Thursday, 23 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Jamhuriat Ki Adhuri Tasveer

Jamhuriat Ki Adhuri Tasveer

جمہوریت کی ادھوری تصویر

جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد، اسمبلیوں کی تشکیل یا حکومتوں کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ اس کی اصل روح عوام کو ان کی دہلیز پر بااختیار بنانے میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں مقامی حکومتوں کو ریاست کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہی ادارے عوام کے روزمرہ مسائل کو تیزی اور مؤثر انداز میں حل کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی نظام آج بھی اپنی حقیقی روح کے مطابق فعال اور بااختیار نہیں ہو سکا۔

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140-اے واضح طور پر صوبوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات سے لیس مقامی حکومتیں قائم کرنے کا پابند بناتا ہے، مگر عملی طور پر اختیارات کا بڑا حصہ وفاق اور صوبوں تک محدود رہتا ہے۔ نتیجتاً شہریوں کو پانی، صفائی، سیوریج، سڑکوں، پارکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے بھی قومی اور صوبائی نمائندوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے، حالانکہ یہ ذمہ داریاں مقامی حکومتوں کی ہونی چاہئیں۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں بلدیاتی اداروں کو نسبتاً زیادہ اختیارات غیر منتخب ادوار میں ملے، جبکہ جمہوری حکومتیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ہمیشہ محتاط دکھائی دیں۔ اس طرزِ عمل نے مقامی حکومتوں کو مضبوط ہونے کے بجائے کمزور کیا اور عوامی مسائل کے حل میں تاخیر پیدا کی۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ برطانیہ، جرمنی، جاپان اور دیگر ممالک میں مقامی حکومتیں شہری منصوبہ بندی، بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں اور مقامی وسائل کے مؤثر استعمال میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ قومی اور صوبائی ادارے قانون سازی اور پالیسی سازی پر توجہ دیتے ہیں۔ اختیارات کی یہی واضح تقسیم بہتر حکمرانی اور عوامی اطمینان کی بنیاد بنتی ہے۔

پاکستان میں بھی اگر مقامی حکومتوں کو آئین کے مطابق حقیقی مالی، انتظامی اور قانونی اختیارات دیے جائیں تو نہ صرف شہری سہولیات کا معیار بہتر ہوگا بلکہ صوبائی حکومتیں بھی تعلیم، صحت، امن و امان اور بڑے ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ مؤثر انداز میں توجہ دے سکیں گی۔ مضبوط بلدیاتی نظام احتساب، شفافیت اور عوامی شمولیت کو بھی فروغ دیتا ہے کیونکہ مقامی نمائندے براہِ راست اپنے ووٹروں کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا اصل کام قانون سازی، قومی و صوبائی پالیسی کی تشکیل اور حکومت کا احتساب ہے، نہ کہ گلیاں پکی کرانا یا نالیاں صاف کرانا۔ جب قانون ساز ادارے بلدیاتی نوعیت کے کاموں میں الجھ جاتے ہیں تو وہ اپنے بنیادی آئینی کردار سے دور ہو جاتے ہیں، جبکہ عوام کے روزمرہ مسائل بھی بروقت حل نہیں ہو پاتے۔

پاکستان میں مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور خودمختار مقامی حکومتیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، جدید اور عوام دوست جمہوری نظام چاہتے ہیں تو اختیارات کو ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور محلے کی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔ یہی آئینِ پاکستان کی روح، بہتر طرزِ حکمرانی اور پائیدار جمہوریت کی اصل ضمانت ہے۔

Check Also

Jab Darya Bastiyan Nigalne Lagen

By Iqbal Bijar