Sunday, 28 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sondas Jameel
  4. Tussi Euro Che De Deo

Tussi Euro Che De Deo

تسی یورو اچ دے دیو

یہ وہ پہلی لائن تھی جو دو سال بعد لاہور ائیرپورٹ پر اتر کر ہم وطن ٹیکسی والے کے منھ سے سنی، جب اسے پتا چلا کہ یہ جرمنی کی سواری ہے۔ تین ہزار لاہور ائیرپورٹ سے لاری اڈے تک کا مانگا، جس کا ریٹ حقیقت میں پندرہ سو عام تھا۔ قائد کی چند لال ورق والی تصاویر تھیں تو اس نے کہا، "یورو تو ہوں گے ناں جی آپ کے پاس!" شاید وہ اپنی جگہ ٹھیک تھا کہ اسے بچے پالنے ہیں، کیسے بھی کرکے۔

اس آم بیچنے والے نے میرے ایک دوست، جو پیدل چل کے ریڑھی تک آیا، ٹھیٹھ پنجابی میں آموں کا ریٹ پوچھا تو اسے تین سو روپے کلو اور جب میں نے گاڑی سے اتر کر ریٹ کو پرائس کہہ کر اردو میں پوچھا تو مجھے وہی آم ساڑھے تین سو روپے کلو بتائے۔ وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہی ہوگا کہ کار کی سواری کا ریٹ، اردو بولنے کا ریٹ، نکھرے کپڑے پہننے کا ریٹ اور ہاتھ میں دو موبائل فون پکڑنے کا ریٹ محض پچاس روپے ہی تو زیادہ بتایا، کہ اس نے بھی بچے تو پالنے ہیں۔

بچے۔۔ ہر طرف۔۔ بے تحاشہ۔۔ گھر کے فی اسکوائر کی گنجائش سے تجاوز کرتے بچے۔۔ ننگے بچے۔۔ گالیاں دیتے بچے۔۔ سکول سے ہٹائے، کاموں پر لگائے بچے۔۔ آخر اتنے آ گئے ہیں تو پالنے تو ہیں۔۔ کسی گاڑی والے کو پچاس زیادہ دینے سے کیا فرق پڑتا، یا کسی بیرونِ ملک سے اتری سواری سے اسی ملک کی کرنسی مانگتے آخر کیسی شرم۔

بچے غربت میں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال ہو بھی جائیں تو کیا! پالنے تو ہیں۔ آخر کس لیے پالنے ہیں؟ اس سوال کا جواب رہنے دیتے ہیں۔ آگے بڑھتے ہیں۔

لاہور میں کوئی ایک پبلک واش روم اور چہرہ جو صاف ہو؟ کوئی لاہوریا کنفرم کرے۔

مونا لیزا کی نقل والی، مسکراتی مریم نواز کی تصویر مویشی منڈیوں کے ماتھے پر لگی آخر کہنا کیا چاہتی ہے؟ ڈکٹیٹر اپنی تصویر گاڑیوں پر رکھ کر شہر بھر کو دکھا کر بتاتے تھے کہ نئی کھچوائی ہے، بتاؤ کیسی آئی! مریم کو ڈکٹیٹر کون کہے کہ جب اس کے پاس سوشل میڈیا ہے، روز نئی سیلفی ڈالے، ہم لائک دیں گے۔ گٹر کے نئے ڈھکن بدلوا کر یا اسپتال میں خون عطیہ کرنے والی جگہوں پر ہم اس مونا لیزائی مسکراتی مریم کو کیا سمجھیں؟ ہم نے دو سال پہلے ایک ٹانگوں سے معذور خطیب کی تصاویریں پورے لاہور سے اتروا کر شہر کی دیواروں کو بڑی مشکل سے سانس دلوائی تھی۔

میں نے عرض کیا تھا کہ وطنِ عزیز میں کوئی ہنستا نہیں ہے اور مجھے دو سال پہلے انجان چہرے کو دیکھ کر ہیلو کہتے ہوئے مسکرانے کی گندی عادت لگ چکی تھی۔ اس میں سراسر میرا ہی قصور ہے کہ یہاں انجان کو دیکھ کر ہنسنا کلچر نہیں ہے، عجیب طرح کی ناشائستگی ضرور سمجھی جاتی ہے کہ اینوی فری ہو رئے نیں!

