Khidmat Ka Chiragh
خدمت کا چراغ

ایک قدیم حکایت ہے کہ ایک درویش کسی گاؤں میں پہنچا۔ رات گہری تھی اور راستہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو اپنے دروازے پر ایک چھوٹا سا چراغ جلائے بیٹھی تھی۔ درویش نے پوچھا: "اماں! اس اندھیری رات میں یہ چراغ کیوں جلائے رکھا ہے؟" بوڑھی عورت مسکرائی اور بولی: "بیٹا! یہ چراغ میرے گھر کے لیے نہیں، ان مسافروں کے لیے ہے جو راستہ بھٹک جائیں۔ اگر کسی کی آنکھ کو ذرا سی روشنی بھی مل جائے تو میرا چراغ کامیاب ہے"۔ درویش نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "دنیا اصل میں انہی چھوٹے چراغوں کی روشنی سے آباد ہے"۔
انسانی معاشروں کی اصل بنیاد بھی ایسے ہی چراغوں پر قائم ہوتی ہے، وہ لوگ جو شہرت یا صلے کی خواہش کے بغیر دوسروں کے لیے روشنی بن جاتے ہیں۔ اسی روشنی کی ایک خوبصورت مثال ہمیں چین کے ایک سادہ مگر غیر معمولی انسان کی زندگی میں ملتی ہے، جس کا نام ہے قیان ہائیجون۔ اگر آپ اس شخص کی ڈائری کے اوراق کھولیں تو آپ کو صرف اس کے پیشہ ورانہ فرائض کی روداد نہیں ملے گی بلکہ انسانی ہمدردی کی ایک طویل داستان بھی پڑھنے کو ملے گی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر الیکٹریشن ہے اور چین کی قانون ساز اسمبلی نیشنل پیپلز کانگریس کا رکن بھی ہے، مگر اس کی اصل پہچان اس کی انسان دوستی ہے۔ اس کی نوٹ بک کے صفحات گواہ ہیں کہ اس نے سینتیس برس تک اپنی ملازمت میں دیانت داری سے کام کیا اور ساتھ ہی دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اپنے پڑوسیوں، خصوصاً بزرگوں کی خدمت کو اپنا ذاتی فرض سمجھا۔ اس کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل عظمت بڑے عہدوں میں نہیں بلکہ بڑے دلوں میں ہوتی ہے۔
اس کی ڈائری کے صفحات میں محض سرکاری کاموں کی تفصیل نہیں بلکہ انسانی تعلقات کی حرارت بھی محفوظ ہے۔ کہیں اس نے کسی بوڑھے پڑوسی کے گھر کی بجلی ٹھیک کی، کہیں کسی خراب بلب کو بدل دیا، کہیں کسی تنہا بزرگ کے ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کیں تاکہ اس کا دل بہل جائے۔ کبھی اس نے کسی بیمار ہمسائے کو رات گئے ہسپتال پہنچایا اور کبھی کسی کے گھر کے معمولی گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹایا۔ بظاہر یہ کام چھوٹے نظر آتے ہیں، مگر درحقیقت یہی چھوٹی چھوٹی نیکیاں معاشروں کے اخلاقی ڈھانچے کو مضبوط کرتی ہیں۔ آج کے دور میں جب انسان تیزی سے اپنی ذات کے حصار میں قید ہوتا جا رہا ہے، اس شخص کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے ان خدمات کو محض انجام ہی نہیں دیا بلکہ انہیں اپنی نوٹ بک میں محفوظ بھی کیا۔ یہ تحریریں دراصل ایک انسان کے ضمیر کی آواز ہیں۔ اس نے ہر اس لمحے کو قلم بند کیا جب اس نے کسی بزرگ کے چہرے پر سکون کی مسکراہٹ دیکھی۔ اس کی ڈائری دراصل انسانی محبت کی ایک خاموش تاریخ ہے۔ وہ جانتا تھا کہ عمر کے آخری حصے میں انسان کو صرف دوا یا سہولت نہیں بلکہ توجہ، محبت اور احترام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی کام کے لیے وقف کر دیا کہ معاشرے کے بزرگ خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔ اس کی زندگی اس حقیقت کی عملی تفسیر ہے کہ تہذیبیں صرف عمارتوں اور معیشت سے نہیں بلکہ انسانوں کے باہمی تعلقات سے بنتی ہیں۔
