Friday, 03 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Sunblock Cream

Sunblock Cream

سن بلاک کریم

ہم ریت پر سٹار فش کی طرح پھیلے ہوئے تھے، پکے ہوئے مارشملو کی مانند، سورج اب ہم کو پسینے میں بھگو رہا تھا، دائیں طرف سے آواز آئی، تازہ گری ہوئی برف کی رنگت جیسی خوب صورت روسی لڑکی نے بڑی ادا سے سن بلاک کریم کی بوتل خرم کی طرف بڑھائی، یاد رہے کہ خرم کی رنگت کچھ مشکی سی ہے بلکہ آسان الفاظ میں کالی چرن جس کی رنگت شام کے پھیلتے اندھیرے کا مقابلہ کر سکتی ہے، روسی لڑکی دنیا کے سارے خلوص کو اپنے لہجے میں سمیٹ کر بولی "اسے اپنے چہرے پر لگاؤ"۔

ساحل سمندر پر سن بلاک کریم پیش کرنا اتنا ہی معمولی ہے جتنا کہ سمندری بگلے آپ کے ہاتھ سے کھانے کی چیز اچک لیتے ہیں، لیکن اس لمحے میں ہمیں ایک خراب صابن اوپیرا میں پلاٹ موڑ کی طرح محسوس ہوا، ہمارے قہقہے اس قدر جنگلی اور بے قابو ہوئے کہ گونج پورے ساحل پر سنائی دی، یہ قہقہے اتنے بلند و بالا تھے کہ مجھے شک گزرا کہ سمندری مخلوق کیکڑوں و سٹارفش سمیت سبھی نے ہمارے روئے زمین پر اتارے جانے کے فیصلے پر یا وہاں اپنی موجودگی کے انتخاب پر سوال ضرور اٹھایا ہوگا، ہر ذی روح نے سر گھما کر ہماری طرف دیکھا، گرچہ انہوں نے زبان سے کچھ نہ بولا لیکن مجھے یقین ہے کہ اس پرسکون ماحول کا اپنے قہقہوں سے اجاڑا کرنے پر یہ ضرور سوچا ہوگا "یا رب ان کو کیوں نازل کر دیا"، ان روسی لڑکیوں نے ناک پر سے چشمہ نیچے کھسکا کر ہماری طرف بغور دیکھا اور خاموشی سے ہماری اجتماعی عقل کا دوبارہ جائزہ لیا، اگر ہنسی اضافی کیلوریز جلاتی ہے تو ہم نے اس دن ساحل سمندر پر اپنی کیلوریز جلا کر اپنا وزن بہت کم کر لیا تھا۔

خرم عام طور پر کامیڈی کا بادشاہ اور خوش مزاج دوست ہے، اس نے سوئچ بدل کر ہماری "ہاہا" کو "ہاہرٹ" میں تبدیل کرنا چاہا، ہماری بے ضرر ہنسی اس کی مضحکہ خیز رنگت کو شارٹ سرکٹ کر چکی تھی، اس کا چہرہ غصے کے شاہکار میں بدلا، آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹیں، ناک کے نتھنے پھڑکے اور بھنویں چاچا ڈانس کرتی اتھل پتھل ہونے لگیں، اس قسم کی شکل تھی جو چیخ رہی تھی، "میں شاید ہلک ہوگن میں بدل جاؤں۔۔ لیکن سبز کے بغیر"۔

پلک جھپکتے میں خرم اپنے پیروں پر یوں پھرتی سے کھڑا ہوا جیسے بلی پاس سے گزرتے چوہے کو دیکھ کر چوکنا ہوتی ہے، اپنی مٹھیوں کو اس باکسر کی طرح بھینچتے ہوئے جو اپنے لکی دستانے پہن کر رنگ میں اترا ہو کہ آج مدمقابل پر پوشیدہ جوہر بھی آزمائے گا، بغیر کسی انتباہ کے وہ علی سہیل پر جھپٹا، لیکن علی، ننجا کی چستی اور اڑتے ہوئے کاکروچ سے بچنے والے آدمی کی گھبراہٹ کے ساتھ عین وقت پر پیچھے ہٹ گیا۔

