Roze Ka Haqiqi Maqsad
روز ے کا حقیقی مقصد

روزہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ روز ے سن دو ہجری میں فرض کیا گے۔ کیا ہمیں معلوم ہے کہ روزے کا حقیقی مقصد کیا ہے؟ آج ہم 21ویں صدی میں رہ رہے ہیں۔ جس صدی میں ہمیں ہر چیز کی انفارمیشن آسانی سے مل جاتی ہے۔ اس کے باوجود بھی ہمارے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ ہم اپنے فرائض کو جاننے کے لیے علم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ہم نے تو بس سنی سنائی باتوں پر یقین کر لینا ہے۔ وہ بھی بغیر تصدیق کیے۔ کیا روزے کا مقصد صرف بھوکے پیاسے رہنا ہے؟
روزے کا حقیقی مقصد بھوکے پیاسے رہنا نہیں ہے۔ بلکہ ان لوگوں کا احساس کرنا ہے جو پتہ نہیں کتنے دنوں تک بھوکے رہتے ہیں۔ جن کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے اس کھانے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جو ہم ضرورت سے زیادہ کھا جاتے ہیں۔ پھر بھی ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہم مر گئے ہم بھوکے رہ گئے ہمارے پاس کچھ نہیں۔ کیا یہ سب کہنے سے پہلے ہمیں اپنے جملوں پر اور اپنے دسترخوان پر توجہ نہیں دینی چاہیے؟
ہمیں اپنے دسترخوان کو توجہ سے دیکھنا چاہیے اور سوچنا نہیں چاہیے۔ کیا ہم نے اس کھانے کے لیے اتنی محنت کی ہے؟ کیا یہ کھانا ہماری صحت کے لیے بہترین ہے؟ کیا اتنا زیادہ دسترخوان سجانے سے زیادہ یہ ضروری نہیں کہ ہم کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دیں۔ کسی کی ضرورت پوری کرنا ان کھانوں سے زیادہ ضروری نہیں جنہیں کھانے کے بعد ہمیں معدے کے مسائل گیس اور ڈائجسٹ نہ ہونے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم جانتے ہیں رمضان میں ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا ثواب ڈبل ملے گا۔ تو کیا تصویر کا صرف ایک رک دیکھنا چاہیے؟ کیا ہمیں غور نہیں کرنا چاہیے کہ اگر چھوٹی سے چھوٹی نیکی پر ڈبل ثواب ہے تو تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے گناہ کی سزا بھی ڈبل ہوگی۔
ہمیں کوشش کرنی چاہیے جہاں ہماری چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا ثواب ڈبل ہے۔ وہاں ہمارے دلوں میں اس بات کا ڈر بھی لازمی ہونا چاہیے کہ چھوٹے سے چھوٹے گناہ کی سزا بھی ڈبل ہوگی۔ رمضان تمام مہینوں سے بہترین مہینہ ہے۔ اللہ تعالی نے اس میں سیل لگائی ہوتی ہے نیکیوں کی سیل ہمدردی کی سیل محبتوں کی سیل احساسات کی سیل اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ رمضان ہمدردی احساس اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا مہینہ ہے اس کو سستی، کاہلی اور کام چوری میں نہ گزاریں۔ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی سے دعائیں کریں اپنی صحت مانگیں اپنی زندگی میں سکون مانگے عمل والا علم مانگے اپنے اچھے نصیب مانگے نصیب کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں کریں۔ اپنی دعاؤں میں اپنے اساتذہ کرام اپنے والدین اپنے دوست احباب ہمسایوں کو اور خود کو ضرور شامل رکھیں۔
اللہ تعالی سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔ اللہ تعالی آپ سب کو اور مجھے روزے کا حقیقی مقصد سمجھنے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں شامل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالی یہ رمضان برکتوں والا خوشیوں والا اور رحمتوں والا کرے اور ہم سب کو اس میں نیکیاں کرنے اور انسانیت پر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں انسان ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بننے کی بھی توفیق دے۔ کیونکہ انسان ہونے اور انسان بننے میں زمین اسمان کا فرق ہے۔ رمضان میں خصوصی دعا کریں کہ اللہ تعالی ہمیں انسان ہونے سے انسان بننے تک کا سفر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یاد رکھیں روزے کا مقصد صرف بھوکے پیاسے رہنا ہی نہیں بلکہ خود کو نفس خواہشات سے بچانا ہے۔ اللہ تعالی نے یہ ساری دنیا انسانوں کے لیے ہی بنائی ہے مگر یاد رکھیں ایک اور دنیا ہے جو ہمیشہ کے لیے ہے کوشش کریں رمضان میں بلکہ رمضان کے بعد بھی اس دنیا میں گزارنے والی زندگی کے قابل بنے۔ جو زندگی ہمیشہ کی ہے یہاں پہ کسی کو جواب دینے کی ضرورت نہیں اپنی آخرت کے جوابوں کی تیاری کریں۔ اپنا دسترخوان صرف اپنے لیے وسیع کریں بلکہ دوسروں کے لیے بھی وسیع کریں۔ جتنا سحری اور افطاری خانے کا ثواب ہے اتنا ہی سحری بنانے اور افطاری کروانے کا ثواب ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اگر ہم روزہ نہیں رکھ پا رہے ہماری صحت اگر ہمارا ساتھ نہیں دے رہی تو ہم کسی کو روزہ رکھوا دیں یا کسی کو افطاری کروا دیں لیکن یہ عمل بھی صرف اللہ کی ذات کو راضی کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کے رزق میں برکت ڈالے اور ہمیں بانٹنے کی توفیق عطا کرے۔

