Wednesday, 10 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Khateeb Ahmad
  4. Mera Mashwara Theek Tha

Mera Mashwara Theek Tha

میرا مشورہ ٹھیک تھا

کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط، کیا اچھا ہے اور کیا برا، کیا گناہ ہے اور کیا ثواب۔ ان باتوں کے معنی و مفہوم زمان و مکان کے بدلنے کے ساتھ عمر کے بڑھنے کے ساتھ، علم کے حصول ساتھ، شعور و آگہی کے ساتھ، اہل علم کی قربت کے ساتھ ساری عمر بدلتے رہتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے میں ایک عالم دین کی خدمت میں پیش ہوا۔ مجھے دو باتیں اکثر الجھائے رکھتی تھیں کہ میں نے ٹھیک کیا یا غلط، کہیں میں مجرم تو نہیں۔ ایک فیملی مجھے ملنے میرے گھر آئی انکا بچہ معذوری کی ایک ایسی نایاب قسم کے ساتھ تھا کہ اسکا مسلسل علاج بھی اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری تھا اور بچے کے والد کی ملازمت گھر کا چولہا جلانے کے لیے بھی ناکافی تھی۔ اولاد کا صدمہ اس باپ کی ہمت توڑ چکا تھا۔ مگر ماں چاہ کر بھی ہمت نہیں ہار سکتی تھی۔ میں نے بچے کے والد سے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا لیڈیز کپڑوں کی ایک دکان پر سیلز مین ہوں۔ پچیس ہزار روپے تنخواہ ہے۔ بچے کی والدہ نے کہا انہوں نے پرائیویٹ سکول میں ٹیچنگ شروع کی تھی دس ہزار روپے تنخواہ تھی تو پھر چھوڑ دی۔

میں نے اس بھائی سے پوچھا کہ آپ کی دوکان پر مردانہ کپڑے بھی ہوتے ہیں؟ بولے جی ہوتے ہیں۔ میں نے کہا وہاں آپ کی مسز کو ملازمت مل سکتی ہے؟ بولے آج تک اپنی زندگی میں ایسی روایتی تھان والی لوکل دکانوں میں کہیں بھی کسی عورت کو مردانہ کپڑے کی سیلز میں نہیں دیکھا۔ ملازمت کا کیا ہے مل جائے گی مگر یہ بہت ہی عجیب کام ہوگا۔ سارا خاندان باتیں کرے گا دوست یار مجھے بے غیرت کہیں گے۔ اچھے برے لوگوں کا آنا جانا دکان پر لگا رہتا ہے تو گندی نظروں سے یہ کیسے بچا پائے گی خود کو؟ اسلام میں بھی عورت کو گھر رہنے کا حکم ہے۔ کمانا مرد کے ذمے ہے۔ میں جاب بدل لونگا مگر اسے کہیں نہیں ملازمت کروانی، وغیرہ وغیرہ۔

میں نے بچے کی والدہ سے بات کی کہ آپ کو زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ چھوٹی موٹی ملازمت نے کچھ نہیں کرنا، آپ خود سوچیں کیا کر سکتی ہیں۔ آپ نے اب کچھ کرنا ہے۔ ماں ہیں آپ اتنی بے بس نہ بنیں۔ آپ کی ذات سے ہی صفا و مروہ کی سعی منسوب ہے۔ انہوں نے کہا آپ ہی بتائیں سر جو کہیں گے میں کروں گی۔ ان کو چھوڑیں آپ۔ میں نے کہا آپ کے خاوند کا بارہ سالہ کپڑوں کی سیلز کا تجربہ ہے۔ آپ دونوں کو مل کر یہی کام اپنا کرنا چاہئیے۔ مگر آغاز میں آپ بھی ملازمت کر لیں۔ یہ وردی پہن کر کسی برینڈ میں سیلز گرل بن کے کھڑے ہونے اور عام دکان میں کپڑے بیچنے کا فرق آپ مجھے بتا دیں؟ وہاں برینڈز نے بھی ہزاروں جوان لڑکیاں کھڑی کر رکھی ہیں، وہاں کیا مرد نہیں جاتے؟ وہ کیا کپڑے مردوں کو نہیں دکھاتیں؟ وہ بھائی بولے کہ وہ لیڈیز کپڑے دکھاتی ہیں سر۔ یہ مارکیٹ الگ ہوتی ہے کام الگ ہے۔ میں نے کہا جانتا ہوں یار مگر جو آپ کا مالی مسئلہ ہے وہ یہیں سے حل ہوگا اور آپ کی بیوی آپ کے پاس ہوگی ایک ہی کاؤنٹر پر دونوں میاں بیوی کھڑے رہنا۔ بات اسے کرنے دینا۔ بات اور تھوڑی کھل کر کروں تو ان آپی سے گاہک جلدی مطمئن ہونگے۔ ایک نیا ٹرینڈ ہوگا۔