اُدھر سے ناکام ہو کر خرم نے اپنا غصہ میری طرف موڑا، مٹھیاں بھینچتا اور پاؤں سے مست سانڈ کی طرح ریت کو مسلتا ہوا آگے بڑھا، میری چھٹی حِس نے خطرے کا الارم بجایا اور بقا کی جبلت نے زور پکڑا، اس کے وار سے بچنے کیلئے میں نیچے جھکا اور خرم اپنی جھونک میں آگے بڑھ گیا، وہ پلٹا تو اس کا نیم سیاہ چہرہ غصے کی شدت سے کوئلہ رنگت پیش کر رہا تھا۔

یہ محسوس کرتے ہوئے کہ خرم "دوست کو ٹکر مارو" مشن پر ہے، ہم سب کارٹون کرداروں کی طرح پھرتیلے ہوگئے، ٹانگیں ہماری سوچوں سے زیادہ تیزی سے بھاگنے لگیں، ریت ہماری جنگ کا میدان بن گئی، لیکن ہم لڑ نہیں رہے تھے، ہم سب آگے پیچھے بھاگ رہے تھے! ساحل لائیو ایکشن کامیڈی شو میں بدل گیا، ہم میں سے چار اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ رہے تھے اور خرم پیچھے غصے سے چلاتا ہوا آ رہا تھا، وہ بآواز بلند پہلے پنجابی اور پھر رشین میں گالیاں دینے لگا، خرم کا غصہ پورا ساحل دیکھ رہا تھا، کچھ ہنس رہے تھے، کچھ سٹل کیمرے سے فوٹوز بنا رہے تھے اور دوسرے شاید سوچ رہے تھے کہ کیا یہ کس قسم کا فلیش موب ہے جو بہت غلط ہوگیا ہے، یہ افراتفری تھی، یہ مزاحیہ تھا اور سب سے بڑھ کر یہ وقت کی ریت میں بند ایک یاد تھی!

خرم کی حالت اس عاشق جیسی تھی جو برسوں بعد اپنی معشوق کے دروازے پر پہنچا تھا لیکن اسے دیکھتے ہی رقیب کے اشارے پر معشوق نے دروازہ بند کر دیا ہو

مر مر کے پہنچے آں
انج نہ سجناں بوہا ٹوھ

میرے کول نیں دو گلاں
اپنا کر یا میرا ہو

خرم ہمارے افراتفری اسکواڈ کا بہادر لیڈر اچانک حیران ہو کر ایک خراب روبوٹ کی طرح رک گیا، اس کی آواز فضا میں گونجی "کمینو واپس آؤ، بدمعاشو واپس آؤ!" اس کی التجا ڈرامائی کم اور المناک کامیڈی زیادہ تھی، ہم ناقابل اعتماد باغیوں نے آپس میں مشکوک نظروں کا تبادلہ کیا، کیا ہمیں کسی جال میں پھنسایا جا رہا تھا؟ کہانی میں ایک نیا موڑ؟ مذاق کے اندر ایک مذاق؟ نہیں، سب نے نفی میں سر ہلایا، نہیں ہم یہ سودا نہیں خریدنا چاہتے۔

