Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Chakwal Mein Ccd Ki Karvai

Chakwal Mein Ccd Ki Karvai

چکوال میں سی سی ڈی کی کاروائی

چکوال میں ایک دلخراش واقعہ پیش آيا جس میں آسٹریلیا سے اپنے والدین کے ساتھ آئی نو سالہ بچی کا قتل ہوا۔ یہ بچی اپنے والد عدیل، والدہ سدرہ اور دس سالہ بھائی عفان کے ہمراہ گاڑی میں اپنے کسی عزیز کے گھر آئی تھی۔ جہاں پر انھیں دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر لوٹا اور نقدی، موبائل اور طلائی زیورات چھین کر بھاگنے لگے تو قریب ہی واقع سی سی ڈی کے پوليس اسٹیشن سے ایک سی سی ڈی اہلکار نے ان پر فائرنگ شروع کردی اور مبینہ طور پر ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور موقع کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے عدیل نے گاڑی کو بھگانے کی کوشش کی جس پر سی سی ڈی اہلکار نے بغیر سوچے سمجھے اس کار پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

گاڑی کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑی کی ڈکی اور بیک سکرین پر گولیوں کے دو درجن سے زیادہ نشانات موجود ہیں۔ اس فائرنگ کے نتیجہ میں عدیل اور اس کا دس سالہ بیٹا عفان شدید زخمی ہوگئے جبکہ نو سالہ بیٹی ہانیہ موقع پر جاں بحق ہوگئی۔ حیرت انگیز طور پر اس حادثہ میں عدیل کی بیوی سدرہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق عدیل کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے اور اس کا بیٹا عفان ابھی بھی بینظیر ہسپتال راولپنڈی میں زیر علاج ہے۔

اس واقعہ میں جہاں ایک زندگی ضائع ہوئی وہیں پر سی سی ڈی کے کردار پر ایک اور بڑا دھبہ بھی لگا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ڈاکو سی سی ڈی کے دفتر کے باہر ڈکیتی کرنے میں مشغول تھے اور انھیں اس بات کا بالکل کوئی ڈر نہیں تھا کہ سی سی ڈی جیسی فورس موقع پر فیصلہ کرتی ہے اور وہیں پر ملزموں کو ڈھیر کر دیتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بات بھی حیران کن ہے کہ سی سی ڈی کے فائرنگ کا تبادلہ کرنے والے ڈاکو اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر پیدل فرار ہوگئے اور انھیں نہ تو پولیس نے پکڑا اور نہ ہی ان ڈاکوؤں کا تعاقب کیا بلکہ اندھا دھند کار پر فائرنگ شروع کردی اور فائرنگ بھی اس قدر شدید تھی کہ کار پچھلی طرف سے بالکل چھلنی ہوگئی۔

سی سی ڈی کے ڈائریکٹر جنرل کی وضاحت کے مطابق ڈاکوؤں نے گاڑی کی اوٹ لے رکھی تھی اور فائرنگ کرتے ہوئے وہاں سے فرار ہوگئے جبکہ سی سی ڈی اہلکار نے غلط ججمنٹ کرتے ہوئے کار پر بے تحاشا فائرنگ کی جس سے یہ اندوهناک واقعہ پیش آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سی سی ڈی اہلکار کھانا کھانے کے لئے تھانے سے باہر نکلا ہوا تھا اور جب اس نے ڈکیتی کی واردات ہوتے دیکھی تو وہ تھانے کے اندر گیا اور گن لے کر آیا اور بغیر سوچے سمجھے کہ کار کے اندر کون ہے فائرنگ شروع کردی۔

سی سی ڈی فورس کا رویہ اور تربیت کا اندازہ صرف اس ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس فورس کو کس طرح سے لائسنس ٹو کل دیا گیا ہے کہ یہ اہلکار سوچے سمجھے بغیر خود ہی فیصلہ کرتے ہیں اور خود ہی اپنے فیصلے پر عملدرآمد کر گزرتے ہیں۔ یہ بھی نہیں سوچتے ہیں کہ ان کے جارحانہ انداز سے کسی معصوم کی جان جا سکتی ہے۔ حالانکہ کسی بھی کرائم کنٹرول فورس کی یہ بنیادی تربیت کا حصہ ہے کہ وہ راہ چلتے اس طرح کے واقعات تو دیکھیں تو پہلے ڈاکوؤں کو واقعہ کے مقام سے الگ کرنے کی کوشش کریں تاکہ کراس فائرنگ میں کسی معصوم کو نقصان نہ پہنچے۔ پھر فائرنگ کرتے ہوئے بھی نشانہ لے کر ایک ایک فائر کریں تاکہ ڈاکوؤں کو مصروف رکھا جا سکے اور ان کی گولیاں ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

عمومأ موٹر سائیکل پر سوار ڈاکوؤں کے پاس ایک آدھ پسٹل ہی ہوتا ہے اور یہ فائرنگ بھی موقع سے بھاگنے کے لئے کرتے ہیں۔ اس واقعہ میں اہلکار نے یقینی طور پر کوئی بڑا معرکہ سر انجام دینے کی کوشش کی ہوگی اور اس چکر میں یہ بھی نہیں سوچا کہ کسی کی جان جا سکتی ہے۔ حسب معمول اس واقعہ کو بھی دبانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن چونکہ متاثرہ خاندان آسٹریلین شہری تھا اور وہاں کی حکومت نے اس معاملہ پر سفارتی سطح پر رابطہ بھی کیا تھا جس کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی اور ملزم اہلکار کے خلاف جو پرچہ درج کیا گیا تھا اس میں اقدام قتل کی دفعہ شامل کرنا پڑی۔ اگر یہ کوئی پاکستانی خاندان ہوتا تو اس واقعہ کو کوئی نیا رنگ دے کر مٹی ڈال دینی تھی اور یہاں تک کہ پورے خاندان کو ہی ڈکیت ثابت کرکے پولیس نے اپنے اہلکار کو بچا لینا تھا۔