میں نے ان کو تو نہیں کہا مگر مجھے خود تو پتا ہی تھا اپنے معاشرے کی نفسیات کا۔ ان آپی کی شکل پیاری تھی، رنگ ڈھنگ بول چال اچھا تھا۔ اس کا جائز فائدہ لیا جا سکتا تھا، گنجائش یہ تھی یا جواز یہ تھا کہ حرام سے یہ تو قدرے بہتر ہے۔ میں نے ان کو بتایا کہ سیلری پر کام نہیں کرنا، دکان کے مالک سے میری کال پر بات کروائیں۔ کمیشن پر آپی سیلز کریں گی۔ وہ لوگ اس دن تو چلے گئے، دو ماہ بعد ان کی کال آئی کہ وہ اپنا ذہن میرے مشورے کے مطابق بنا چکے ہیں۔ لیکن وہ یہ کام شہر بدل کر کریں گے۔ وہ لوگ راولپنڈی شفٹ ہوگئے، وہاں یہ بات شاید اتنی عجیب ان کو نہ لگی۔ جہاں انہوں نے ملازمت کی بات کی وہاں مالک سے میری بات کروائی۔ سیلز کا بیس فیصد میں نے ڈیمانڈ کیا اور چودہ فیصد پر ڈیل ڈن ہوگئی۔ ڈیوٹی ٹائمنگ فکس نہیں تھی کیونکہ فکس تنخواہ نہیں تھی۔ لمبی ڈیوٹی دینا آپی کے لیے ممکن نہیں تھا دو بچے بھی گھر تھے۔ مالک دکان کا اپنا پرافٹ مارجن سو فیصد تھا اسی سو میں سے چودہ فیصد آپی کو ملنا تھا۔ بھائی کی سیلری چالیس ہزار طے ہوئی۔

فارمولا وہی تھا مردانہ سائیڈ پر آپی کھڑی ہونگی، چاہیں تو جب مرضی زنانہ سائیڈ پر بھی چلی جائیں، اگر کوئی مشکل پیش آئے یا زیادہ ہی کھچ اور شبالو قسم کے گاہک آجائیں تو پیچھے ہٹ جائیں، کمیشن دونوں سائیڈز پر یہی رہے گی۔ میرے گمان کے مطابق وہی کچھ ہوا جو میں نے سوچا تھا۔ گاہک یعنی بھائی اور انکل لوگ آتے اور آپی سے ہی کپڑے لیتے۔ وجہ صاف تھی آپ کو بھی پتا ہے مجھے بھی۔ رانگ نمبر سے زنانہ آواز پر شہید ہوجانے والی قوم ہے سامنے خوبصورت لڑکی کھڑی ہو تو کیوں اسکے کہنے پر دو کی بجائے تین سوٹ نہیں لیں گے۔

ایک بات کا اضافہ کر دوں، چھپانا چاہ رہا تھا لیکن خیانت نہیں کر سکا تو لکھ رہا ہوں۔ میں نے آپی کو کہا تھا کہ نقاب نہیں کرنا۔ عبایا پہنیں یا جیسی مرضی ڈریسنگ مگر چہرہ نہیں چھپانا اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہی بات مجھے آپ سیٹ کرتی تھی کہ یہ کیسا غیر اسلامی سا مشورہ دیا میں نے اور انہوں نے میری بات مان بھی لی۔ بہرحال پہلے مہینے میں آپی کے ہاتھوں جو سیلز ہوئی وہ چار لاکھ روپے تھی۔ بڑی دکان تھی۔ دوسرے ماہ ساڑھے چھ لاکھ اور تیسرا ماہ عید کا تھا تو نو لاکھ انکے کھاتے میں سیل نکلی۔ یہ بھی میں نے ہی کہا تھا کہ پہلی تنخواہ تین ماہ بعد عید پر لینی ہے۔ اکٹھے پیسے کہیں کام آجائیں گے۔ آمدن بڑھی تو دیگر مڈل کلاسیوں کی مانند فوراً ہی خرچے نہ دو تین گنا کر لینا۔ آپی کو عید پر جو کمیشن کے حساب سے سیلری ملی وہ دو لاکھ تہتر ہزار روپے تھی۔ یعنی اکانوے ہزار ماہانہ۔ اسکے بعد ایک سال تک وہ ملازمت چلی اگلے پورے سال کی ایورج تنخواہ بیاسی ہزار روپے بنی۔ یعنی نو لاکھ چراسی ہزار روپے۔

بھائی کی تنخواہ وہی رہی چالیس ہزار۔ آپی نے ہمت کرکے وہیں چھوٹی سی اپنی دکان بنا لی بچوں کے کپڑے عورتوں کے انڈر گارمنٹس اور سرخی پاؤڈر میک آپ کاسمیٹکس وغیرہ۔ بہت سا سامان کریڈیٹ پر مل گیا۔ خاوند کو بھی وہ وہیں لے آئیں۔ دکان اچھی چل نکلی ماہانہ آمدن دو اڑھائی لاکھ ہوئی اور پھر اللہ کی کرنی دیکھیں اس بچے کی وفات ہوگئی۔ جو یہاں تک لایا تھا۔ میں راولپنڈی اس بچے کی وفات پر گیا تھا۔ ان کو بتایا کہ یہ بچہ آپ کے حالات بدلنے آیا تھا۔ آپ کی سوچ اور شہر بدلنے آیا تھا۔ اس نے ویسے بھی اتنے ہی سانس لینے تھے جتنے اس نے لیے۔ آپ اسی گاؤں میں رہتے جہاں تھے روپے روپے تو بچاتے اپنا پیٹ کاٹتے روتے غمگین ہوتے لوگوں کی ہمدردیاں اور ترس نما بھیک اکٹھی کرتے۔ اس نے اسی وہاں بھی یہی زندگی جینی تھی۔

