Toli Se Train Tak
ٹولی سے ٹرین تک

جامعات اور پھر جامعہ (یونیورسٹی) میں بھی یاتاق (ہاسٹل) میں گزرے دن بلاشبہ سنہری دن کہلائے جانے میں حق بجانب ہوتے ہیں۔ بظاہر کوئی ایسی ذمہ داری نہیں ہوتی جو پاوَں کی بیڑی بن جائے۔ کوئی ایسا مرحلہ درپیش نہیں ہوتا کہ جس کی وجہ سے کہیں پیش ہونا پڑے۔ فقط پڑھائی اور اس سے متعلقہ کچھ صحتمندانہ غیر نصابی سرگرمیوں کا غوغا ہوتا ہے اور ان غیر نصابی سرگرمیوں سے بھی بہت سے طلباء بیبے بچے بن کے بچے رہتے ہیں۔ سارا دن ماسٹروں کے لیکچر، تجربہ گاہوں (لیبارٹری) کے چکر، نوٹس کی ڈھنڈیا، اسائنمنٹ کی تیاری کے چکر میں روم در روم بھٹکنا، کھانے کی جستجو اور پھر کہیں بھی پڑ کے سو رہنے جیسی عیاشیاں زندگی میں دوبارہ نہیں ملتیں۔
فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان خود کو کسی مسیحا سے کم نہیں سمجھتے، کیونکہ تعلیمی سفر کے آخری برسوں تک انہیں یہی پڑھایا اور سمجھایا جاتاہے کہ دنیا انہی کی تو صلاحیتوں کی منتظر ہے۔ انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ بس ڈگری ہاتھ میں آنے کی دیرہے کامیابیاں ان کے قدم چومنے کو بیقرار ہوں گی اور پتا نہیں کون کون سے دولت کی پری، کامیابی کی ملکہ اور شہرت کی دیوی لپٹنے کو لپکیں گی۔ چنانچہ وہ بلند حوصلوں، روشن خوابوں اور بے شمار امیدوں کے ساتھ عملی زندگی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں۔ نوجوانی کی توانائی اُس وقت اپنے عروج کی بھی اوج پر ہوتی ہے اور انسان اپنے آپ کو ہر میدان فتح کرنے کے قابل سمجھتا ہے۔ لیکن عملی دنیا کا پہلا سامنا ہوتے ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ کتابوں کے اسباق اور زندگی کے تقاضوں میں ایک فاصلہ موجود ہے۔ کم مائیگی، نا تجربہ کاری، مناسب رہنمائی کا فقدان اور عملی مواقع کی کمی رفتہ رفتہ اس کے جوش و جذبے کو ماند کرنے لگتی ہے۔ وہ خواب جو کل تک آسمان کی وسعتوں کو چھونے کی خواہش رکھتے تھے، روزگار کی حقیقتوں سے ٹکرا کر سکڑنے لگتے ہیں۔ یوں کئی نوجوانوں کا ابتدائی ولولہ اور خود اعتمادی، صابن کے جھاگ کی مانند، کچھ ہی عرصے میں بیٹھ جاتی ہے۔
ایسے ہی کچھ خواب اپنے ہم جماعت کے ساتھ دیکھے تھے کہ پہلی ہی یونیورسٹی کے بعد سے فوری طالبعلمانہ زندگی نہیں چھوڑیں گے، بلکہ اعلیٰ تعلیم کے لئے ولایت کا رُخ کریں گے۔ بہت سارے دنوں کی سر کھپائی کے بعد اگلی منزل کا سرا ڈھونڈ لیا گیا۔ اس منزل تک پہنچنے کے لئے جو جو جوئے شیر لانی تھی اسے کھودنے، کھینچنے اور سینچنے کے کام پہ لگ گئے۔ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے بس یہی دھن رہتی کہ فلاں کاغذ کا پرزہ بھی مل جائے، فلاں کاغذ بھی ترتیب دے لیں، فلاں کاغذ کسی سے مانگ لیں، فلاں کاغذ کا بھی کہیں سے بندوبست ہو جائے، بس اسی تگ و دو میں دن گزرتے جاتے تھے۔
