Thursday, 23 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Jab Darya Bastiyan Nigalne Lagen

Jab Darya Bastiyan Nigalne Lagen

جب دریا بستیاں نگلنے لگیں

گلگت بلتستان کو قدرت نے بے مثال حسن، برف پوش چوٹیوں اور دنیا کے عظیم ترین گلیشیئرز سے نوازا ہے، مگر آج یہی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے شدید ترین اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، غیر معمولی بارشوں، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور دریاؤں کے مسلسل کٹاؤ نے اس خوبصورت خطے کو ایک خاموش بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ہر سال دریا سینکڑوں کنال زرعی زمین، مکانات، سڑکیں، پل اور عوامی انفراسٹرکچر اپنے ساتھ بہا لے جاتے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان بے بسی کے ساتھ صرف امداد کے منتظر رہ جاتے ہیں۔

صرف حالیہ دنوں میں ہنزہ، استور، سکردو، غذر اور دیگر علاقوں میں آنے والے سیلاب نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلی کی پہلی صف میں کھڑا ہے۔ مختلف شاہراہیں متاثر ہوئیں، رابطہ پل بہہ گئے، فصلیں تباہ ہوئیں اور کئی علاقوں میں لوگوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہوگیا۔ آج اچھار نالہ میں آنے والے سیلاب نے بھی مقامی آبادی کو شدید مشکلات سے دوچار کیا اور یہ واضح کر دیا کہ پہاڑی نالے اب معمولی بارش میں بھی خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ واقعات کسی ایک ضلع یا ایک موسم تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مستقل خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر سال تباہی کے بعد امدادی سرگرمیاں تو شروع ہو جاتی ہیں، مگر مستقل منصوبہ بندی کہیں نظر نہیں آتی۔ دریا کے کناروں پر حفاظتی پشتوں کی تعمیر، ریور ٹریننگ، جدید فلڈ وارننگ سسٹم، خطرناک علاقوں کی سائنسی نقشہ سازی اور متاثرہ آبادیوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جیسے اقدامات ابھی تک مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو سکے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید سنگین ہوں گے۔

وفاقی حکومت اور حکومت گلگت بلتستان کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ قومی سلامتی، خوراک، معیشت اور انسانی بقا کے مسئلے کے طور پر دیکھیں۔ این ڈی ایم اے، جی بی ڈی ایم اے، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے، حفاظتی بندوں کی تعمیر کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیے جائیں اور ایسے منصوبوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے جو مستقبل میں تباہی کا راستہ روک سکیں۔ ترقی کا مطلب صرف نئی سڑکیں بنانا نہیں بلکہ موجودہ آبادیوں کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام ہر سال سیلاب، دریا کے کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کا مقابلہ کرتے ہیں، لیکن ان کے حوصلے کو مضبوط حکومتی منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ اگر آج سنجیدہ فیصلے نہ کیے گئے تو کل مزید بستیاں، زرعی زمینیں اور قومی شاہراہیں دریا کی نذر ہو سکتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف پاکستان کا اولین دفاعی محاذ سمجھا جائے۔ یہاں کی حفاظت صرف اس خطے کے عوام کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کی حفاظت ہے۔

Check Also

AI Sahulat Ya Salahiyat Ka Qatil?

By Shair Khan