Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Uran Bharta Hua Khwabon Ka Parinda: Maryam Ka Jahaz Nahi Ye Pakistan Ki Parwaz Hai

Uran Bharta Hua Khwabon Ka Parinda: Maryam Ka Jahaz Nahi Ye Pakistan Ki Parwaz Hai

اڑان بھرتا خوابوں کا پرندہ: مریم کا جہاز نہیں، یہ پاکستان کی پرواز ہے

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب اصل معرکہ وسائل کا نہیں، رویّوں کا ہوتا ہے۔ چیزیں وہی رہتی ہیں، اعداد و شمار بھی وہی، مگر تعبیر بدل جائے تو تقدیر بدلنے لگتی ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ نہیں کہ وسائل کم ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہی وسائل کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کوئی نئی سڑک بنے تو سوال، کوئی یونیورسٹی قائم ہو تو شبہ، کوئی جدید منصوبہ آئے تو اعتراض۔ حالانکہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنے خوابوں پر پہلے یقین کرتی ہیں، پھر دنیا کو یقین دلانے نکلتی ہیں۔ ہم نے مگر الٹی ترتیب اختیار کر لی ہے، پہلے دنیا کی رائے پوچھتے ہیں، پھر اپنے دل کی آواز سنتے ہیں۔ یہ جو ہر کامیابی کے سامنے ایک مستقل سا طنز کھڑا ہو جاتا ہے، یہی دراصل وہ حسد ہے جو اجتماعی اعتماد کو چاٹ جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاس موجود نعمتوں کو کس آنکھ سے دیکھتے ہیں۔

پاکستان کو غریب کہنے والوں کی فہرست طویل ہے اور بدقسمتی سے اس میں ہمارے اپنے لوگ بھی شامل ہیں۔ مگر دولت صرف خزانے کے اعداد کا نام نہیں، وسائل صرف زمین کے نیچے چھپے ذخائر کا نام نہیں اور طاقت صرف ہتھیاروں کی گنتی سے نہیں ناپی جاتی۔ دولت انسان بھی ہوتے ہیں، ان کی صلاحیتیں بھی، ان کے خواب بھی، ان کی محنت بھی۔ یہ ملک نوجوانوں کی توانائی سے مالا مال ہے، زرعی زمینوں کی زرخیزی سے لبریز ہے، پہاڑوں، دریاؤں، بندرگاہوں اور راستوں کی نعمت سے سرفراز ہے۔

تعلیم کے میدان میں ہمارے بیٹے بیٹیاں دنیا کی بہترین جامعات تک پہنچے، سائنس و ٹیکنالوجی میں نام پیدا کیا، کھیل کے میدان میں پرچم بلند کیا، دفاع کے شعبے میں خود انحصاری کی مثال قائم کی۔ وقت آنے ہر دشمن کو دھول چٹائی۔ اگر ہم نے کسی شعبے میں پیچھے رہ کر نقصان اٹھایا بھی ہے تو اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں، سمت کی کمی اور اعتماد کی کمی ہے۔ جس قوم نے نامساعد حالات میں ایٹمی صلاحیت حاصل کی، جس نے زلزلوں اور سیلابوں کے بعد خود کو سنبھالا، جس نے بیرونِ ملک جا کر اپنی محنت سے شناخت بنائی، وہ قوم اگر خود کو غریب کہنے لگے تو یہ غربت نہیں، ذہنی شکست ہے۔

آج جب کوئی جدید منصوبہ سامنے آتا ہے، مثلاً ایک نیا اور نسبتاً آرام دہ طیارہ، تو بحث فوراً اس نہج پر چلی جاتی ہے کہ یہ ضرورت ہے یا عیاشی؟ یہ عوام کا پیسہ ہے یا نمائشی شان؟ سوال اٹھانا جمہوری حق ہے، مگر ہر چیز کو محض حسد یا طنز کی عینک سے دیکھنا انصاف نہیں۔ اگر ایک صوبہ یا حکومت اپنی انتظامی ضروریات، سفارتی روابط یا سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جدید سفری سہولت اختیار کرتی ہے تو اسے صرف طبقاتی نفرت کی نظر سے کیوں دیکھا جائے؟ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ دنیا کے فیصلے بند کمروں میں نہیں، تیز رفتار سفروں میں بھی ہوتے ہیں؟ عالمی سرمایہ کار وقت دیکھتا ہے، سہولت دیکھتا ہے، پیشہ ورانہ معیار دیکھتا ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو اسی معیار پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ کو بھی اسی سطح تک لے جانا ہوگا۔ لگژری ہمیشہ عیاشی نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ اعتماد کی علامت بھی ہوتی ہے، یہ اعلان بھی کہ ہم پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔

