Salfiyat Nama
سلفیت نامہ

ایک دفعہ ہم استاد محترم قبلہ خلیل الرحمٰن چشتی صاحب کے ہاں اسلام آباد بیٹھے ہوئے تھے۔۔ چشتی صاحب بڑے بذلہ سنج قسم کی طبیعت کے مالک ہیں ایسے ایسے فقرے چست کرتے ہیں ہنسی بھی ہانپنے لگ جاتی ہے۔۔
ایک دفعہ سورۃ البقرہ میں بیان کردہ خدا اور فرشتوں کے درمیان تخلیق آدم کے موقع پر کا مکالمہ زیر بحث تھا کہ کیسے فرشتے آدم کی تخلیق پر اپنے اندیشے ظاھر کر رہے تھے کہ یہ خون بہائے گا وغیرہ۔۔
اس پر ایک دوست نے کچھ سوال کیے تو چشتی صاحب نے دریا کوزے میں بند کرتے ہوئے کہا۔۔
"بیٹا فرشتے تھے اہلحدیث"
اور ساری محفل کشت زعفران بن گئی۔
سلفیوں پر لکھتے ہوئے مجھے تھوڑی بہت رعایت اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ میں خود خاصا نسلی قسم کا سلفی ہوں۔۔ چہ جائیکہ کہ گمراہی کے کئی درے پھلانگنے کے بعد بھی حالت یہ ہے کہ جہاں رفع یدین کی تبلیغ کرنے کا موقع مل جائے تو چونکتا نہیں۔۔
اکثر خشوع و خضوع سے یہ کوشش ہوتی ہے کسی مقلد کے نرخرے پر موحدانہ ضرب لگا کر اس سے آمین بالجہر برآمد کر سکوں۔۔ یا ختم کا لنگر ڈکارتے ہوئے جب شکم میں چانپوں پر کھوئے والے حلوے کی تہہ چڑھا لوں تو کوشش ہوتی ہے بدعات پر سیر حاصل گیان پیل سکوں۔۔
کیا کروں یہ فرقہ ہے ہی لت ایسی۔۔ سارے نشے چھوٹ سکتے ہیں پر فرقے کا نشہ نہیں چھوٹ سکتا۔۔ بندہ مذھب چھوڑ سکتا ہے پر فرقہ نہیں۔۔ کچی عمر میں کسی لونڈے کو انجینئر صاحب کے ہاتھ لگ جائیں یا وہ جماعتیوں کے ہتھے چڑھ جائے تو اسے لگتا ہے فرقہ واریت ہی مسلمانوں کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔۔ آج کل نیا شغل جاری ہے۔۔ درس نظامی میں عامہ خاصہ کی بھرتیوں کے لیے جو اشتہار نشر کیے جاتے ہیں ان میں بھی ایک ہومیوپیتھک لائن ہوتی ہے۔۔ ہمارے ہاں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر بچوں کی تربیت کی جاتی ہے۔۔
جبکہ مدرسہ سے وہ نکلتے ہیں تو سلفیت کی برہنہ تلوار، دیوبند کے گرنیڈ یا بریلویت کی بزوکا بن کر فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔۔
سلفیوں پر اس لیئے لکھتے ہوئے تھوڑا اوکھا ہو جاتا ہوں کہ میں خود ان کے گھر کا لونڈا ہوں۔۔ وہ لونڈا نہیں جس نے قبلہ توصیف الرحمن راشدی کے بیس ایمپیئر کے کرنٹ سے بھرے بیان سے متاثر ہو کر وہابی ہوا۔۔ بلکہ ابن مولوی ابن مولوی ابن مولوی ہوں۔۔ شجرے میں دو صدیوں تک کی حدود علمائے اہلحدیث نے سمیٹی ہوئی ہیں وہ علماء جنھوں نے سید احمد شہید کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔۔ شجرے میں علماء کی حدود تین صدیوں سے بھی پیچھے کی ہیں۔ غالب نے لکھا تھا سو پشت سے ہے پیشہ آباء سپہ گری۔۔
