Sunday, 28 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zubair Hafeez
  4. Ahlehadees, Muharram Aur Fazail e Yazeed

Ahlehadees, Muharram Aur Fazail e Yazeed

اہلحدیث، محرم اور فضیلت یزید

میں پچھلے کئی سال سے محرم کے جمعے باقاعدگی سے اہلحدیث کی مساجد میں پڑھتا ہوں۔۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔۔ ہر سال مولانا صاحبان یزید کی ایک نہ ایک نئی فضیلت کہیں سے کھود کھاد کے خطبے میں ٹانگ دیتے ہیں۔۔ میں ہر دفعہ منتظر ہوتا ہوں اس دفعہ مولانا صاحب یزید کے فضائل میں کون سی نئی سطر کا اضافہ کریں گے اور مولانا مجھے ہلکا سا بھی مایوس نہیں کرتے۔۔ ہر گزرتے عاشورہ کے ساتھ یزید کے کبائر میں نیا سا نیا متلون قسم کا اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔۔ مگر میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ محرم میں یزید کی قصیدہ گوئی سے مولانا کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔

ایک دفعہ جمعہ پڑھنے گیا تو خطبے میں مولانا نے شام و عراق کا طول و عرض بلد کا نقشہ بیان کرنے لگ گئے اور گھنٹہ بھر میں جغرافیے کی ستیا ناس مار کے یہ ثابت کیا دس محرم کا سانحہ وہاں نہیں ہوا تھا جہاں آج کا کربلا ہے بلکہ کہیں اور ہوا تھا۔۔

میرے لیئے محرم کے یہ جمعے خاصے دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔۔ کیسے قاطع شرک و بدعت کی درانتیاں نجدی وٹوں سے اپنی دھار تیز کرکے منبر پر نصب ہوتی ہیں۔۔

ایک دفعہ ایک مولانا صاحب نے آنتوں کے عقب کا زور لگا کر پورا جمعہ عوام کے کانوں میں انڈیل دیا کہ محرم میں راستے بند کرکے بدعات کرنا سراسر غیر اسلامی ہے۔۔ یوں تو میں بھی نسلی قسم کا سلفی ہوں مگر جمعہ کے بعد مولانا کو نرخرے کے آخری کونے سے تجوید کے ساتھ سلام برآمد کرکے ان کے متھے چمڑ گیا۔۔

مولانا یہ تو بتائیں کہ پچھلے ہفتے عمر رض ڈے پر آپ نے جو لنک روڈ بند کرکے وہاں دفاع صحابہ کا جلسہ کیا تھا یہ کس حدیث سے ثابت ہے۔۔ کیا صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین نے اپنے سنہری دور میں راستے بند کرکے اپنے دفاع میں یوں جلسے کیے تھے جیسے آپ آج کل کر رہے ہیں۔۔ کیا یہ بدعت نہیں۔۔

اس کے بعد جو آپ نے چھولوں والے خشک قسم کے چاول گرانڈیل جثے کے تھال میں فی تھال چار ہٹے کٹے جماعتی بھائیوں میں تقسیم میں کیا تھا۔۔ اس لنگر کو میں کیا سلفی نیاز کا نام دوں کیونکہ یہ لنگر بھی غیر اللہ کے نام پر دیا جا رہا ہے جیسے اہل تشیع دیتے ہیں۔۔

اب بندہ کیا کہے۔۔ تہوار بس منائے جاتے ہیں۔۔ رسوم بس ادا کی جاتی ہیں۔۔ ان کے بھیجے میں سے عقل و منطق نہیں نکالی جاتی۔۔ کیا یہ ضروری ہے محرم آتے ہی ہم یزید و حسین کے تاریخی حقائق کھودنے شروع کر دیں۔۔ اس سے کیا ہی ہو جائے گا۔۔ چودہ سو سال میں چودہ سو محرم اب تک آ چکے ہیں۔۔ ہر محرم میں وہی رامائن چلی آرہی ہے۔۔ اس سے کیا ہوا اب تک۔۔ کیا ثابت ہوا۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔

ربیع الاول آتا ہے۔۔ وہابی اور بریلوی اسلامی کیلنڈر کھول کے بیٹھ جاتے ہیں۔۔ ایک کہتا ہے ولادت نو کو ہوئی تھی دوسرا کہتا ہے دس کو ہوئی تھی۔۔

چلو نو کو ہوئی تھی پھر کیا۔۔ اب جلوس نکالنا بدعت ہے۔۔ میلاد منانا بدعت ہے۔۔ مولانا صاحب سے بندہ پوچھے کہ مولانا فطرت کی نظر میں آپ خود بدعت ہیں۔۔ والد صاحب کے گھنٹوں سے نطفے کی صورت میں باہر نکل کر درس نظامی کا کورس کرنا یہ سب بدعت ہے۔۔ بدعت کہتے ہیں نئی یا جدید چیز کو۔۔ دنیا میں جتنی بھی ترقی ہوئی چاہے سائنس میں ہو فلسفے میں یہاں تک کہ خود مذہب میں یہ سب "بدعات" یا جدید اپروچ کا ہی نتیجہ ہے۔۔

فقہہ بھی ایک نئی چیز تھی۔۔ نصوص میں اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔۔ آئمہ حدیث نے احادیث کے نسخے مرتب کئے حضور ﷺ کی وفات کے صدی بعد تو انھوں نے ایک نئی چیز شروع کی تھی۔۔ حضور صرف قرآن ہی تحریری صورت میں دے کر گئے تھے امت کو۔۔ احادیث کے نسخے کو بہت بعد میں لکھے گئے۔۔

تدوینِ قرآن کا ہی معاملہ دیکھیں جب اس کی ضرورت خلفاء راشدین کو پڑی تھی پہلے خلفا نے کہا ہم وہ کام کریں ہی کیوں جو حضور ﷺ نے اپنے دور میں نہیں کیا۔۔ مگر بعد میں قرآت کا اختلاف پیدا ہوا تو تدوین بھی مکمل ہوگی۔۔ یہ ان حضرات کی بصیرت تھی کہ جدید سے جدید قدم اٹھائے۔۔

مگر آج کے دور رکعت کے امام یہ سمجھ نہیں پاتے۔۔ کوئی حنفیت کی کرپان بنا ہؤا ہے تو کوئی دیوبند کی درانتی اور کوئی سلفیت کا" اڑتا تیر"۔۔

Check Also

Toli Se Train Tak

By Tauseef Rehmat