھی یادوں میں محفوظ ہے۔ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آخری لیکچر میں حاضری بھرپور ہونی چاہیے۔ حسبِ معمول آہستگی سے رول نمبر پکارنا شروع کیے۔ ایک سو پچیس طلبہ و طالبات کی کلاس تھی اور حیرت انگیز بات یہ کہ انھیں سب کے رول نمبر ازبر تھے۔ رول نمبر پکار کر طالب علم کو تلاش کرتے اور جب "میں سر" کی آواز آتی تو وہ طالب علم کی طرف دیکھتے۔ ہم نے انھیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا، پیشانی پر ہلکی سی شکن بھی کبھی نظر نہ آئی۔ پھر حسبِ معمول ہینڈ بیگ کھولتے، جس میں ہر روز نئی نئی کتابیں ہوتیں۔ کچھ کے ٹائٹل دکھاتے اور کہتے کہ یہ لائبریری سے لے جا کر ضرور پڑھو، کچھ سے اعداد و شمار نکالتے۔ مگر اس آخری پیریڈ میں انھوں نے کسی خاص موضوع پر لیکچر نہیں دیا، صرف ہدایات دیں۔ وہ جذباتی نہیں تھے، مگر کلاس روم کا ماحول سوگوار تھا۔ بقول شاعر:
فضا میں افسردگی کے سائے تھے
تمام ذہنوں پر ایک سایہ سا چل رہا تھا
ان کی باتوں میں حکم نہیں، رہنمائی ہوتی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے اور ہم ہمہ تن گوش تھے کہ تم بعد میں کمیونسٹ بنو یا کیپٹلِسٹ یا فاشسٹ، مگر یاد رکھو، صرف اپنی سوچ، اپنے مطالعے اور اپنی تحقیق پر انحصار کرنا۔ ان کا زور "Your own thinking" پر تھا۔ ایک طالب نے سوال کیا کہ سر، آپ خود کیا ہیں؟ وہ مسکرائے اور کہا، ایک شہری کی حیثیت سے میری اپنی رائے ہے، مگر ایک استاد کی حیثیت سے میں اپنے نظریات کلاس میں مسلط نہیں کرنا چاہتا، کہ کہیں تم انہی کی طرف جھک نہ جاؤ۔ اس لیے میں نے تم پر اپنے نظریات کا پرچار نہیں کیا۔ پھر وہ ہدایات آئیں جو اس کے بعد شاید کسی نے نہ دیں۔
فضول کتابیں نہ پڑھنا، خاص طور پر "Made Easy" قسم کی۔ ایسی کتابیں انڈرگریجویٹ کو بھی زیب نہیں دیتیں اور تم تو ایم اے فائنل میں ہو۔ اپنے اساتذہ کے بتائے ہوئے حوالہ جات کو اہمیت دینا۔ امتحان میں جواب بالکل ٹو دی پوائنٹ نہ ہو، ممتحن کو محسوس ہونا چاہیے کہ تم نے پڑھا ہے، رٹا نہیں۔ جواب کی رینج وسیع ہونی چاہیے۔ یہ غلط فہمی ہے کہ پورے سال میں جو پڑھا، وہ امتحان میں کام نہیں آتا۔ پرانے مطالعے ہی اصل میں مدد دیتے ہیں۔ امتحان کے دن کم بولنا، کم پڑھنا، خاص طور پر پرچے کے دن تازہ دم ہونا۔ نوٹس کے لیے چھوٹی کاپی نہیں، فل اسکیپ استعمال کرو، تاکہ ذہن میں پورا صفحہ ابھرے اور زیادہ مواد یاد آئے۔ مطالعے میں سلیکٹو ہونا سیکھو۔ اخبار ضرور پڑھو، مگر آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں۔
پھر بات کتابوں اور امتحان سے نکل کر زندگی تک پہنچی۔ انھوں نے کہا کہ زندگی میں وہی اسپرٹ برقرار رکھنا جو آج تم میں ہے۔ تمھارے دل میں انسانیت کے لیے وہی درد اور محبت ہونی چاہیے۔ اگر کسی مرحلے پر تمھارا ذہن کرپٹ ہوگیا تو سمجھ لینا تم شکست کھا گئے۔ ملازمت اچھی نہ ملے، تب بھی اپنا معیار، اپنی اسپرٹ اور اپنا ڈسپلن مجروح نہ کرنا۔ اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنا۔ پھر انھوں نے اقبال کی "اسرارِ خودی" پڑھنے کی تلقین کی اور وہ شعر پڑھا جو شاید ہر طالب علم کے دل پر نقش ہوگیا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
انھوں نے اقبال، ٹیگور اور عظیم مفکرین کی رہنمائی حاصل کرنے کا مشورہ دیا، سارا سال پرامن رہنے پر کلاس کا شکریہ ادا کیا، بیگ بند کیا اور مسکراتے ہوئے چلے گئے۔ یوں لگا جیسے ایک گھنے درخت کا سایہ آہستہ آہستہ دور ہو رہا ہو۔
تقریباً دس برس بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک کانفرنس میں اسلام آباد تشریف لائے ہیں۔ میں نے انھیں تلاش کیا۔ انھوں نے کمال شفقت سے میری دعوت قبول کی۔ اس وقت میرا بڑا بیٹا، ڈاکٹر محمد اسرار الحق، پانچ چھ سال کا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ دعا کیجیے یہ بھی ڈھاکہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرے۔ وہ مسکرائے۔ شاید یہ خواہش غیر حقیقت پسندانہ تھی۔ میری دوڑ تو اپنے ہی ملک کی یونیورسٹی، ڈھاکہ تک تھی۔ بچوں کا زمانہ اور ہے۔ اسرار نے برطانیہ اور آسٹریلیا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، ماہرِ امراضِ قلب بنا اور میلبرن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ایک نسل جہاں سفر ختم کرتی ہے، اگلی نسل وہیں سے آغاز کرتی ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی سے نکلے پچپن برس ہو چکے ہیں، مگر مادرِ درسگاہ کی محبت آج بھی دل میں تازہ ہے۔ گردشِ زمانہ نے دوبارہ وہاں جانے نہ دیا، مگر دل آج بھی اس نام پر دھڑکتا ہے۔ آرٹس بلڈنگ کے چھلکتے برآمدے، محسن ہال نیل کھیت کا کمرہ نمبر 367، جہاں میں رہتا تھا، آج بھی میرے دل کا مسکن ہیں اور ان سب یادوں کے بیچ، ایک سایہ آج بھی قائم ہے، پروفیسر کے ٹی حسین کا سایہ، جو علم، وقار اور انسان دوستی کی علامت بن کر دل میں ٹھہرا ہوا ہے۔
بشکریہ: جناب اظہارالحق: بکھری ہے میری داستان

