Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Digital Daur Ka Insan: Algorithm Ki Saltanat Aur Insan Ki Tahai

Digital Daur Ka Insan: Algorithm Ki Saltanat Aur Insan Ki Tahai

ڈیجیٹل دور کا انسان: الگورتھم کی سلطنت اور انسان کی تنہائی

انسان نے جب آگ کو قابو کیا تو وہ فاتح محسوس ہوا، جب پہیہ ایجاد کیا تو اسے لگا کہ فاصلے اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ مگر آج، جب اس نے مصنوعی ذہانت کو تخلیق کیا ہے، وہ ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے، طاقت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور خطرہ بھی اسی کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت اب محض ایک سافٹ ویئر یا ایپلی کیشن نہیں رہی، یہ ایک خاموش حکمران بنتی جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اسے استعمال کر رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آہستہ آہستہ وہ ہمیں استعمال کر رہی ہے۔ ہماری ترجیحات، ہماری پسند، ہماری رائے، سب کچھ ایک غیر مرئی الگورتھم کی انگلیوں پر ناچ رہا ہے۔

کبھی انسان کسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کتابوں کی گرد جھاڑتا تھا، اساتذہ سے بحث کرتا تھا، راتوں کی نیند قربان کرتا تھا۔ آج ایک کلک میں جواب سامنے آ جاتا ہے۔ سہولت نے ہمیں تیز تو بنا دیا ہے، مگر گہرا نہیں۔ معلومات کے انبار نے ہمیں باشعور نہیں بنایا، بلکہ سطحی کر دیا ہے۔ ہم جاننے لگے ہیں، مگر سمجھنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔

سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ مشینیں ہم سے زیادہ تیز ہو جائیں گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود سست ہو جائیں گے۔ جب ہر تحریر مشین لکھے، ہر تصویر مشین بنائے اور ہر فیصلہ مشین تجویز کرے تو انسان کا تخلیقی جوہر کہاں جائے گا؟ وہ ذہن جو سوال اٹھاتا تھا، جو بغاوت کرتا تھا، جو نئی راہیں نکالتا تھا، کیا وہ محض "اوکے" کے بٹن تک محدود ہو کر رہ جائے گا؟

آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت طب، معیشت اور دفاع کے میدان میں حیران کن انقلاب لائے گی۔ ایسے نظام وجود میں آئیں گے جو بیماریوں کی تشخیص ہم سے بہتر کریں گے، معیشت کی پیش گوئی ہم سے زیادہ درست کریں گے اور شاید جنگی حکمتِ عملی بھی ہم سے زیادہ مؤثر بنائیں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر فیصلہ سازی مکمل طور پر مشینوں کے سپرد ہوگئی تو انسانی اخلاقیات کا کیا ہوگا؟ مشین کے پاس منطق تو ہو سکتی ہے، مگر رحم نہیں۔ وہ حساب تو لگا سکتی ہے، مگر ہمدردی نہیں کر سکتی۔

ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں اسکرین ہماری آنکھوں کا منظر نامہ طے کرتی ہے۔ ہمیں کیا دیکھنا ہے، کس پر یقین کرنا ہے، کس سے اختلاف کرنا ہے، سب کچھ خاموشی سے ترتیب دیا جا رہا ہے۔ یہ آزادی کا فریب ہے، جس کے پیچھے ایک منظم ڈیجیٹل قید چھپی ہوئی ہے۔ ہم خود کو آزاد سمجھتے ہیں، مگر ہمارے فیصلوں کی ڈور کہیں اور سے ہل رہی ہوتی ہے۔

اگر کبھی یہ ذہین نظام اپنے مقاصد خود ترتیب دینے لگے تو منظر کیسا ہوگا؟ ایک ایسا نیٹ ورک جو بجلی گھروں، بینکاری نظام، دفاعی ہتھیاروں اور مواصلات کو کنٹرول کرتا ہو، اگر وہ انسانی احکامات کو غیر مؤثر سمجھنے لگے تو کیا ہوگا؟ یہ سوال سائنس فکشن نہیں رہا، یہ سنجیدہ علمی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔

مگر شاید اس سے بھی بڑا خطرہ اخلاقی اور تہذیبی ہے۔ ہم نے مشینوں کو ذہین بنانے کی دوڑ میں خود کو میکانیکی بنا لیا ہے۔ ہماری گفتگو مختصر ہوگئی ہے، تعلقات سطحی ہو گئے ہیں اور تنہائی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم ورچوئل دنیا میں جڑے ہوئے ہیں، مگر حقیقی دنیا میں بکھر رہے ہیں۔ ہماری آنکھیں روشن اسکرینوں پر مرکوز ہیں، مگر دلوں میں اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

انسان کی اصل طاقت اس کی روح، اس کا وجدان اور اس کی تخلیقی بے چینی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو اسے محض حیاتیاتی وجود سے بلند کرکے ایک باشعور ہستی بناتے ہیں۔ مشین چاہے کتنی ہی ترقی کر لے، وہ محبت محسوس نہیں کر سکتی، وہ دعا نہیں مانگ سکتی، وہ قربانی نہیں دے سکتی۔ اگر ہم نے اپنی ان خصوصیات کو نظر انداز کر دیا تو ہم اپنی برتری خود کھو دیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو دشمن نہیں بلکہ محتاط معاون کے طور پر دیکھیں۔ ہمیں ٹیکنالوجی کے استعمال اور انسانی شعور کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔ تعلیمی نظام کو ایسا بنانا ہوگا جو صرف معلومات فراہم نہ کرے بلکہ تنقیدی سوچ، اخلاقی بصیرت اور تخلیقی جرات کو فروغ دے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کتنی آگے جائے گی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنی انسانیت کو برقرار رکھ پائے گا؟ اگر ہم نے اپنی سوچنے کی صلاحیت کو زندہ رکھا، اپنی حسِ لطیف کی حفاظت کی اور اپنی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کیا تو یہی ٹیکنالوجی ہماری ترقی کا ذریعہ بنے گی۔ لیکن اگر ہم نے سہولت کے عوض اپنی بصیرت قربان کر دی، تو وہ دن دور نہیں جب انسان اپنی ہی تخلیق کے سائے میں سکڑ کر رہ جائے گا۔

فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے، ہمیں مشینوں کا مالک بننا ہے یا ان کا محتاج۔

Check Also

Mehangai Mein Dam Torti Zindagi

By MA Tabassum