Sunday, 28 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Qanoon, Taqat Aur Insani Waqar

Qanoon, Taqat Aur Insani Waqar

قانون، طاقت اور انسانی وقار

کسی بھی معاشرے کی تہذیبی پختگی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ وہ اپنے نیک اور فرمانبردار شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے، بلکہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور، سب سے ناپسندیدہ اور حتیٰ کہ اپنے سب سے بڑے مجرم کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ انصاف کا اصل امتحان عدالتوں میں نہیں بلکہ ان لمحات میں ہوتا ہے جب ریاست کے ہاتھ میں طاقت ہو اور اس کے سامنے ایک بے بس انسان کھڑا ہو۔

حال ہی میں لکسمبرگ کی ایک عدالت نے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ ایک پولیس افسر نے زیرِ حراست شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے نہ صرف اس افسر کو سزا دی بلکہ اس کے ساتھیوں اور متعلقہ پولیس چیف کو بھی مجرم قرار دیا، کیونکہ انہوں نے یا تو جرم کو روکنے کی کوشش نہیں کی یا اسے چھپانے کی کوشش کی۔ اس فیصلے نے ایک بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا: ریاستی اختیار رکھنے والا شخص اگر قانون توڑتا ہے تو اس کا جرم ایک عام شہری کے جرم سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ وہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔

یہ واقعہ پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے لیے ایک آئینہ ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات اور ان کے احتساب کے درمیان توازن کا مسئلہ موجود ہے۔

پاکستان میں "پولیس مقابلہ" ایک عام اصطلاح ہے۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لفظ ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکا ہے۔ خبر آتی ہے کہ فلاں خطرناک ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا، فلاں اشتہاری مجرم فرار ہونے کی کوشش میں ہلاک ہوگیا، یا پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں مشتبہ افراد مارے گئے۔ اکثر لوگ اس خبر کو بہت ہی اطمینان کے ساتھ سنتے ہیں، گویا انصاف فوری طور پر فراہم کردیا گیا ہو۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا جرم کے خلاف جنگ میں ریاست کو قانون سے ماورا ہونے کا اختیار حاصل ہے؟

یہ سوال صرف قانونی نہیں بلکہ فلسفیانہ بھی ہے۔

ارسطو Aristotle نے دو ہزار سال پہلے کہا تھا کہ "قانون کی حکمرانی کسی بھی فرد کی حکمرانی سے بہتر ہے"۔ ارسطو کے نزدیک ریاست کا مقصد محض نظم و ضبط قائم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا اخلاقی اور سیاسی نظام قائم کرنا تھا جس میں انصاف حکمرانوں کی خواہشات کے بجائے قوانین کے ذریعے نافذ ہو۔ اگر طاقت قانون پر غالب آجائے تو ریاست آہستہ آہستہ مہذب معاشرے سے جبر کے نظام میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

پاکستان میں جب کسی مشتبہ شخص کی موت کو محض "پولیس مقابلہ" قرار دے کر معاملہ ختم کردیا جاتا ہے تو دراصل یہی سوال جنم لیتا ہے کہ کیا قانون طاقت کو کنٹرول کررہا ہے یا طاقت قانون کو؟

سترہویں صدی کے انگریز فلسفی جان لاک John Locke نے جدید جمہوری ریاست کا ایک بنیادی اصول پیش کیا تھا۔ اس کے مطابق انسان اپنی بعض آزادیوں کو ریاست کے حوالے اس شرط پر کرتا ہے کہ ریاست اس کی جان، آزادی اور ملکیت کا تحفظ کرے گی۔ یہ ریاست اور شہری کے درمیان ایک "سماجی معاہدہ" (Social Contract) سمجھا جاتا ہے۔

ریاست کو طاقت عوام دیتے ہیں: ریاست طاقت کی مالک نہیں بلکہ امین ہوتی ہے۔

جب ریاست یا اس کے اہلکار قانون سے بالاتر ہوکر کسی شخص پر ذور ذیادتی کرتے ہیں یا کسی کی جان لیتے ہیں تو وہ صرف ایک فرد کے حقِ زندگی کی خلاف ورزی نہیں کرتے بلکہ اس سماجی معاہدے کو بھی توڑتے ہیں جس کی بنیاد پر ریاست کو اختیار حاصل ہوا تھا۔

اسی تصور کو ژاں ژاک روسو Jean-Jacques Rousseau نے مزید آگے بڑھایا۔ روسو کے نزدیک جائز اقتدار وہی ہے جو "عوامی ارادے" کے تابع ہو۔ اگر ریاست اپنی قانونی حدود سے تجاوز کرے تو وہ عوامی اقتدار کی نمائندہ نہیں رہتی بلکہ محض طاقت کا آلہ بن جاتی ہے۔ روسو کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ریاست کا جواز انصاف سے پیدا ہوتا ہے، خوف سے نہیں۔

اٹھارویں صدی کے فرانسیسی مفکر مونٹیسکیو۔ Montesquieu نے ایک اور اہم نکتہ پیش کیا۔ اس نے کہا کہ آزادی کا تحفظ صرف اسی صورت ممکن ہے جب طاقت کو طاقت کے ذریعے محدود کیا جائے۔ یہی نظریہ بعد میں اختیارات کی تقسیم (Separation of Powers) کی بنیاد بنا۔