اپنی تو سو پشت سے بھی زیادہ ہے پیشہ آباء منبر گری۔۔
اب اتنا تو میرا بھی حق بنتا ہے۔۔ قبلہ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی منبر گری بھی کمال تھی۔۔ اپنا بڑا تگڑا کاروبار تھا مگر لاہور کی جس مسجد میں خطابت کرتے وہاں کی انتظامیہ سے تنخواہ لینے میں نہ چونکتے یہ الگ بات ہے کہ بعد میں مسجد کے خادم کو وہ پیسے دے دیتے۔
کمال کا ذوق لباس تھا۔۔ عربی دانی کا یہ عالم کہ صدر صدام جیسا عرب قوم پرست ان کی عربی تقریر کا مداح۔۔ البریلویہ لکھ کر وہ کھلبلی مچائی کہ شہباز شریف نے کہا تھا کاش کوئی اس کتاب کا رد لکھے۔۔ ایک وقت تھا البریلویہ ہم جیسے سلفی لونڈوں کی داس کیپیٹل تھی۔۔
علامہ اچھا کپڑا پہنتے اور کٹر سلفیوں کے برعکس ٹخنے کو کبھی ہوا نہیں لگائی۔۔ ہمیشہ شلوار اٹالین سٹائیل میں ٹخنوں سے نیچے کرتے۔۔ اسی نوے کی دہائی میں جامعات سلفیہ میں جب کسی استاد پر للہیت زیادہ طاری ہوتی تو جا کر دراز سے کینچی نکالتا اور جس طالب علم کی شلوار ٹخنوں سے نیچے ہوتی اس کے پانئیچے کاٹ دیتا۔۔ کاش ایسا ہی کوئی استاد علامہ صاحب کو ٹکرتا تو علامہ صاحب جیسا بولڈ بندا ٹخنہ کشائی بعد میں کرواتا پہلے ایسے استاد کی اسی کینچی سے مرمت کرتا۔۔ داڑھی بھی آج کے سلفیوں کے برعکس بلکل چھوٹی رکھی ہوئی تھی۔۔
اہتمام سے آٹھ نمبر ٹرمر استعمال کرتے۔۔
میں اکثر کہتا ہوں آج کے اہلحدیث میں علامہ صاحب کے نظریاتی جینز ایک فیصد بھی نہیں ہیں اوپر سے بدقسمتی یہ کہ علامہ صاحب کے بعد جماعت ہائی جیک ہوگی اور ایک بھی بندہ نہیں پیدا کر سکی جو علامہ کی کمی کو پورا کر سکتا۔۔ ادھر دیوبند کو دیکھئیے تو قاسم نانوتوی کے بعد بھی ایک پوری لائین ہے قابل لوگوں کی۔۔
علامہ نے جو دو جانشین چھوڑے وہ عالم کم اور ڈگریوں کی دوکان زیادہ ہیں۔۔ حلم و علم دونوں نہیں۔۔ خظابتے ہیں تو لگتا ہے منبر پر بیٹھے نہیں بلکہ نصب ہیں۔۔ ایک اہل بدعت کے لیے دوشکا ہے تو دوسرا بزوکا۔۔
پہلے توحید کی ننگی تلواریں ہوا کرتی تھیں اب زمانہ جدید ہوگیا ہے اب تو اہل بدعت کے لیے یہ توحید کے بغیر پن والے گرینڈ ہیں۔۔
اکابر پرستی سے اتنا بھی نہیں بھاگنا چاہئے کہ جس علامہ صاحب نے جماعت اہلحدیث کی نشاۃ ثانیہ کی اسی سے بھاگ ریے ہو۔
