Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asma Hassan
  4. Na Umeedi Se Umeed Tak Ka Safar

Na Umeedi Se Umeed Tak Ka Safar

ناامیدی سے امید تک کا سفر

زندگی میں ہم مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور حالات کو اپنی ناکامی کی وجہ ٹھہراتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کامیاب ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے حالات نہیں ہوتے بلکہ ہماری اپنی سوچ ہوتی ہے۔ اسی لیے سوچ پر زیادہ کام کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ ہمارا طرزِ عمل ہی ہوتا ہے جو ہمیں ناکام اور کامیاب بناتا ہے۔ جب ہم یہ سوچ لیتے ہیں کہ ہم نہیں کر سکتے تو کامیابی کے تمام دروازے ہم خود بند کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم یہ کہیں کہ میں سیکھ لوں گا اور کر لوں گا تو یہی سوچ ہماری تقدیر کا رُخ موڑ دیتی ہے۔ کامیابی اور ناکامی کے درمیان میں صرف ایک سوچ اور ایک جملے کا فاصلہ ہوتا ہے۔

کام کوئی بھی ہو، پہل کرنا یا پہلی دفعہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے عموماً لوگ خود کو کسی کشمکش میں نہیں ڈالتے اور نہ ہی کسی قسم کاخطرہ مول لینے کو تیار ہوتے ہیں۔ بس سیدھا انکار کر دیتے ہیں کہ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے یا یہ کام میں نہیں کر سکتا یا سکتی ہوں کیوں کہ میں نے پہلے کبھی یہ کیا ہی نہیں ہے۔ پہلے کبھی نہیں کیا، تو کیا آپ ساری زندگی وہ کام کریں گے ہی نہیں؟

اب اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ اس کام کے کرنے کی صلاحیتیں اُس شخص میں موجود نہیں ہیں یا وہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس کام کو سرانجام دے سکے بلکہ اس کے پیچھے ان کی فرسودہ سوچ ہوتی ہے جو ان کو یہ باور کرواتی ہے کہ میں نہیں کر سکتا۔ دراصل وہ ناکامی سے ڈرتے ہیں، اپنے آرام دہ ماحول اور ایک معمول سے ہٹ کر کچھ نہیں کرنا چاہتے، ان کے اندر اعتماد کی کمی ہوتی ہے، انھیں اپنی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ نہیں ہوتا، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔

اگر کوئی کام پہلے نہیں کیا ہوا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہر کام کو پہلی بار ہی کیا جاتا ہے تبھی وہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو ڈر بھی کھائے جاتا ہے کہ اگر ہم یہ کام کریں اور ناکام ہو گئے تو کیا ہوگا۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ناکامی کوئی زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ تو سیکھنے کے مرحلے کا پہلا قدم ہے۔ کیونکہ ہم اپنی ناکامیوں سے ہی سیکھتے ہیں۔

کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو کبھی ناکام نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کبھی کوشش کرنا نہیں چھوڑتے، بس ناکام اور کامیاب لوگوں میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے۔

مشہور موجد تھامس ایڈیسن سے جب پوچھا گیا کہ ہزاروں ناکام تجربات کے بعد آپ کیا محسوس کرتے ہیں تو انھوں نے کہا "میں ناکام نہیں ہوا، میں نے بس ہزار طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے"۔

ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میں یہ کام کر ہی نہیں سکتا۔ دراصل میں نہیں کر سکتا ایک بند گلی ہے جبکہ میں سیکھ لوں گا یا میں کر لوں گا ایک امید ہے اور امید ہی زندگی ہے۔

کام یا شعبہ کوئی بھی ہو، کوئی بھی پہلے دن اس کام یا شعبے میں ماہر نہیں بن جاتا بلکہ دن رات کی انتھک محنت اور بار بار کی مشق کرنے سےکئی سالوں بعد وہ ماہر کہلانے کے قابل ہوتا ہے۔

جو شخص یہ سوچ لے کہ مجھے سب معلوم ہے یا میں سب جانتا ہوں یا میں ماہر ہوں، ایسا شخص کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا کیونکہ اس میں سیکھنے کی جستجو نہیں ہوتی۔ وہ سیکھنے کے دروازے ہی خود پر بند کر لیتا ہے۔

زندگی میں ہم ہمیشہ طفلِ مکتب ہی رہتے ہیں کیونکہ زندگی کا ہر لمحہ ہمیں کچھ نہ کچھ نیا سکھاتا ہے۔ ہم روز کسی نہ کسی نئے تجربے سے گزرتے ہیں پھر ان تجربات سے سیکھتے ہوئے کئی مراحل طے کرتے ہیں، مشکل فیصلے کرتے ہیں اور کامیابی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر ہم کچھ نیا کرنے سے گھبرا کر نئے تجربات سے منہ ہی موڑ لیں اور یہ کہہ دیں کہ میں نہیں کر سکتا تو سیکھیں گے کیسے، آگے بڑھیں گے کیسے؟