مونٹیسکیو دراصل یہ سمجھتا تھا کہ اگر ایک ہی ادارہ گرفتاری بھی کرے، تحقیقات بھی کرے، جرم کا فیصلہ بھی کرے اور سزا بھی نافذ کرے تو ظلم ناگزیر ہوجاتا ہے۔

جب کسی معاشرے میں پولیس تفتیش کار، گواہ، جج اور جلاد۔۔ چاروں کردار ادا کرنے لگے تو انصاف کا ادارہ اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔

جرم اور سزا کے فلسفے پر سب سے گہرا اثر اطالوی مفکر سیزر بیکاریا Cesare Beccaria نے ڈالا، جسے جدید فوجداری قانون Criminal Law کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اپنی مشہور کتاب On Crimes and Punishments میں بیکاریا نے لکھا کہ ریاست کو سزا دینے کا حق صرف اسی حد تک حاصل ہے جس حد تک معاشرے کی حفاظت ضروری ہو۔ اس کے نزدیک تشدد، اعترافِ جرم کے لیے جبر اور ماورائے عدالت سزائیں نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر مؤثر بھی ہیں۔

بیکاریا Beccaria کا ایک بنیادی اصول تھا کہ سزا کی یقینیّت(یعنی قانون شکنی کی سزا یقینی ہے!)، سزا کی شدت سے زیادہ اہم ہے۔۔ یعنی معاشرے میں امن اس وقت قائم نہیں ہوتا جب پولیس لوگوں کو مارنا شروع کردے، بلکہ اس وقت قائم ہوتا ہے جب ہر شخص جانتا ہو کہ جرم کی صورت میں ایک شفاف اور غیر جانبدار قانونی عمل اس کا انتظار کررہا ہے۔

یہی اصول آج بھی دنیا کے کامیاب قانونی نظاموں کی بنیاد ہے۔

اگر مغربی سیاسی فکر ہمیں قانون کی حکمرانی کی طرف لے جاتی ہے تو اسلامی تصورِ عدل اس اصول کو مزید گہرائی عطا کرتا ہے۔

قرآنِ مجید حکم دیتا ہے: "کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے"۔ سورۃ المائدہ (5)، آیت 8

یہ آیت دراصل قانون کی غیر جانبداری کا اعلان ہے۔ انصاف دوست اور دشمن، طاقتور اور کمزور، حکمران اور محکوم کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

اسلامی تاریخ میں حضرت عمرؓ کا وہ مشہور قول ہمیشہ یاد رکھیں کہ "لوگوں کو تم نے کب سے غلام بنا لیا جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟"

یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ریاستی طاقت کی حدود کا اعلان ہے۔

امام ابو یوسف نے اپنی کتاب الخراج میں حکمرانوں کو متنبہ کیا تھا کہ ظلم کے ذریعے قائم ہونے والی ریاست بظاہر طاقتور نظر آسکتی ہے، مگر اس کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں۔ ابن خلدون نے بھی لکھا کہ ظلم ریاستوں کے زوال کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے، کیونکہ ظلم اعتماد کو ختم کردیتا ہے اور اعتماد ہی سیاسی نظم کا اصل سرمایہ ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی فقہ میں بھی کسی شخص کو جرم ثابت ہونے سے پہلے مجرم قرار دینا یا اسے قانونی عمل کے بغیر سزا دینا ایک انتہائی سنگین معاملہ سمجھا گیا ہے۔

پاکستان میں پولیس مقابلوں کے بارے میں بحث دراصل مجرموں کے حقوق کی بحث نہیں ہے، یہ ریاست کے کردار کی بحث ہے۔

سوال یہ نہیں کہ مرنے والا شخص نیک تھا یا بد، بے گناہ تھا یا مجرم۔ سوال یہ ہے کہ فیصلہ کس نے کیا؟ عدالت نے یا بندوق نے؟

اگر بندوق فیصلہ کرے گی تو کل یہی بندوق کسی بے گناہ کی طرف بھی اٹھ سکتی ہے۔ اگر قانون کمزور پڑ جائے تو اس کا نقصان صرف مجرموں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔

ایک مہذب ریاست کی طاقت اس کی گولیوں کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کی عدالتوں کی ساکھ، اس کے قانون کی غیر جانبداری اور اس کے اداروں کے احتساب سے ناپی جاتی ہے۔

لکسمبرگ کی عدالت نے دنیا کو یہی سبق دیا کہ ریاستی طاقت کا احترام اسی وقت ممکن ہے جب وہ قانون کے تابع ہو۔

پاکستان کے لیے بھی اصل چیلنج یہی ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم جرم کے خلاف جنگ ایک آئینی ریاست کے طور پر لڑنا چاہتے ہیں یا ایک ایسی قوت کے طور پر جو نتائج کے نام پر اصولوں کو قربان کردیتی ہے۔ تاریخ، فلسفہ اور مذہب تینوں اس حقیقت پر متفق ہیں کہ انصاف کے بغیر امن قائم نہیں رہ سکتا اور قانون کے بغیر انصاف ممکن نہیں۔

اگر میں ان تمام مفکرین، جنکا حوالہ اوپر دے چکا ہوں، کو ایک جملے میں سمیٹنے کی سعی کروں تو ان کا مشترکہ پیغام یہ ہوگا: "ریاست کی طاقت کا جواز صرف اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب وہ قانون، انصاف اور انسانی وقار کی حدود کے اندر استعمال ہو"۔

Check Also

Qudrat Ki Taqat, Insaniat Ka Imtihan Aur Mustaqbil Ke Liye Aik Sabaq

By Tehreem Ashraf