Bahishti Darwaza Ya Bahishti Kirdar?
بہشتی دروازہ یا بہشتی کردار؟

ہر سال پاکپتن میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے عرس کے موقع پر "بہشتی دروازہ" کھولا جاتا ہے۔ لاکھوں عقیدت مند اس دروازے سے گزرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ اس سال بھی اعلان ہوا کہ یہ دروازہ پانچ دن، عشاء سے فجر تک کھلا رہے گا اور روزانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اس سے گزریں گے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد کا یہ عقیدہ ہے کہ جو شخص اس دروازے سے ایک مرتبہ گزر جائے، اس کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جنت اس پر واجب ہو جاتی ہے۔
یہیں سے سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی جنت کا راستہ ایک دروازے سے گزرنے میں پوشیدہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی تمام عبادتیں، اخلاق، حقوق العباد، سچائی، دیانت، نماز، روزہ اور تقویٰ سب بے معنی ہو جاتے۔
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ مسجد الحرام کے 243 دروازے، مسجد نبوی ﷺ کے 110 دروازے اور بیت المقدس کے 11 دروازوں میں سے کسی ایک کے متعلق یہ دعویٰ نہیں کیا جاتا کہ صرف اس کے نیچے سے گزرنے سے گناہ معاف ہو جائیں گے، مگر پاکپتن کے ایک دروازے کے متعلق یہ تصور عام ہوگیا کہ وہ سیدھا جنت کا شارٹ کٹ ہے۔
اگر واقعی جنت اتنی آسانی سے ملتی تو پھر انبیائے کرام علیہم السلام نے اتنی مشقت کیوں اٹھائی؟ قرآن مجید میں بار بار نیک اعمال، تقویٰ، عدل، صبر، احسان اور حقوق العباد کی تلقین کیوں کی گئی؟ پھر قیامت کے دن حساب و کتاب کی کیا ضرورت رہ جاتی؟
اصل مسئلہ دروازہ نہیں، ہماری سوچ ہے۔ ہم نے دین کو عمل سے زیادہ رسموں میں تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہمیں کردار بدلنے سے زیادہ دروازے بدلنے میں دلچسپی ہے۔ ہم جھوٹ بھی بولنا چاہتے ہیں، رشوت بھی لینی ہے، ظلم بھی کرنا ہے، حق بھی مارنا ہے، مگر ساتھ ہی ایک ایسے دروازے سے بھی گزرنا چاہتے ہیں جو ہماری پوری زندگی کا حساب چند سیکنڈ میں صاف کر دے۔
یہ سوچ دین نہیں، خود فریبی ہے۔
حضرت بابا فریدؒ نے کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ میری قبر کے پاس آ کر جنت خرید لو۔ انہوں نے تو محبت، عاجزی، صبر، خدمتِ خلق، ذکرِ الٰہی، رزقِ حلال اور انسان دوستی کا سبق دیا۔ اگر ان کے افکار کو چھوڑ کر صرف ان کے مزار کے دروازے سے گزرنے کو نجات سمجھ لیا جائے تو یہ بابا فریدؒ کی تعلیمات کے ساتھ انصاف نہیں۔
بزرگانِ دین راستہ دکھاتے ہیں، منزل نہیں بانٹتے۔ وہ کردار بناتے ہیں، شارٹ کٹ نہیں دیتے۔ ان کی خانقاہیں اصلاح کے مراکز تھیں، معافی کے کارخانے نہیں۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ اسی بہشتی دروازے پر ماضی میں بھگدڑ کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ 2021 میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 2010 میں ایک خودکش حملہ آور بھی اسی ہجوم میں داخل ہو کر کئی بے گناہ جانیں لے گیا۔ اگر انسان عقل سے کام لے تو ایسے واقعات بھی ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ دین میں اعتدال اور شعور ضروری ہے، اندھی عقیدت نہیں۔
طنز یہ ہے کہ جس دروازے کو لوگ جنت کا دروازہ کہتے ہیں، وہاں جنت کے فرشتے نہیں بلکہ پنجاب پولیس تعینات ہوتی ہے تاکہ ہجوم کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اگر جنت کا راستہ واقعی یہی ہوتا تو شاید رضوانِ جنت کو بھی ڈیوٹی پر ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے انتظام کے لیے دنیا کے اہلکار ہی کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ کالم بابا فریدؒ کی ذات پر نہیں، بلکہ ان سے منسوب غلط تصورات پر ہے۔ اولیائے کرام ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان سے محبت ایمان کا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن محبت کا تقاضا ان کی تعلیمات پر عمل ہے، نہ کہ صرف ان کی نشانیوں کو نجات کا ذریعہ سمجھ لینا۔
اگر بہشتی دروازے سے گزرنے کے بعد بھی ہمارے دل میں تکبر باقی رہے، زبان پر جھوٹ باقی رہے، ہاتھوں میں رشوت باقی رہے، کاروبار میں دھوکہ باقی رہے اور معاشرے میں ظلم باقی رہے تو پھر وہ دروازہ ہمیں کیا دے گا؟
اصل بہشتی دروازہ انسان کے اپنے دل میں کھلتا ہے۔ جب دل حسد سے پاک ہو، زبان سچ بولے، ہاتھ خدمت کریں، آنکھیں حیا اختیار کریں، رزق حلال ہو، والدین راضی ہوں، مظلوم کی آہ نہ ہو اور بندہ اپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کرے، تب جنت کے دروازے کھلتے ہیں۔
آئیے، بابا فریدؒ کے مزار پر ضرور جائیں، فاتحہ پڑھیں، ان کے لیے دعا کریں، ان سے عقیدت رکھیں، مگر اس سے بھی بڑھ کر ان کے افکار کو اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ ان کے صبر کو اپنائیں، ان کی عاجزی کو اپنائیں، ان کی انسان دوستی کو اپنائیں، ان کی عبادت اور تقویٰ کو اپنائیں۔ کیونکہ جنت کسی دروازے کے نیچے سے گزرنے کا انعام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نیک اعمال کا صلہ ہے۔
ہمیں "بہشتی دروازہ" تلاش کرنے سے پہلے "بہشتی کردار" پیدا کرنا ہوگا۔ جس دن ہمارا کردار بابا فریدؒ کی تعلیمات کے مطابق ہوگیا، شاید ہمیں کسی مخصوص دروازے سے گزرنے کی ضرورت ہی نہ رہے، کیونکہ اس دن جنت کا راستہ ہمارے اعمال خود بنا رہے ہوں گے۔