اس سے پہلے بھی اسی سی سی ڈی فورس کے بارے میں قانون سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بڑا اعتراض پایا جاتا ہے کیونکہ اس فورس کے تمام ہی مقابلوں میں قانون کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی ملزم کو اپنے دفاع کا موقع ملتا ہے۔ جس کو سی سی ڈی سمجھتی ہے کہ یہ مجرم ہے تو پھر اسے پار کردیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی حلقوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ہمارا نظام انصاف چونکہ بڑا کمزور اور فرسودہ ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر مجرموں کو بچ نکلنے کا موقع مل جاتا ہے اس لیے فورئی کاروائی کرکے موت کی نیند سلانے کو ہی اصل انصاف سمجھا جاتا ہے۔۔

اس موقف کو اگر درست مان بھی لیا جائے تو پھر اسی نظام کے بطن سے نکلنے والی سی سی ڈی فورس میں کونسا فرشتوں کو بھرتی کیا گیا ہے بلکہ پولیس فورس کے اندر سے ہی افسران اور اہلکاروں کو لے کر یہ فورس بنائی گئی ہے۔ اس طرح کی فورس اگر سو برے افراد کو مار بھی دیتی ہے تب بھی چند معصوم افراد کی زندگیاں لینے سے پوری فورس کا وجود ناصرف سوالیہ نشان بھی بن جاتا ہے بلکہ معاشرے کے اندر اس کے بڑے زہر آلود اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایک معصوم کی زندگی لینے سے معاشروں میں مایوسی اور بغاوت جنم لیتی ہے اور اللہ کے حضور بھی ناحق کسی کی زندگی لینے سے بڑا گناہ کوئی نہیں ہے۔

ایک عام شہری اور معصوم افراد ایسے واقعات سے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کب کوئی ایسا حادثہ پیش آئے اور ان کو یا ان کے پیاروں کو جان سے جانا پڑ جائے۔ ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے افراد کو جب کسی ایسے واقعہ میں شاباش ملتی ہے جس میں کسی مجرم کو مارا جاتا ہے تو پھر ہر اہلکار ترقی اور انعام کی خاطر مواقع ڈھوندتا ہے کہ اسے کہیں کوئی ڈکیتی کرتا ملے اور وہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو مارکر اپنے افسران کو خوش کرسکے۔

اس سے پہلے بھی ہم دیکھ چکے ہیں کہ ساہیوال جاتے ہوئے ایک خاندان کو اسی طرح کی فورس نے گولیاں مار کر موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا اور بعد میں اس خاندان کے اوپر دہشتگردی سمیت غیر ملکی ایجنٹ ہونے کے الزامات تھوپ دئیے تھے۔ وہ تو بھلا ہو میڈیا کے دوستوں کا کہ وہ سچ کو سامنے لے آئے ورنہ ایک مظلوم خاندان غداری کے داغ بھی ساتھ لے کر دنیا سے جاتا۔

اسی طرح کا ایک اور کیس بھی عدالت تک پہنچ چکا ہے جس میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو سی سی ڈی نے گرفتار کیا اور مختلف شہروں میں مبینہ طور پر مار کر دفن بھی کردیا اور ایف آئی آر میں پولیس سے مقابلہ کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جانے کے پرچے درج کروا دئیے تھے۔ ان دونوں واقعات میں پوری کوشش کی گئی کہ کسی طرح سے اہلکاروں کو بچالیا جائے اور آج تک یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ ان واقعات کے ذمہ داران کے ساتھ کیا سلوک ہوا ہے۔

اس وقت سی سی ڈی اور پیرا جیسی فورسز حکومت کے لئے ایک بڑا امتحان بن چکی ہیں جن کے کریڈٹ پر کوئی اچھا کام ہے یا نہیں ہے لیکن گندگی کے چھینٹے بہت پڑ چکے ہیں۔ اگر حکومت ان ایجنسیوں کی کارستانی پر بڑا ایکشن لینے کی بجائے اسی طرح خاموش تماشائی بنی رہی تو ایک دن یہ سارے چھینٹے حکمرانوں کے منہ پر بھی ضرور گریں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جو سوچ حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے لوگوں کی بن چکی ہے اور ہم سرعام فل فرائی اور ہاف فرائی جیسی باتیں سنتے ہیں اور فخر سے بتایا جاتا ہے کہ کوئی پرچہ نہ کوئی کاروائی بلکہ سیدھا فائر۔ ایسے ہی الفاظ کا استعمال آج ماری جانے والی بچی ہانیہ کے دادا نے استعمال کئے ہیں کہ اگر ڈکیتوں کو گولیاں ماری جاسکتی ہیں تو سی سی ڈی کے قاتل اہلکار کو کیوں نہیں ماری جا سکتی۔ یہ الفاظ يقينا خطرناک ہیں اور اگر یہ مطالبہ زور پکڑ گیا تو پھر ملک میں انتشار پیدا ہوگا اور قانون نافذ کرنے والے افراد کے لئے آزادانہ گھومنا مشکل ہو جائے گا اس طرح کے حالات ہم کسی وقت میں کراچی میں دیکھ چکے ہیں۔

Check Also

Wonder Boy Se Yakam July Tak: Sohail Warraich Ki Flop Filmein

By Shahid Nasim Chaudhry