ایک پلیٹ سالن میں اترا تیل میرے دو دن کی ہانڈی کے لیے کافی ہے، مگر کافی تو یہاں کچھ بھی نہیں۔ آم کے ساتھ چائے اور لسی دونوں برابر پینی ہیں۔۔ بدہضمی کے لیے یہ دودھ میں سپرائٹ ڈال کر دیتے ہیں، یعنی سپرائٹ جس میں پہلے سے تیزابیت ہے۔ نشاندہی پر کہتے ہیں کہ "ہن فیر جے گیس ہوئی اے تاں سپرائٹ دے ڈالے تے واک کرئیے یا دودھ اچ پاکے پیے۔ "

آپ کبھی نادرا گئے ہیں؟

وہاں سارا عملہ اتنا تپا ہوا کیوں بیٹھا ہوتا ہے؟ کیا واقعی آنے والے سائل اس قدر جاہل ہوتے ہیں کہ عملہ اکتا جائے؟ اگر ہوتے بھی ہیں تو کیا ان کا کام انہیں احسن طریقے سے ڈیل کرنا نہیں ہے؟ بتائیے گا مجھے۔

ہماری ہوا میں موٹاپے کی وبا ہے۔ شہر میں آدمی نہیں، توندیں چلتی ہیں۔ شلوار قمیض دھوکا ہے کہ پیٹ پر اُگی چربی کا سچ باہر نہیں آنے دیتی۔ ٹی شرٹ سچی ہے، مگر سچ جان کر بھی بے فکر رہنا ہمیں آتا ہے۔ ہم رہ رہے ہیں۔

آپ نے شاشنک ریڈمپشن دیکھی ہے؟

اس میں اینڈی کا کریکٹر جیل میں رہتے ہوئے بھی قیدیوں کا رنگ خود پر نہیں چڑھنے دیتا۔ ماحول کا رنگ چڑھنے نہ دینا خود کو اس سے بچا کر رکھنا دنیا کا نہایت مشکل ترین اور عظیم ترین کام ہے۔ میں اینڈی نہیں، میں عظیم نہیں کہ دس دن یہاں رہنے کے بعد گیارہویں دن گاڑی سے باہر ٹشو میں نے پھینکے، کہ گاڑی روک کر ڈھونڈنے پر بھی ایک کوڑے دان آس پاس لگا نہ ملے تو گند کتنی ہی دیر تک پرس میں رکھا جا سکتا ہے؟

انجان کو دیکھ کر مسکرانا میں نے بھی چھوڑ دیا۔ "شکریہ" جیسا لفظ میری زبان پر کیسے آئے، جب لاہور ائیرپورٹ پر واپس جاتے ہوئے میرے سارے بیگ، میری ماں کے ہاتھوں نہایت تمیز سے بھرے بیگ، محض اس لیے کھلوا لیے کہ انہیں شک پڑا کہ اندر استرا ہے؟ استرا!

میرے کہنے پر کیا، چیکنگ والی مشین کے کہنے پر بھی بات نہ مانی۔ تو اس چیکنگ کے بعد یہ زبان "شکریہ" کہتی تو اپنے ہی ضمیر سے لفظ "فنڈ" کے ہم قافیہ والی گالی نکلتی۔ یہ عملہ جمائیاں لینے، بیگ کھلوانے، چائے اور سگریٹ پینے کی تنخواہیں لیتا ہے۔ شاید قصور ان کا بھی نہیں کہ انہیں بھی بچے پالنے ہیں۔

آدھے گاؤں کی زمین پر سیم نکل آئی۔ گاؤں والے خدا کا عذاب بتاتے ہیں، مگر نہیں جانتے کہ زمینیں تھک چکی ہیں۔ ان کے ہاتھوں اپنی چھاتی پر ایک ہی فصل بار بار لگانے سے اوبھ چکی ہیں، اپنے اندر کا سب باہر نکال چکی ہیں۔ اب انہیں وقفہ چاہیے، کہ یہ ان کی بیویوں کی کوکھ نہیں جو تھک نہیں رہی۔

گاؤں میں ایک نہایت بزرگی کی عمر کو پہنچے ٹریکٹر پر سرسوں کا تیل نکالنے والی خستہ حال مشین رکھ کر دیہاڑی کرنے والا، نہایت سنجیدگی سے پوچھتا ہے کہ اگر مشین سمیت ٹریکٹر بیچ دوں تو ویزے کے پیسے بن جائیں گے؟

دوسری جانب ایک ڈگری والا، جس کی آنکھ شعور نے کھول بھی دی ہے، وہ تیس ہزار کی نوکری اور بیس ہزار کے خرچے کرتا ہوا شام کو ڈھابے پر چائے پیتا ہے، بیچنے کو بھی اس کے پاس کچھ نہیں، سوچنے کو پورا جہاں ہے اور پوچھتا ہے کہ IELTS کے بغیر باہر جانے کا جگاڑ لگے تو بتانا۔ پھر فنڈ کا ہم قافیہ لفظ کہتا ہے کہ مجھے زبان سے ادا ہو لینے دو۔

ایک چھ انچی داڑھی والے چاچو نے داڑھی کھجاتے پھر وہ سوال پوچھ ہی لیا، جو شاید خدا کے فرشتے بھی پوچھنے سے کترائیں، کہ

اوتھے فیر کنیاں کافراں نوں کلمہ پڑھایا؟

بسمل کا خدا حافظ۔

Check Also

Sach Wo Roshni Hai Jo Andheron Se Nahi Darti

By Muhammad Anwar Bhatti