Sunday, 28 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Umar Farooq
  4. Waqia e Karbala Ka Nafsiyati Tajzia

Waqia e Karbala Ka Nafsiyati Tajzia

واقعہ کربلا کا نفسیاتی تجزیہ

دنیا میں کوئی غم ایسا نہیں جو صدیوں زندہ رہے۔ آدمی مرتا ہے، اس کے پیارے روتے ہیں اور پھر وقت سب کچھ مٹا دیتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ عام غم اپنی شدت کھو دیتا ہے۔ مہینوں میں، سال دو سال میں۔ مگر کربلا؟ کربلا چودہ سو سال بعد بھی آنکھ بھگو دیتی ہے۔ کیوں؟ یہ سوال صرف تاریخ کا نہیں۔ یہ نفسیات کا سوال بھی ہے کیونکہ جو غم نسل در نسل منتقل ہوتا رہے اور کم ہونے کے بجائے گہرا ہوتا جائے، اس کے پیچھے انسانی ذہن کے کچھ ایسے گہرے قانون کام کر رہے ہوتے ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔

آؤ۔۔ اس زخم کو ماہر کی نظر سے دیکھیں اور دیکھیں کہ یہ ہمیں کربلا کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔ نفسیات میں ایک بات پر سب متفق ہیں "اولاد کا غم سب سے شدید اور سب سے دیرپا غم ہے"۔ شریک حیات کا انتقال ہو، والدین کا، دوست کا، انسان وقت کے ساتھ سنبھل جاتا ہے مگر جب اولاد جائے تو کچھ ٹوٹتا ہے جو شاید کبھی پوری طرح نہ جڑے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اولاد کھونے والے والدین میں طویل المدتی غم، ڈپریشن اور پی ٹی ایس ڈی کی شرح ہر دوسرے رشتے سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ صرف محبت نہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بچہ والد کی شناخت کا حصہ بن جاتا ہے۔ انسان کے بدن کا ایک اپنا جزو۔ بچہ مرے تو والد کا ایک ٹکڑا بھی مر جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ غم اتنا زیادہ کاٹتا اور درد دیتا ہے۔ اب اس عدسے سے کربلا کو دیکھیں۔ ایک باپ جس نے ایک دن میں اپنے کئی جگر گوشے قبر میں اتارے۔ اٹھارہ سالہ علی اکبرؑ سے لے کر چھ ماہ کے علی اصغرؑ تک۔ یہ صرف صبر کی انتہا نہ تھی یہ انسانی ذہن کی اس آخری حد کا امتحان تھا جہاں عام انسان بکھر جاتا ہے مگر امام حسینؑ بکھرے نہیں۔

اور یہاں نفسیات کا ایک خوبصورت تصور سامنے آتا ہے: غم کو "منتقل" کرنا۔ جب درد کو دبایا جائے تو وہ بیماری بنتا ہے، جب اسے بے قابو چھوڑا جائے تو وہ تباہی بنتا ہے مگر ایک تیسرا راستہ بھی ہے: درد کو ایک بلند مقصد کی طرف موڑ دینا۔ امامؑ نے یہی کیا۔ ہر شہادت کو انہوں نے ماتم نہیں، گواہی بنا دیا، یہ نفسیاتی لچک (ریزیلینس) کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے اور یاد رہے صبرِ حسینؑ محض برداشت نہ تھا، "چپ ہو جانا" نہ تھا۔ یہ ایک فعال، باشعور انتخاب تھا۔ بے بسی میں بھی فیصلے کی طاقت اپنے ہاتھ میں رکھنا یہی صحت مند ذہن کی پہچان ہے۔

اب ایک اور سوال۔ یہ غم نسل در نسل کیسے زندہ رہا؟ یہاں "اجتماعی غم" کا تصور آتا ہے۔ جب کوئی قوم مل کر روتی ہے، تو کچھ عجیب ہوتا ہے۔ انفرادی درد، اجتماعی شناخت بن جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ اپنا غم نکالنے والے لوگوں میں تنہا غم سہنے والوں کی نسبت کم درد اور زیادہ ذہنی استحکام پایا جاتا ہے۔ مشترکہ غم بکھرتے ہوئے لوگوں کو ایک دھاگے میں پرو دیتا ہے اور یہی کام محرم کی مجالس کرتی ہیں۔ مشترکہ آنسو، مشترکہ شناخت اور پھر مشترکہ طاقت۔ اس غم میں ہزاروں دل دھڑکتے ہیں اور یہ احساس کہ میں اکیلا نہیں انسانی ذہن کے سب سے بڑے علاجوں میں سے ہے مگر یہاں مجھے رکنا ہے۔ کیونکہ ہر سکے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ اجتماعی غم اسی وقت شفا بنتا ہے جب وہ ہمیں سبق، صبر اور حوصلہ دے۔ مگر اگر غم صرف زخم کو بار بار کھرچنے لگے۔ اگر ہم ہر سال صرف رونے کے لیے روئیں اور کربلا کا پیغام نہ سمجھیں تو یہی غم شفا کے بجائے صدمے کی تکرار بن جاتا ہے۔

امامؑ نے خون اس لیے نہیں دیا تھا کہ ہم صرف آنسو بہائیں۔ انہوں نے شہادت کو اس لئے گلے لگایا تھا کہ ہم سیدھے کھڑے ہونا سیکھیں۔ غم کو زخم نہ بناؤ اسے روشنی بناؤ۔ یہی کربلا کا اصل تقاضا ہے۔

