Khamoshi Aik Mazboot Taqat
خاموشی ایک مضبوط طاقت

ہر انسان کی فطرت ہوتی ہے کہ جب اس کے سامنے یا اس کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آئے جو اس کے ضمیر کے برعکس ہو یا اس کے لیے ناگوار ہو تو وہ اس پر احتجاج کرتا ہے اور ماحول کو اپنے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر انہی لوگوں میں کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو اس آزمائش میں خود کو نہ صرف سنبھال لیتے ہیں بلکہ ایک ایسا اخلاقی سبق چھوڑ جاتے ہیں جو ماحول میں مثبت تبدیلی پیدا کر دیتا ہے اور دوسروں کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے، کیونکہ وہ الفاظ کی بجائے خاموشی سے جواب دیتے ہیں۔
خاموشی صرف خاموش رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ عقل، برداشت، دانائی اور صبر کی علامت ہے۔ خاموشی سے انسان بڑی بڑی مشکلات سے بچ جاتا ہے۔ ایک پل کی خاموشی بڑے بڑے جھگڑوں، مسائل اور غلط فہمیوں سے بچا لیتی ہے اور معاشرے میں امن کی ضامن بنتی ہے، جس سے معاشرہ نہ صرف ترقی کرتا ہے بلکہ امن کا گہوارہ بھی بن جاتا ہے۔
مگر آج کے دور میں لوگ جلد بازی میں نہ جانے کیا کچھ بول دیتے ہیں۔ نہ کسی کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی بڑے چھوٹے کا احترام کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کو نیچا دکھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں، مگر خاموشی اس کے برعکس عزت و احترام کرنا اور اپنے احساسات و جذبات پر قابو رکھنا سکھاتی ہے، جس سے انسان دوسروں کی بات غور سے سنتا ہے اور باہمی احترام اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسلام بھی غیر ضروری گفتگو سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے"۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
تاریخ میں بہت سے عظیم رہنما، علماء اور دانشور کم بولتے تھے، لیکن ان کے الفاظ انتہائی مؤثر ہوتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی ہی سب سے مضبوط جواب ہوتی ہے، جو دوسروں کی اصلاح کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔
خاموشی انسان کی شخصیت میں وقار پیدا کرتی ہے، غصے کو کم کرتی ہے، سوچنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے اور انسان کو اپنی اصلاح کا موقع دیتی ہے۔ تاہم خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم، ناانصافی یا باطل کے سامنے بھی خاموش رہا جائے۔ حق بات کہنا اور مظلوم کی حمایت کرنا ہر مسلمان اور ہر ذمہ دار انسان کا فرض ہے۔۔