وہ آپ کے لیے نعمت اور ہجرت کا سبب بن کر آیا تھا۔ آج وہ جنت میں ہے اور آپ کو بھی غربت، تنگ نظری اور جہالت کے جہنم سے نکال گیا ہے۔

اکثر سپیشل بچوں کے والدین مجھے پوچھتے ہیں کہ سپیشل بچے آخر خدا کیوں کر پیدا کرتا ہے؟ وہ ان کو خود اور انکے اہل و عیال کو کیوں ایک لمبی آزمائش اور تکلیف میں ڈالتا ہے؟ لوگ اپنے گھر بیچ دیتے ہیں، اپنا سکون کھو دیتے ہیں تعلقات خراب ہو جاتے طلاقیں ہو جاتی ہیں۔

میں ان کو ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ اس کیوں کا جواب خود تلاش کریں۔ کہیں تو میاں بیوی کی محبت بڑھ جاتی ہے، کہیں سنگ دل خاوند کا دل موم ہو جاتا ہے، نکھٹو بچوں کا باپ سپیشل بچے کے لیے ذمہ داری لے کر کمانے لگتا ہے، مائیں ایک نئی زندگی شروع کرتی ہیں، خدا سے دوری قربت میں بدل جاتی ہے، ان جیسے دوسرے سینکڑوں ہزاروں بچوں کی بھلائی اور خیر کی وجہ کسی ایک سپیشل بچے کے والدین بن جاتے ہیں اور بھی بہت کچھ ہے پھر کبھی لکھوں گا اس موضوع پر۔

بہرحال مجھے اس وقت یہ لگتا تھا کہ میں نے ان کو ٹھیک مشورہ نہیں دیا۔ میں خود تو آزاد خیال سا ہوں اور ویسے ہی سب کو مشورے بھی دے دیتا ہوں۔ میں نے ایک پردہ دار لڑکی کو بے پردگی کی ترغیب دی ہے۔ بھلا اسے کچھ اور ہی کہہ دیتا۔ پھر سوچتا تھا ہمارے ملک میں لڑکیوں کی ملازمت محفوظ کہاں ہے۔ دل میں اخلاص تھا کہ اپنے خاوند کے سامنےاور ساتھ رہے گی۔ جہاں مرضی چلی جائے بیس تیس ہزار سے زیادہ تنخواہ نہیں ملنی اور ڈیوٹی کی فکس ٹائمنگ بھی یہ نہیں افورڈ کر سکتی۔ جتنا کام ہو اتنے پیسے ملیں یہ ہی اچھا ہے۔ جب مولانا صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے فرمایا آپ نے کچھ بھی غلط نہیں کہا۔ آپ بلکل بے فکر رہیں۔

ابھی جب عمان میں دو سال سے مستقل مقیم ہوں۔ یہاں کی لوکل خواتین کو ہر جگہ ہر دفتر میں ہر کام میں مردوں کے مقابل دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کاش ایسی سیفٹی اور ایسا نظام ہمارے ہاں بھی کبھی آ سکے۔ دوسری چیز یہاں عمانی خواتین 99 فیصد چہرے کا پردہ نہیں کرتیں اور 99 فیصد ہی کھلا ڈھلا عبایا پہن کر چہرے کے گرد سٹالر لپیٹتی ہیں۔ ہمارے ہاں کی طرح کا جسمانی نشیب و فراز واضح کرنے والا کسا ہوا یا فٹنگ کے ساتھ عبایا یہاں کوئی بھی نہیں پہنتا۔ تو اپنے اس ماضی کے واقعے والی فیلنگ بھی کسی حد تک ختم ہوگئی ہے کہ یار یہ بھی مسلمان ہی ہیں۔ ضرورت کے تحت میں نے کبھی کسی کو چہرہ نہ چھپانے کا مشورہ دیا تھا تو کوئی گناہ نہیں کیا۔ آپ یقین مانیں بچپن کی محدود لرننگ ایسی تھی کہ اسنے میرے اس مشورے کے بعد مجھے کئی سال تک احساس گناہ میں مبتلا رکھا۔

کئی باتیں اب بھی ہیں جہاں میرا وائٹ اینڈ بلیک کلئیر نہیں ہے۔ زندگی رہی، عمر گزرے گی، مطالعہ و سفر جاری رہے گا، اہل علم سے بات ہوگی تو یقیناََ کوئی گرے لائن ملے گی۔ امید ہے عقائد و نظریات میں مثبت و تعمیری بدلاؤ آئے گا۔

Check Also

Aalmi Youm e Ghizai Tahafuz Aur Hamari Zimmedarian

By Malik Zafar Iqbal