یہ ہمارا ذہنی رویہ یا طرزِ عمل ہی ہوتا ہے جس میں ہم خود کو ماہر یا کامل سمجھتے ہیں اور دوسروں کو باور کرواتے ہیں کہ ہم برتر ہیں ایسے میں کچھ نیا کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ ہم ناکامی سے ڈرتے ہیں ایسا کچھ کرنا نہیں چاہتے جس سے ہمارا یہ دعوٰی کھوکھلا ثابت ہو جائے۔ اس کے برعکس جب ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ میں تو ابھی سیکھنے کے مرحلے سے گزر رہا ہوں تو غلطی یا ناکامی کا ڈر دل سے نکل جاتا ہے اور ہماری سوچ بدل جاتی ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی بات نہیں جہاں غلطی ہوگی اس کو سدھار لیں گے اور کچھ نہ سہی تجربہ ہی ہو جائے گا۔ ایسے میں ڈریں گے نہیں بلکہ کھل کر سیکھیں گے۔ ظاہر ہے جب کچھ نیا کریں تبھی کچھ نیا سیکھیں گے۔

کوئی بھی شخص یا اس کی سوچ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی کام ایسا ہے جو ہر لحاظ سے بے عیب ہو۔ ہر کام میں کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے جسے نکھارا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہم انسانوں میں بھی عیب ہوتے ہیں جنھیں وقت کے ساتھ ختم جا سکتا ہے۔ لہذا ہماری توجہ سیکھنے پر ہونی چاہیے۔ جیسے اگر کوئی ڈیزائن یا لوگو بنایا جاتا ہے تو اس میں پہلی بار وہ خوبصورتی نہیں ہوتی لیکن جب اس پر بار بار کام کیا جائے تو ہاتھ صاف ہونے لگتا ہے، نئے خیالات ذہن میں آتے ہیں اور وہی لوگو یا ڈیزائن بار بار بنانے پر نکھر کا سامنے آتا ہے اور پھر اسے دیکھتے ہی معلوم بھی ہو جاتا ہے کہ اس پر محنت کی گئی ہے۔ ہر کام چاہے جو بھی ہو محنت اور لگن مانگتا ہے۔ کوئی بھی کام پہلی بارمیں ہر لحاظ سے ٹھیک نہیں ہو جاتا بلکہ وقت کے ساتھ اس میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔

سوچ جب سیکھنے پر مبذول ہوگی تبھی ہم سیکھ سکیں گے۔ کبھی بھی نیا تجربہ کرنے سے خوف زدہ نہ ہوں۔ آج تک سائنس نے جو بھی ترقی کی ہے اور جو ہمیں آسائشیں حاصل ہیں وہ لوگوں کے تجربات سے ہی ممکن ہو سکی ہیں جنہوں نے پہلی بار میں ہی کچھ نہیں بنا لیا بلکہ کئی بار ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد ہی کامیاب ہوئے۔ دراصل ناکامی ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ سیکھنے کے لیے ناکامیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آج کے نوجوانوں کو خصوصی طور پر اپنی سوچ پر کام کرنا چاہیے۔ چاہے امتحان مشکل ہو، مسائل بے شمار ہوں، وسائل کی شدید قلت ہو لیکن اگر ارادہ پختہ ہو اور ہمارے دل و دماغ میں یہ سوچ ہو کہ ہم سیکھ لیں گے، کر لیں گے تو راستے خود بخود بنتے چلے جائیں گے۔ آج تک دنیا میں کوئی ایسا نہیں آیا جو سب سیکھ کر آیا ہو۔ سیکھنے کا عمل ساری زندگی چلتا ہے بلکہ جب مسلسل سیکھنے کے عمل سے گزرتے ہیں تبھی کامیابی کے لیے راستے بنتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو شروع دن سے سکھائیں کہ ہمیشہ، ہر معاملے میں اپنی سوچ کو مثبت رکھیں، تجربات کرنے اور ناکامی سے نہ ڈریں۔ ہمیشہ سیکھنے والی سوچ رکھیں اور ان کو کبھی یہ نہ کہیں کہ تم نہیں کر سکتے بلکہ یہ کہیں کہ کوئی بات نہیں آپ سیکھ جاؤ گے، ابھی نہیں ہو رہا کوئی بات نہیں، وقت کے ساتھ، بار بار کرنے پر سیکھ لو گے کیونکہ زندگی میں سیکھنا ہی سب کچھ ہے۔ اپنی زندگی کا قلم ہمیشہ اپنے ہاتھ میں ہی رکھیں تاکہ وہ لکھ سکیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں اور وہ بن سکیں جو آپ بننا چاہتے ہیں۔

Check Also

Na Umeedi Se Umeed Tak Ka Safar

By Asma Hassan