ہماری سڑکوں پر چلتی جدید بسیں ہوں یا موٹرویز کا جال، کبھی یہ سب خواب لگتا تھا۔ ایک وقت تھا جب ہم حیرت سے پڑھا کرتے تھے کہ مغرب میں کون سی کار ٹیکسی کے طور پر استعمال ہو رہی ہے اور آج ہمارے شہروں میں وہی گاڑیاں عام سواری بن چکی ہیں۔ یہ تبدیلی محض دولت سے نہیں آئی، وژن سے آئی، منصوبہ بندی سے آئی اور سب سے بڑھ کر اس یقین سے آئی کہ ہم بہتر کے مستحق ہیں۔ اگر کل ہم بزنس کلاس کو صرف ہوائی جہازوں تک محدود سمجھتے تھے اور آج زمینی سفر میں بھی ہوائی سفر جیسی سہولت اور وقار دیکھتے ہیں تو یہ ذہنی ارتقا ہے۔ اسی طرح اگر آج ایک جدید طیارہ ہمارے افق پر نمودار ہوتا ہے تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم خود کو ہمیشہ تیسرے درجے کی سہولتوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں؟ قومیں جب خود کو بڑے خوابوں کا اہل سمجھنے لگتی ہیں تو پھر بڑے وسائل بھی ان کے حصے میں آتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیے کہ ریاستی اخراجات ہمیشہ صرف دکھائی دینے والی چیزوں تک محدود نہیں ہوتے۔ دفاعی بجٹ ہو، تربیت ہو، جدید ٹیکنالوجی ہو، تحقیق ہو، یہ سب اخراجات قومیں دہائیوں تک برداشت کرتی ہیں کیونکہ انہیں اپنی سلامتی اور وقار عزیز ہوتا ہے۔ پاک فضائیہ کے سیکنڑوں جدید طیارے، ان کی تربیت، ان کے ریفریشر، ان کی دیکھ بھال، ان کا فیول، یہ سب کچھ ہم برسوں سے برداشت کر رہے ہیں اور فخر سے کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اس کے بغیر بقا ممکن نہیں۔ اسی طرح ترقی کے دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کو محض خرچ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر خرچ کا ایک مقصد ہوتا ہے، سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس مقصد کو سمجھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر نیت اور نظام شفاف ہوں تو جدیدیت پر اعتراض نہیں، بلکہ حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

آخر میں بات وہی ہے، دل بڑا کیجیے۔ حسد چھوٹے دلوں کی بیماری ہے اور بڑے خواب بڑے دلوں میں ہی سما سکتے ہیں۔ اگر کوئی طیارہ ہماری فضاؤں میں اڑتا ہے تو وہ کسی ایک فرد کا نہیں، اس ریاست کی علامت ہے جس کے ہم سب شہری ہیں۔ آج شاید ہم میں سے ہر شخص اس میں سفر نہ کرے، مگر امکانات کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ کل ہماری اولادیں کریں گی، ہمارے طالب علم کریں گے، ہمارے سرمایہ کار کریں گے۔ قومیں اپنے اثاثے ہینڈ بیگ میں ڈال کر ساتھ نہیں لے جاتیں، وہ یہیں رہتے ہیں، نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ ہمیں ہر نئی چیز کو شک کی نظر سے نہیں، اعتماد کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں وہی ممکن ہوتا ہے جس پر قومیں اجتماعی طور پر یقین کر لیں۔ اگر ہم نے یقین کر لیا کہ ہم افورڈ کر سکتے ہیں، ہم مستحق ہیں، ہم اہل ہیں، تو یقین مانیے آسمان بھی ہمارے ہوں گے۔

یہ کالم قومی اعتماد، اجتماعی نفسیات اور ترقی کے بارے میں ہمارے رویّوں کا جائزہ ہے۔ مقصد کسی فرد یا جماعت کی مدح نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کی نشان دہی ہے جو ہمیں اپنی ہی کامیابیوں سے بدظن کر دیتی ہے۔

دل کو کشادہ رکھ، نظر کو بھی جلا دے تُو
حسد کی گرد جھاڑ، آئینہ بنا دے تُو

یہ جو اڑان بھرتا ہے خوابوں کا اک پرندہ
ڈر مت، اسے بھی اپنے آنگن میں بلا دے تُو

جو آج دسترس میں نہیں، کل ہو بھی سکتا ہے
امکان کے چراغوں کو دل میں جلا دے تُو

یہ ملک تیرا بھی ہے، میرا بھی، سبھی کا ہے
شکوہ نہیں، دعا کو لبوں پر سجا دے تُو

آسمان دور سہی، حوصلہ تو پاس رکھ
یقیں کی ایک چنگاری سے معجزہ دے تُو

میں اس خوبصورت جہاز کے دفاع میں اس کے باوجود لکھ رہا ہوں کہ میرا ضلع موجودہ وزیراعلیٰ کے تیز رفتار ترقی کرتے صوبے کا سب سے محروم ضلع ہے۔ میرے ضلع تلہ گنگ کو تاحال وہ توجہ نصیب نہیں ہو سکی جس کی اسے بجا طور پر توقع تھی۔ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں اس دور میں جو ترقیاتی منصوبے، سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور سفری سہولتیں پہنچ چکی ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں اور ان پر ہمیں دلی خوشی ہے، کیونکہ جہاں بھی بہتری آتی ہے وہ ہمارے ہی صوبے اور ہمارے ہی ملک کا حصہ ہوتی ہے۔

تاہم یہ بھی ہمارا شہری اور اخلاقی فرض ہے کہ جہاں محرومی باقی ہو اسے مؤدبانہ انداز میں وزیراعلیٰ کے نوٹس میں لایا جائے۔ متعدد یاد دہانیوں کے باوجود میرا ضلع تلہ گنگ آج بھی اُن بہت سی سہولتوں سے محروم ہے جو پنجاب کے دیگر علاقوں کو میسر آ چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود جو بھی خوبصورت اور مثبت اضافہ، خواہ وہ ایک جدید طیارہ ہو یا کوئی اور منصوبہ، میرے صوبے اور میرے ملک کا حصہ بنتا ہے، اس پر خوشی کا اظہار میرا فرض ہے اور ہمیں ہر اُس شخص کا شکر گزار ہونا چاہیے جو کسی بھی سطح پر اس ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

Check Also

Rishta Jab Khof Ban Jaye

By Amer Abbas