لیکن پھر خرم کو ایک شکست خوردہ جنگجو کی طرح پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھ کر ہم نے فطری طور پر اس کا پیچھا کیا جیسے الجھن زدہ بطخ کے بچوں کا ایک جھنڈ اپنی بے ہنگم ماں کے پیچھے چل رہا ہو اور ریت پر اسی جگہ واپس آگئے، خرم ریت پر ٹانگیں پھیلائے شاعرانہ لابسٹر کی طرح سورج کی طرف دیکھ رہا تھا، شاید اپنی پرسکون زندگی میں وارد ہونے چلبل پانڈے ٹائپ دوستوں کے انتخاب پر غور کر رہا تھا یا اپنے پیدا ہونے پر افسوس کے اظہار کیلئے مناسب الفاظ کا چناؤ کر رہا تھا، چیری آن ٹاپ جیسی صورت حال بن چکی تھی، دونوں روسی لڑکیاں اب اس منظر کی مضحکہ خیزی کو پوری طرح سمجھ چکی تھیں، وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے، ان کی آنکھیں دبی ہوئی ہنسی سے چمک رہی تھیں، یہ اس قسم کا لمحہ تھا جو دھیمی تالیاں اور ڈرامائی فلم سکور کا مستحق تھا۔

خرم مکمل راک اسٹار موڈ میں پرجوش انداز میں منہ آسمان کی طرف بلند کئے، میڈم نور جہاں کا سدا بہار پنجابی پنجابی گانا، تمام اعلی سُر تال، روح پرور آواز اور ڈرامائی انداز کے ساتھ گنگنانے لگا۔

نی کالا شا کالا
میرا کالا اے دلدار

تے گوریاں نوں پراں کرو

اگر پس پردہ فقط ڈھولک کی تھاپ ہوتی تو یہ ایک کنسرٹ کا منظر بن سکتا تھا، خرم اپنی دُھن میں مزے سے گا رہا تھا، درحقیقت وہ ہم کو چِڑا رہا تھا، خرم کا یہ اوپیرا ہم کو بہت پسند آیا اور سب نے دل کھول کر اسے داد دی، ہماری الجھن زدہ پڑوسن، بڑی آنکھوں والی روسی لڑکی جو قدرے فکرمند نظر آ رہی تھی، کچھ نہ سمجھتے ہوئے اپنے ہاتھ ہلاتے ہوئے پوچھا "یہ کیا ہو رہا ہے؟" اس کا اشارہ واضح طور پر لڑائی والی صورت حال اور اب ناسمجھ آنے والے گانے کی طرف تھا، خرم کبھی آہستہ اور کبھی باآواز بلند گنگنا رہا تھا۔

اقوام متحدہ کے ایک پیشہ ور مترجم کی طرح میں نے حوصلہ کرکے ایک بہت سنجیدہ ترجمہ پیش کیا، جو سچ پوچھیں تو شاید میڈم نور جہاں کی غزلوں کے مکمل شاعرانہ جادو کی عکاسی تو نہ تھا لیکن اس ترجمے نے کام کر دکھایا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دونوں بآواز بلند ہنسیں، یہ ہنسی ان کے دل سے نکلی تھی، خرم کی "سیمینار" کارکردگی نے نہ صرف تاریخ بنائی بلکہ لڑکیوں کے منہ سے قہقہے بھی نکلوائے، بین الاقوامی قہقہے جو ثقافتوں کو قریب لاتے اور سرحدوں کو عبور کرتے ہیں۔

ایک سال روسی لوگوں کے درمیان گذار کر میں بہت اچھی طرح محسوس کر چکا تھا کہ روسی لوگ نسل پرست ہرگز نہیں ہیں، اگر کوئی ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئے تو وہ انسان کی بہت قدر کرتے ہیں، اچھے برے لوگ ہر جگہ، ہر معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن ہمارا پالا زیادہ تر اچھے لوگوں سے پڑا تھا، لڑکیوں کو جب پوری طرح "کالا شا کالا" کی سمجھ آئی تو ہم سب ایک ساتھ ہنس پڑے، سچ میں موسیقی ایک عالمگیر زبان ہے لیکن بعض اوقات تھوڑا سا اچھا ترجمہ مذاق کو اور بھی بہتر بنا دیتا ہے!

Check Also

Qissa Kolkata Mein Guzari Aik Mayoos Raat Ka

By Nusrat Javed