Karbala, Jahan Rait Bhi Roi
کربلا، جہاں ریت بھی روئی

تاریخِ انسانیت میں بہت سے میدان خون سے رنگے گئے، بہت سے تاج اچھلے، بہت سے تخت الٹے اور بے شمار فاتح وقت کی گرد میں گم ہو گئے مگر ایک میدان ایسا بھی ہے جہاں شکست نے فتح کو جنم دیا، جہاں پیاس نے انسانیت کو سیراب کیا اور جہاں چند نفوسِ قدسیہ نے اپنے خون سے حق و باطل کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دی جسے قیامت تک کوئی مٹا نہیں سکے گا۔ اس میدان کا نام کربلا ہے۔
دسویں محرم کا سورج جب تپتے ہوئے آسمان پر نمودار ہوا تو ریت کے ذرے آگ بن چکے تھے۔ فرات کا پانی نگاہوں کے سامنے تھا مگر پیاسے لبوں تک اس کی ایک بوند بھی نہ پہنچنے دی گئی۔ خیموں میں معصوم بچوں کی ہچکیاں، ماؤں کی سسکیاں، بہنوں کی خاموش دعائیں اور اہلِ بیتؓ کی ثابت قدمی ایسا منظر پیش کر رہی تھیں کہ اگر پتھر بھی وہاں موجود ہوتا تو شاید پگھل جاتا۔
امام عالی مقام حضرت امام حسینؑ کے سامنے صرف اپنی جان کا سوال نہ تھا۔ وہ دین کی حرمت، عدل کی بقا، سچائی کی سربلندی اور انسان کے ضمیر کی آزادی کا مقدمہ لڑ رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ تلواریں ان کے جسم کو زخمی کر سکتی ہیں مگر حق کے چراغ کو بجھا نہیں سکتیں۔ اسی یقین کے ساتھ وہ اپنے عزیزوں کو ایک ایک کرکے راہِ خدا میں رخصت کرتے رہے۔ جوان بیٹے گئے، بھائی گئے، بھتیجے گئے، جاں نثار ساتھی گئے مگر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا۔
کربلا کی سب سے دردناک صدا شاید کسی تلوار کی جھنکار نہ تھی بلکہ ان معصوم بچوں کی پیاس تھی جنہوں نے پانی مانگا تو جواب میں نیزے اور تیر ملے۔ تاریخ کے اوراق آج بھی اس منظر پر لرز اٹھتے ہیں کہ ایک ننھا سا بچہ بھی ظلم کی سنگ دلی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ انسان جب اس لمحے کا تصور کرتا ہے تو آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتی ہیں اور دل یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہے کہ اقتدار کی ہوس انسان کو کس قدر بے حس بنا سکتی ہے۔
پھر وہ لمحہ بھی آیا جب میدان میں تنہا کھڑا ایک عظیم انسان، زخمی جسم، پیاسے لب اور اللہ پر کامل یقین کے ساتھ اپنے رب کے حضور سربسجود ہوا۔ یہ صرف ایک سجدہ نہ تھا، یہ قیامت تک کے لیے انسانیت کو یہ پیغام تھا کہ اگر سر کٹ بھی جائے تو حق کے سامنے جھکے، باطل کے سامنے نہیں۔
شام ڈھلی تو خیمے جل رہے تھے، ریت پر لہو بکھرا تھا، لاشیں خاموش تھیں مگر حقیقت یہ تھی کہ خاموش صرف جسم تھے، آواز تو ہمیشہ کے لیے بیدار ہو چکی تھی۔ اسی آواز نے صدیوں سے ہر مظلوم کو حوصلہ دیا، ہر ظالم کو آئینہ دکھایا اور ہر صاحبِ ضمیر کو یہ سبق دیا کہ عزت کی زندگی چند لمحوں کی ہو تو بھی ذلت کی طویل زندگی سے بہتر ہے۔
کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، ایک دائمی درس ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر ابدی فتح ہمیشہ حق ہی کا مقدر بنتی ہے۔ اسی لیے چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود جب محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل بوجھل ہو جاتا ہے اور روح گواہی دیتی ہے کہ کربلا ختم نہیں ہوئی۔ جہاں کہیں بھی ظلم کے مقابلے میں حق تنہا کھڑا ہوتا ہے، وہاں کربلا دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔
سلام ہو حضرت امام حسینؑ اور ان کے وفادار رفقاء پر، جنہوں نے اپنے خون سے انسانیت کو یہ ابدی سبق دیا کہ حق کی راہ میں دی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور سچائی کا چراغ خون سے بجھتا نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے روشن ہو جاتا ہے۔