ستمبر 2025 میں امریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن نے باقاعدہ طور پر ایک نئی کیفیت کو تسلیم کیا "مورل انجری" یعنی اخلاقی زخم۔ یہ کیا ہے؟ یہ وہ گہرا نفسیاتی درد ہے جو انسان کو تب لگتا ہے جب وہ ظلم دیکھے اور کچھ نہ کر پائے۔ جب اس کے سامنے حق پامال ہو اور وہ خاموش رہنے پر مجبور ہو۔ یہ صرف خوف نہیں، یہ ضمیر کا زخم ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ یہ شرمندگی، گناہ کے احساس اور روحانی ٹوٹ پھوٹ کو جنم دیتا ہے اور یہ آج کے دور کا سب سے خاموش، سب سے پھیلا ہوا نفسیاتی مرض ہے۔ ذرا سوچیں روز ہم خبروں میں ظلم دیکھتے ہیں، بے بسی محسوس کرتے ہیں اور اندر ہی اندر کچھ مر جاتا ہے۔ یہی آج کی امت کا سب سے بڑا، سب سے ان دیکھا زخم ہے اور کربلا اس زخم کا جواب ہے۔ امامؑ نے دکھایا کہ اخلاقی زخم سے بچنے کا راستہ کیا ہے" ظلم کے سامنے خاموش نہ رہنا"۔ امامؑ کے پاس طاقت نہ تھی، لشکر نہ تھا، پانی تک نہ تھا مگر انہوں نے ضمیر کو زندہ رکھا۔ انہوں نے دکھایا کہ اگر انسان سچ کے ساتھ کھڑا رہے تو وہ بے بسی میں بھی باوقار رہ سکتا ہے۔

حالیہ تحقیق میں ایک حیران کن بات سامنے آئی: جو لوگ اپنے اخلاقی درد کو خاموشی میں نہیں دباتے، بلکہ اسے عمل میں، آواز میں، حق کی حمایت میں بدل دیتے ہیں ان میں یہ زخم اخلاقی جرأت بن جاتا ہے یہی کربلا کا فلسفہ ہے: درد کو دبانا نہیں، اسے مقصد دینا۔

نفسیات میں ایک تصور ہے: "پوسٹ ٹرامیٹک گروتھ" یعنی صدمے کے بعد ترقی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تحقیق کے مطابق صدمے کے بعد لوگوں کی اکثریت ٹوٹتی نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ بامعنی، زیادہ گہری ہو کر ابھرتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے درد میں معنی ڈھونڈ لے اور یہی کربلا کا تحفہ ہے۔ کربلا نے امت کو ایک ایسا معنی دیا جو صدیوں سے اسے سیدھا کھڑا رکھے ہوئے ہے۔

اب ہمارے لئے کربلا میں سبق کیا ہے؟ پہلا جس چیز سے بچنا ہے، غم کو محض رسم نہ بنائیں۔ اگر ہم ہر محرم صرف روئیں اور سال بھر ظلم کے سامنے خاموش رہیں، تو ہم نے کربلا کو نہیں سمجھا۔ دوسرا صبر کا غلط مطلب نہ نکالیں۔ صبر چپ رہنا نہیں، صبر ڈٹ جانا ہے۔ تیسرا اپنے درد کو دبائیں مت، اسے دبانا بیماری کی طرف لے جاتا ہے، اسے ایک بلند مقصد کی طرف موڑ دیں اور ہم نے کربلا سے جو سیکھنا ہے کہ سب سے بڑی طاقت تلوار میں نہیں، ضمیر میں ہے۔ کہ ہار جانا اور جھک جانا دو الگ چیزیں ہیں حسینؑ میدان میں ہارے مگر کبھی نہ جھکے اور اسی لیے آج بھی جیت رہے ہیں۔ کہ غم اگر مل کر سہا جائے تو طاقت بنتا ہے اور یہ کہ بے بسی کے سب سے تاریک لمحے میں بھی وقار ممکن ہے اور جہاں ٹوٹا ہوا دل یہ سیکھے کہ ٹوٹ کر بھی کیسے کھڑا رہا جاتا ہے۔ یہی وہ شفا ہے جو چودہ سو سال سے بٹ رہی ہے اور آج بھی ختم نہیں ہوئی۔

ایک ماہرِ نفسیات کی حیثیت سے میں روز ایسے لوگوں سے ملتا ہوں جو اندر ہی اندر کسی زخم کو لیے پھرتے ہیں کوئی پرانا غم، کوئی دبی ہوئی بے بسی، کوئی ایسا درد جسے انہوں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا اور میں نے سیکھا ہے کہ درد کو دبانے سے وہ مرتا نہیں، گہرا ہوتا ہے۔ کربلا یہی سکھاتی ہے: درد کو چھپاؤ مت، اسے سمجھو اور اسے روشنی میں بدل دو۔ اگر آپ کے اندر بھی کوئی ایسا زخم ہے جو آپ کو سیدھا کھڑا نہیں ہونے دیتا تو اسے اکیلے مت سہیے۔ بات کرنا کمزوری نہیں، سب سے بڑی ہمت ہے۔ امام حسینؑ نے دکھایا کہ مدد مانگنا اور سہارا لینا انسان کو چھوٹا نہیں کرتا بلکہ زندہ رکھتا ہے۔

Check Also

Tussi Euro Che De Deo

By Sondas Jameel