Saturday, 13 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Dajla: Ghair Mamooli Hone Ki Waba

Dajla: Ghair Mamooli Hone Ki Waba

دجلہ: غیر معمولی ہونے کی وبا

شفیق الرحمٰن نے اپنی بے مثال کتاب "دجلہ" میں ایک جگہ لکھا ہے: "وہ دن گئے جب بیشتر لوگ نارمل ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب ہر شخص غیر معمولی ہے اور اسے ذہنی الجھنیں پیدا کرنے کا خاص شوق ہے کہ کہیں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائے۔ " یہ ایک مختصر جملہ ہے مگر اپنے اندر پورے عہد کی داستان سمیٹے ہوئے ہے۔ بعض اوقات بڑے فلسفے موٹی موٹی کتابوں میں بیان ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک مزاح نگار چند الفاظ میں زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ دیتا ہے۔ شفیق الرحمٰن نے ہنستے ہنساتے ہوئے ہمارے معاشرے کی ایک ایسی بیماری کی نشاندہی کی ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ انسان ہمیشہ سے منفرد ہونا چاہتا تھا، لیکن آج کا انسان صرف منفرد نہیں ہونا چاہتا بلکہ دوسروں سے زیادہ منفرد نظر آنا چاہتا ہے۔ پہلے لوگ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نمایاں ہوتے تھے، اب نمایاں ہونے کے لیے صلاحیت ضروری نہیں رہی، صرف شور کافی ہے۔ جو جتنا زیادہ شور مچاتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سادگی، اعتدال اور توازن اب انسانی خوبیوں کی فہرست سے خارج ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ مصنوعی پیچیدگی، بناوٹی گہرائی اور خود ساختہ مسائل نے لے لی ہے۔

یہ عجیب زمانہ ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کو ایک معمہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ پہلے لوگ مسئلے حل کرنے کی کوشش کرتے تھے، اب مسائل پیدا کرنے میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ کسی کو اپنی شخصیت میں غیر معمولی پن دکھانا ہے، کسی کو اپنے خیالات میں، کسی کو اپنی گفتگو میں اور کسی کو اپنی زندگی کے انداز میں۔ اگر کوئی شخص مطمئن، متوازن اور خوش حال ہو تو گویا اس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی گہرائی نہیں۔ اب اداسی کو دانش مندی، پریشانی کو حساسیت اور الجھن کو ذہانت کی علامت سمجھ لیا گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ سکون حاصل کرنے کے لیے علم حاصل کرتے تھے، اب بعض لوگ صرف اس لیے علم حاصل کرتے ہیں کہ وہ دوسروں سے زیادہ پریشان نظر آ سکیں۔ زندگی جتنی سادہ ہوتی ہے اتنی ہی قابلِ برداشت ہوتی ہے، لیکن ہم نے اسے غیر ضروری پیچیدگیوں کا شکار بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سہولتوں میں اضافے کے باوجود ذہنی سکون میں کمی آتی جا رہی ہے۔

اس صورتِ حال کا ایک بڑا سبب دوسروں سے مسلسل موازنہ بھی ہے۔ انسان نے جب سے اپنی خوشی کا پیمانہ دوسروں کی زندگیوں کو بنایا ہے تب سے اس کی اپنی زندگی کا لطف ختم ہوگیا ہے۔ اب ہر شخص اپنے آپ کو کسی نہ کسی دوڑ میں شامل سمجھتا ہے۔ یہ دوڑ دولت کی ہو سکتی ہے، شہرت کی، علم کی، مقبولیت کی یا دکھاوے کی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ترقی کرنا چاہتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی منزل خود متعین نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی منزل کو اپنی منزل بنا لیتے ہیں۔ چنانچہ جب انہیں وہ چیز حاصل نہیں ہوتی جو کسی اور کے پاس ہے تو وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ اس ناکامی کے احساس سے بچنے کے لیے پھر وہ اپنے گرد مصنوعی عظمت کا حصار تعمیر کرتے ہیں۔ کوئی خود کو غلط سمجھا گیا نابغہ قرار دیتا ہے، کوئی خود کو معاشرے کا سب سے بڑا مظلوم ثابت کرتا ہے اور کوئی اپنے گرد ایسی پراسراریت پیدا کر لیتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یوں نارمل ہونا گویا ایک عیب بن جاتا ہے اور غیر معمولی نظر آنا ایک ضرورت۔

