Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sher Azam
  4. Rishton Ki Bujhti Hui Aanch

Rishton Ki Bujhti Hui Aanch

رشتوں کی بجھتی ہوئی آنچ

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں رشتے مرتے نہیں، صرف آہستہ آہستہ ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب دروازوں پر تالے کم اور دستکیں زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ جب ایک گھر کی خوشی پورے خاندان کی خوشی سمجھی جاتی تھی اور ایک گھر کے دکھ پر کئی گھروں کی آنکھیں نم ہو جایا کرتی تھیں۔ تب رشتے صرف خونی تعلق نہیں تھے، وہ ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہوئے دلوں کا نام تھے۔

پھر نہ جانے کیا ہوا؟ کب انا رشتوں سے بڑی ہوگئی، کب ضد نے محبت کو نگل لیا اور کب خاندانوں کے درمیان خاموش دیواریں کھڑی ہونا شروع ہوگئیں، کسی کو خبر ہی نہ ہوئی۔

آج ایک ہی شجر کے سائے تلے کھڑے لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہیں۔ ایک ہی خون رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی کامیابیوں سے بے چین اور ناکامیوں سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ خاندان اب ایک جسم نہیں رہا، بلکہ کئی حصوں میں بٹا ہوا وجود بن چکا ہے جہاں ہر حصہ دوسرے کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے۔

اصل المیہ یہ نہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ اصل المیہ تو یہ ہے کہ رشتوں میں خلوص کی جگہ مقابلے نے لے لی ہے۔

آج اگر خاندان کا کوئی فرد ترقی کر جائے، عزت پا لے، کاروبار میں کامیاب ہو جائے یا کسی امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کر لے تو مبارکباد کے الفاظ تو ادا کر دیے جاتے ہیں، لیکن بعض دلوں میں حسد کے ننھے ننھے سانپ کروٹیں لینے لگتے ہیں اور اگر وہی شخص کسی دن ٹھوکر کھا جائے، کسی میدان میں ہار جائے یا کسی مشکل میں گرفتار ہو جائے تو بعض چہروں پر افسوس کا پردہ ضرور ہوتا ہے، مگر دل کے کسی تاریک گوشے میں ایک انجانی سی خوشی چراغ جلا دیتی ہے۔

یہ خوشی زبان پر نہیں آتی۔ یہ آنکھوں میں بھی پوری طرح دکھائی نہیں دیتی۔ مگر یہ دلوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا ضرور کر دیتی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس کا علاج کسی دوا کی دکان پر نہیں ملتا۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ نفرتیں اور رقابتیں اب وراثت بننے لگی ہیں۔ ایک نسل ناراض ہوتی ہے اور دوسری نسل وجہ جانے بغیر ناراضگی سنبھال لیتی ہے۔ دادا کا جھگڑا پوتے کی دشمنی بن جاتا ہے، چچا کی ناراضی بھتیجے کے رویے میں منتقل ہو جاتی ہے اور یوں ایک دن ایسا آتا ہے کہ دشمنی تو باقی رہ جاتی ہے مگر دشمنی کی وجہ دنیا سے رخصت ہو چکی ہوتی ہے۔

اور شاید رشتوں کا سب سے دردناک پہلو یہی ہے کہ بعض اوقات ہم اُن لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں جنہوں نے کبھی ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا ہوتا۔ ہمیں ایک کہانی سنائی جاتی ہے، ایک رخ دکھایا جاتا ہے، ایک شکوہ ورثے میں ملتا ہے اور ہم بغیر دوسری طرف کی آواز سنے فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ یوں ایک نوجوان، جو کل تک سب کا تھا، آج ایک فریق کی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ اُس شخص سے بھی اجنبیت محسوس کرنے لگتا ہے جس نے کبھی اس کے بچپن پر محبت کے پھول برسائے تھے۔

کتنا عجیب ہے کہ بعض اوقات ہم اپنی زندگی کے قیمتی ترین رشتے خود نہیں کھوتے، ہمیں ان سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ہم اُن لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں جنہوں نے ہمارے لیے دعائیں کی تھیں، صرف اس لیے کہ کسی زمانے میں دو بڑوں کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔

پھر برسوں بعد کسی شادی کی محفل میں، کسی جنازے کے سکوت میں یا کسی ہسپتال کے کمرے میں اچانک احساس ہوتا ہے کہ ہم جن لوگوں کو غیر سمجھتے رہے، وہ تو ہمارے اپنے تھے۔ مگر تب اکثر وقت ہمارے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل چکا ہوتا ہے۔

یہیں سے نوجوان نسل کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر والدین، بزرگ یا خاندان کے دیگر افراد کسی تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں تو کیا نوجوانوں کا فرض بھی یہی ہے کہ وہ نفرتوں کا پرچم اٹھا لیں؟ کیا تعلیم صرف ڈگری لینے کا نام ہے یا سوچ کو وسیع کرنے کا بھی؟ کیا ایک پڑھے لکھے نوجوان کو محض ایک فریق بن جانا چاہیے یا پھر اسے ایک پل بننے کی کوشش کرنی چاہیے؟

میرا ماننا ہے کہ نوجوان نسل کو اپنے بزرگوں کی عزت بھی کرنی چاہیے اور ان کی غلطیوں کو دہرانے سے بھی بچنا چاہیے۔ کیونکہ احترام اور اندھی تقلید دو الگ چیزیں ہیں۔

جو نوجوان نفرتوں کے قافلے میں شامل ہو جاتا ہے، وہ مسئلے کا حصہ بن جاتا ہے اور جو نوجوان محبت کا راستہ چنتا ہے، وہ حل کا آغاز بن جاتا ہے۔

خاندانوں کو جوڑنے والے لوگ ہمیشہ بڑے عہدوں والے نہیں ہوتے۔ اکثر ایک نرم لہجہ، ایک مخلص فون کال، ایک بے غرض ملاقات یا ایک سچی معافی وہ کام کر جاتی ہے جو برسوں کی دلیلیں نہیں کر پاتیں۔

افسوس یہ ہے کہ ہم جیتنے کے شوق میں رشتے ہار رہے ہیں۔ ہم ثابت تو کر دیتے ہیں کہ قصور کس کا تھا، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ نقصان سب کا ہوگیا۔ ہم اپنی انا بچا لیتے ہیں، مگر اپنے لوگ کھو دیتے ہیں اور زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ انسان کو اکثر رشتوں کی قیمت اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب رشتے باقی نہیں رہتے۔

قبروں پر جا کر رونے والے بہت ہیں، مگر زندہ لوگوں کو گلے لگانے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ وقت ابھی بھی ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔ ابھی بھی بہت سے گھر ایسے ہیں جہاں محبت کی چنگاری راکھ کے نیچے موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ کوئی ایک شخص اپنی انا سے بلند ہو جائے، کوئی ایک دل معاف کر دے اور کوئی ایک زبان خیر کا لفظ ادا کر دے۔ کیونکہ خاندان نفرت سے نہیں، درگزر سے چلتے ہیں۔

رشتے حق جتانے سے نہیں، حق چھوڑنے سے مضبوط ہوتے ہیں اور محبت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ کبھی ہار کر بھی جیت جاتی ہے۔

شاید آج ہمارے معاشرے کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو نفرتوں کی وراثت قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ جو اپنے بڑوں کی عزت تو کریں مگر ان کی ناراضگیوں کو اپنی تقدیر نہ بنائیں۔ جو دیواروں کے وارث نہیں بلکہ پلوں کے معمار بنیں۔ کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی غربت پیسوں کی نہیں، رشتوں کی ہوتی ہے اور سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان دنیا سے چلا جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے دلوں سے زندہ رہتے ہوئے نکل جائے۔

خدا نہ کرے کہ ایک دن ہماری آنے والی نسلیں پرانی تصویروں میں مسکراتے ہوئے چہروں کو دیکھ کر یہ پوچھیں: "یہ لوگ کون تھے؟"

اور جواب میں کوئی آہ بھر کر کہے: "بیٹا! یہ ہمارے اپنے تھے۔۔ مگر ہم انہیں سنبھال نہ سکے"۔

Check Also

Sohail Bhai Ke Column

By Najam Wali Khan