سوشل میڈیا کا ابھی دور دورا نہ تھا لیکن یوٹیوب سے ضرور یاوری تھی۔ ایک دن اک سردار جی کی ویڈیو ملی جو ولایت کی جدیدیت اور تیز رفتار زندگی پہ مزاحیہ نظم پڑھ رہے تھے۔ وہ چھوٹا سا بصری فیتہ (ویڈیو) اس لحاظ بھی فطری لگا کہ سردار جی نے کھانا کھانے کے دوران ہی وہ ریکارڈ کیا تھا اور جیسا چھیتی چھیتی (جلدی جلدی) ان کا تکراری لفظ تھا وہ بالکل ان کے ماحول سے مناسبت رکھتا تھا کہ سردار جی خود بھی چھیتی چھیتی سب کام کر رہے ہیں۔ کھانا ھی کھا رہے، نظم بھی سنا رہے ہیں اور ریکارڈنگ بھی چل رہی ہے۔
اس نظم کا مرکزی خیال یہی تھا کہ یہاں ولایت میں ہر کام چھیتی چھیتی کرنا پڑٹا ہے۔ حتیٰ نیند بھی چھیتی چھیتی پوری کرنی پڑتی ہے۔ بھاگم بھاگ صبح تیار ہو کے ٹرین پکڑنی ہوتی ہے، کپڑے پہنتے وقت ہی ناشتہ بھی کرنا پڑتا ہے، کام کی جگہ پہ بھی جلدی ہی پہنچنا ہوتا ہے اور کام بھی تیز تیز کرنا پڑتا ہے۔ کام کے دورانی وقفے میں جملہ حاجات اور تواضع بھی نہایت سرعت سے انجام دینے پڑتے ہیں اور رات گئے دوسری نوکری بھگتانے کے بعد پھر سونا بھی جلدی جلدی ہی ہوتا ہے تا کہ اگلے دن کے لئے خود کو پھر سے کچھ توانائی دے سکیں۔
تو نتیجتاً سارا دن ذہن میں ولایت کی یہ چھیتی چھیتی والی طرزِ زندگی گھومتی رہتی۔ ہم اپنی ٹولی میں بیٹھے انہی مسائل سے یوجھتے اور انہی مسائل کے حل کو کھوجتے رہتے۔ اپنی فہم میں اس منصوبہ بندی کے مطابق ہم وقت بچا رہے تھے کہ جب تک مطلوبہ کاغذات کا پلندہ تیار ہوتا ہے، تب تک ہم ان تمام درپیش آنے والے مسائل کا کوئی نہ کوئی مناسب سا حل بھی ڈھونڈ رکھیں کہ کہیں اس چھیتی چھیتی کی طرز پہ زندگی ہی نہ پھیتی پھیتی ہو جائے۔
ہماری اس وقت کی، کی گئی منصوبہ بندی تب تو پوری نہ ہوئی لیکن اسی طرز کی وہ سب چھیتی چھیتی کی طرزِ زندگی اب واپس لوٹ آئی ہے۔ اس ٹولی میں بیٹھ کے جو مسئلے اور حل سانجھے ہوتے تھے وہ آج یہاں کے ٹرین میں سفر کرتے ہوئے یاد آتے ہیں۔ چھیتی چھیتی نیند والا فارمولا یہاں سو فیصد لگانا پڑا تو پتا چلا کہ کتنے بیس کا سو ہے۔ کپڑے پہنتے ہوئے ناشتے کے نام پہ کھجوریں کھانے والی چھیتی کا بھی اپنا ہی سواد ہے۔ اسٹیشن پہ لگی برقی سیڑھیوں کو چھیتی چھیتی پار کرنے کے لئے وہ سیڑھیاں بھی چڑھنا تو چھیتی چھیتی کی بھی اخیر ہے۔
جس ٹولی کے ساتھ یہ سب کچھ "چھیتی چھیتی" کرنا تھا، وہ ٹولی تو زمانے کی گرد میں کہیں بکھر گئی۔ کوئی روزگار کی تلاش میں دور نکل گیا، کوئی خاندان اور ذمہ داریوں کی ریل پیل میں گم ہوگیا اور کوئی وقت کی پٹڑی پر کسی اور سمت چل پڑا۔ مگر عجیب بات ہے کہ آج کی اس تیز رفتار، ڈرائیور لیس اور مسلسل دوڑتی ہوئی زندگی میں، اُس ٹولی کی یاد ماند نہیں پڑی بلکہ شاید پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ لوٹتی ہے۔ کبھی ہاسٹل کی میس کا بے ذائقہ کھانا یاد آتا ہے، کبھی ویسپا کی سست رفتار سواری، کبھی دوستوں کے ساتھ کی گئی بے مقصد چہل قدمیاں اور کبھی وہ خواب جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔ شاید زندگی کا سب سے خوبصورت سفر منزلوں تک پہنچنے کا نہیں تھا، بلکہ اُن لوگوں کے ساتھ چلنے کا تھا جن کے ساتھ ہم نے یہ سفر شروع کیا تھا اور آج، جب ہم سب اپنی اپنی ٹرینوں میں سوار ہیں، تو دل کبھی کبھار اب بھی پلٹ کر اسی ٹولی کو ڈھونڈتا ہے۔