سماجی ذرائع ابلاغ نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ اب ہر شخص کے پاس ایک ایسا اسٹیج موجود ہے جہاں وہ اپنی زندگی کا صرف وہ حصہ دکھا سکتا ہے جو دوسروں کو متاثر کرے۔ کوئی اپنی کامیابیاں دکھاتا ہے، کوئی اپنی مصروفیات، کوئی اپنی قربانیاں اور کوئی اپنی ذہنی پیچیدگیاں۔ آہستہ آہستہ حقیقت اور نمائش کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔ لوگ اصل زندگی کم اور اس کی تشہیر زیادہ جینے لگتے ہیں۔ ہر تصویر ایک پیغام بن جاتی ہے اور ہر پیغام کے پیچھے ایک خواہش چھپی ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں غیر معمولی سمجھیں۔ اس دوڑ میں سب سے زیادہ نقصان اس شخص کا ہوتا ہے جو سادہ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ شاید وہ کچھ کھو رہا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ جو شخص اپنی زندگی کے ساتھ مطمئن ہے، جو اپنی حیثیت اور صلاحیت کو پہچانتا ہے اور جو دوسروں سے مسلسل مقابلہ نہیں کرتا، وہ دراصل زیادہ خوش نصیب ہوتا ہے۔ مگر ایسے لوگ خاموش ہوتے ہیں اور خاموشی کبھی سرخیاں نہیں بنتی۔

تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عظیم لوگ غیر معمولی نظر آنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ ان کی عظمت ان کے کردار، علم، خدمت اور اخلاص سے ظاہر ہوتی تھی۔ انہیں اپنے بارے میں مسلسل اعلان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ وہ اپنی توانائیاں اپنی ذات کی تشہیر کے بجائے اپنے کام پر صرف کرتے تھے۔ آج صورتحال الٹ چکی ہے۔ کام کم اور تشہیر زیادہ ہے۔ صلاحیت سے زیادہ تاثر کی اہمیت ہے۔ گہرائی سے زیادہ نمائشی گہرائی کا چرچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذہنی دباؤ، بے اطمینانی اور احساسِ محرومی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انسان اپنی اصل شخصیت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ وہ دوسروں کی نظر میں بڑا بننے کی کوشش میں اپنی ہی نظر سے گرنے لگتا ہے۔ اس کے پاس دنیا کو دکھانے کے لیے ایک شخصیت ہوتی ہے اور تنہائی میں جینے کے لیے دوسری۔ یہ تضاد آخرکار اسے اندر سے تھکا دیتا ہے۔

شفیق الرحمٰن کا جملہ بظاہر مزاحیہ ہے لیکن اس کے پس منظر میں ایک سنجیدہ پیغام پوشیدہ ہے۔ شاید ہمیں دوبارہ نارمل ہونے کا ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے۔ نارمل ہونا معمولی ہونا نہیں بلکہ متوازن ہونا ہے۔ اپنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کو قبول کرنا، اپنی رفتار سے زندگی گزارنا، غیر ضروری مقابلوں سے دور رہنا اور مصنوعی الجھنوں کے بجائے حقیقی مسائل پر توجہ دینا ہی ذہنی سکون کا راستہ ہے۔ دنیا میں وہی لوگ دیرپا اثر چھوڑتے ہیں جو اپنی حقیقت کے ساتھ جیتے ہیں، نہ کہ وہ جو ہر وقت غیر معمولی نظر آنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ زندگی کوئی اسٹیج نہیں جہاں ہر لمحہ داد وصول کرنا ضروری ہو۔ زندگی ایک امانت ہے جسے دیانت داری، سادگی اور توازن کے ساتھ گزارنا ہی اصل کامیابی ہے۔ شاید اسی لیے آج کے شور بھرے زمانے میں سب سے غیر معمولی انسان وہی ہے جو نارمل رہنے کی ہمت رکھتا ہے۔

Check Also

Awami Action Committee Aik Fitna

By Hameed Ullah Bhatti