اس سال جب وہ اپنی ڈیوٹی نوٹ بک کے ساتھ قومی سطح کے اجلاسوں میں شریک ہوا تو اس نے معاشرے کے سامنے ایک اہم سوال رکھا۔ اس نے کہا کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی زیادہ فکر کرنی چاہیے اور انہیں جدید ڈیجیٹل زندگی میں بھی شامل کرنا چاہیے۔ آج دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے۔ بینکنگ، خرید و فروخت، معلومات اور رابطے، سب کچھ موبائل اسکرینوں میں سمٹتا جا رہا ہے۔ مگر اس تیز رفتار تبدیلی کے بیچ اکثر بزرگ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان کے لیے یہ نئی دنیا اجنبی اور پیچیدہ محسوس ہوتی ہے۔ اس شخص نے اس مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ایک مہذب معاشرے کا فرض ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کو اس نئے نظام میں شامل کرے تاکہ وہ تنہائی اور محرومی کا شکار نہ ہوں۔ یہ دراصل ایک وسیع تر انسانی وژن ہے، ایسا وژن جس میں ترقی کا مطلب صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسان کی عزت اور وقار بھی ہے۔
اگر ہم غور کریں تو یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک اجتماعی پیغام ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو خاموشی سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ وہ کسی اخبار کی شہ سرخی نہیں بنتے، مگر ان کے بغیر معاشرہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں کمزور، بیمار اور بزرگ افراد بھی خود کو محفوظ اور محترم محسوس کریں۔ اگر کسی شہر کی گلیوں میں ایسے لوگ موجود ہوں جو رات کے اندھیرے میں کسی بیمار کو ہسپتال پہنچا دیں، کسی تنہا شخص کے ساتھ چند لمحے بیٹھ جائیں یا کسی کے گھر کی ٹوٹی ہوئی روشنی کو ٹھیک کر دیں تو وہ شہر دراصل انسانیت کے چراغوں سے روشن ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور گہری حقیقت بھی پوشیدہ ہے۔ خدمت دراصل ایک روحانی عمل ہے۔ جب انسان دوسروں کے لیے کچھ کرتا ہے تو وہ اپنے اندر ایک عجیب سی طمانیت محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے بڑے انسانوں نے ہمیشہ خدمت کو اپنی زندگی کا شعار بنایا۔ وہ جانتے تھے کہ انسان کے پاس دنیا میں آنے کا اصل مقصد صرف اپنی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ایسے لوگ معاشرے کے اخلاقی معمار ہوتے ہیں۔ وہ خاموشی سے وہ کام کرتے ہیں جو دراصل پوری تہذیب کو مضبوط بناتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایک عام آدمی بھی غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔ نہ اس کے پاس بے پناہ دولت ہوتی ہے اور نہ غیر معمولی طاقت، مگر اس کے پاس ایک چیز ضرور ہوتی ہے، انسانی ہمدردی۔ یہی ہمدردی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو مہذب بناتا ہے۔ اگر ہر محلے میں ایک ایسا شخص موجود ہو جو اپنے بزرگ پڑوسیوں کا خیال رکھے، ان کے لیے چھوٹے چھوٹے کام انجام دے اور انہیں احساس دلائے کہ وہ معاشرے کا اہم حصہ ہیں تو دنیا کی بہت سی تنہائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔
ہماری اپنی تہذیب اور مذہبی روایت بھی اسی اصول کی تعلیم دیتی ہے۔ اسلام نے پڑوسی کے حقوق کو اس قدر اہم قرار دیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں بھی حصہ دیا جائے گا۔ اس تعلیم کے پس منظر میں دراصل یہی فلسفہ ہے کہ معاشرہ صرف قانون سے نہیں بلکہ محبت اور ہمدردی سے قائم رہتا ہے۔ اگر انسان اپنے پڑوسی کے درد کو محسوس کرے تو بہت سی سماجی بیماریاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
خدمت ایک خاموش عبادت ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو انسان کے دل میں جلتی ہے اور دوسروں کی زندگیوں کو منور کر دیتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں وہ دراصل زمین پر رحمت کے سفیر ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے جلنے والے چراغ معاشروں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
چراغِ دل سے اگر روشنی تقسیم کرو
تو شہر بھر میں اندھیروں کا نام مٹ جائے
جو دردِ خلق کو اپنا نصیب کر لیتا
وہی تو وقت کے ماتھے پہ نام لکھ جائے
نہ تخت چاہیے اس کو نہ تاج کی خواہش
جو ایک دل کو بھی مسکرانا سکھا جائے
یہی ہے اصل بزرگی، یہی ہے اصل وقار
جو اپنے حصے کا سورج بھی دوسروں کو دے جائے