ایک دفعہ ایک دوست نے ہماری مسجد میں نماز پڑھی تو اگلے دن مجھے ملے۔۔ یار زبیر یہ بتاؤ کہ تمھارے مسلک میں پاؤں سے پاؤں ملانے کا حکم ہے یا پاؤں پر پاؤں چڑھانے کا۔۔ میں دوست کے ساتھ ہوئی واردات کو سمجھ گیا کہ ضرور کسی سنگلاخ سلفی نے صف میں ساتھ کھڑے مقلد کو تبلیغ "بالکھر" کرتے ہوئے تتیر کی طرح ٹانگیں پھیلا اس حنفی کے پاؤں کو روند دیا ہوگا۔۔
میں خود اب مسجد میں صف میں کھڑے ہونے سے پہلے دیکھتا ہوں اپنے کھروں کی صحت کی خاطر کہ کسی کھردرے ہم مسلک کے ساتھ نہ کھڑا ہو جاؤں۔۔
پرانے اہلحدیث ایسے نہیں تھے۔۔ مولانا داؤد غزنوی کو ہی دیکھ لیجیئے ایک دفعہ ایک حنفی عالم سے ملنے گئے تو نماز کا وقت ہوگیا۔۔ مولانا غزنوی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابھی نماز میں آمین بالجہر نہ کہنا کیونکہ حنفی مسجد کا ڈسپلن خراب نہ ہو۔۔ ادھر حنفی عالم دین نے اپنے معتقدین سے کہا دیکھو مولانا آرے ہیں۔۔ وہ غیر مقلد ہیں آپ سب نے دوران نماز آمین بالجہر کہنی ہے تاکہ وہ اجنبیت محسوس نہ کریں۔۔ نماز میں پھر مروت کا یہ عالم تھا سلفی حنفی بن گئے حنفی سلفی۔۔
کیا بڑے لوگ تھے۔۔ اہلحدیث نے ہر اس بڑے دماغ کو راندہ درگاہ کر دیا جس نے سلف صالحین کی کیسٹ سے ہٹ کر کچھ کیا۔۔ چاہے اسحاق جھالوی ہوں۔۔ یا علامہ وحید الزماں۔۔ یہاں تک جس شخصیت نے برصغیر میں اہلحدیث کی بنیاد رکھی نواب صدیق حسن ان کو تو آج کے اگنے والے سلفی بچے جانتے بھی نہیں۔۔ نواب صاحب اتنے روشن خیال تھے۔۔ موسیقی کی حرمت پر جب فتوی لیا گیا تو نواب صدیق حسن نے لکھا۔۔
"شریعت کی بنیادی نصوص سے چ موسیقی کی حرمت ثابت نہیں۔۔ "
کیا نواب صاحب بلکہ اکابر تو ان سے بھی زیادہ روشن خیال تھے۔۔ ایک ستم ظریف حنفی نے ایک مقالہ analysis of Sahi bukhari narrations on anal sex permissibility لکھ دیا۔۔ کافی اتھل پتھل ہوئی ایک سلفی عالم ہدایہ کو عوام میں لے آئے اور کتاب " ہدایہ عوام کی عدالت میں لکھ ماری۔۔
ادھر سے حنفی بھی چپ نہیں رہے ایک سر بکف قلم کار حافظ حبیب اللہ ڈیروی نے جواب شکوہ "ہدایہ علماء کی عدالت میں" کے نام سے لکھا اور کتاب کے صفحہ 96 میں ایک واقعہ لکھ کر محفل لوٹ لی۔۔
ایک حنفی نے اہلحدیث لڑکی سے نکاح کیا، لڑکی ہر وقت خاوند کو بخآری شریف پر عمل کرنے کی ترغیب دیتی رہتی، ایک دفعہ خاوند نے لڑکی کو کہا، چل الٹ جا آج میں نے جماع فی الدبر کرکے بخآری شریف پر عمل کرنا ہے۔
لڑکی نے کہا بخآری شریف میں یہ بات موجود ہے۔۔
خاوند نے نساء حرث لکم کی تفسیر کھول کر علامہ وحیدالزمان غیر مقلد کا ترجمہ اردو ترجمہ پڑھ کر سنا دیا۔۔
خاتون نے بے چارگی سے کہا۔۔ "مجھے معاف کرو آئندہ میں بخآری پر عمل کرنے کے لیے تجھے تنگ نہیں کروں گی۔۔ "

