Tanhai Ka Barhta Hua Rujhan, Aik Khamosh Khatra
تنہائی کا بڑھتا ہوا رجحان، ایک خاموش خطرہ

آج کے دور میں تنہائی صرف ایک کیفیت نہیں رہی بلکہ ایک طرزِ زندگی بنتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ محفلوں سے دور رہنا پسند کرتے ہیں، کم بولتے ہیں اور اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے تنہائی کو پسند کر لیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر تنہا شخص نے تنہائی کو شوق سے نہیں اپنایا ہوتا۔
بعض اوقات لوگوں کے رویے انسان کو وہاں پہنچا دیتے ہیں جہاں وہ خاموشی کو باتوں پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ جب کسی کے احساسات کو بار بار نظر انداز کیا جائے، اس کی محبت اور خلوص کی قدر نہ کی جائے، اس کی باتوں کو اہمیت نہ دی جائے یا اسے بار بار تکلیف پہنچائی جائے تو آہستہ آہستہ وہ اپنے دل کے دروازے بند کرنا شروع کر دیتا ہے۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص بدل گیا ہے، پہلے جیسا نہیں رہا، کم بات کرتا ہے یا سب سے الگ رہنے لگا ہے۔ لیکن ہم اکثر یہ نہیں سوچتے کہ شاید اس تبدیلی کے پیچھے ہمارے اپنے رویے بھی ہوں۔ بعض اوقات ہم انجانے میں ایسے الفاظ بول دیتے ہیں جو سامنے والے کے دل پر گہرا زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ کبھی ہماری بے توجہی، کبھی ہمارا غرور اور کبھی ہماری لاپرواہی کسی اپنے کو ہم سے دور کر دیتی ہے۔
سوشل میڈیا اور مصروف زندگی نے بھی اس مسئلے کو بڑھایا ہے، لیکن اصل المیہ یہ ہے کہ لوگ اجنبیوں سے تو خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں مگر اپنے قریبی رشتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ سب سے زیادہ محبت، عزت اور توجہ انہی رشتوں کا حق ہے۔
قرآنِ مجید ہمیں اچھے اخلاق اور رشتوں کو جوڑنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور لوگوں سے بھلی بات کہو"۔ (سورۃ البقرہ: 83)
یہ ایک مختصر حکم ہے لیکن اگر اس پر عمل ہو جائے تو بہت سے دل ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔
ضرورت سے زیادہ تنہائی انسان کو اداسی، مایوسی اور ذہنی دباؤ کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ لوگ ہم سے دور کیوں ہو رہے ہیں، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں ہمارے رویے تو انہیں دور نہیں کر رہے۔
یاد رکھیے، ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا، ہر تنہا شخص لوگوں سے نفرت نہیں کرتا۔ بعض لوگ صرف اس لیے خاموش ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ مزید تکلیف برداشت کرنے کی طاقت کھو چکے ہوتے ہیں۔
اپنے لیے سب کے لیے میری دعا ہے: یا اللہ! ہمارے دلوں میں نرمی، محبت اور دوسروں کے احساسات کی قدر پیدا فرما۔ ہمیں ایسے الفاظ اور رویے عطا فرما جو دلوں کو جوڑنے والے ہوں، توڑنے والے نہیں۔ ہمیں اپنے عزیزوں کی قدر کرنے اور ان کے دلوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔

