Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Javeria Aslam
  4. Aik Nanhi Qabar Aur Bare Bare Jawaz

Aik Nanhi Qabar Aur Bare Bare Jawaz

ایک ننھی قبر اور بڑے بڑے جواز

چکوال میں پیش آنے والا المناک واقعہ صرف ایک سنگین سانحہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ایک ایسا خاندان جو اپنے وطن آیا، اپنے لوگوں کے درمیان آیا، اپنے ہی ملک کی مٹی پر آیا، مگر واپسی پر اسے وہ تحفظ نہ مل سکا جس کی ضمانت ہر ریاست اپنے شہریوں کو دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک معصوم بچی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، والدین شدید زخمی ہوئے اور ایک خاندان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ اپنے وطن آمد ان کے حصے میں محظ ایک پچھتاوا چھوڑ گئی کہ شاید اگر وہ پاکستان نہ آتے تو آج انکی معصوم بچی انکی آنکھوں کے سامنے ہنستی کھیلتی موجود ہوتی۔

اس سانحے کے بعد دو طرح کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اسے ظلم، غفلت اور ریاستی ناکامی قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ افراد ہیں جو یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ چونکہ سی سی ڈی نے ماضی میں جرائم کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا ہے، اس لیے اس ایک واقعے کو "غلطی" سمجھ کر آگے بڑھ جانا چاہیے اور اس پر تنقید، شور، یا بحث نہیں کرنی چاہیے گویا 9 سالہ ہانیہ جیسی لاکھوں معصوم جانیں ایسی لاپرواہی، نا اہلی اور غلط فہمیوں پر قربان۔

یہ واقعہ اور ایسا ردعمل کئی طریقوں سے اک سوالیہ نشان ہے۔ کیا کسی ادارے کی ماضی کی کامیابیاں اسے مستقبل کی سنگین غلطیوں کا جواز فراہم کر سکتی ہیں؟

اگر کوئی ادارہ سو مجرم پکڑ لے، لیکن ایک معصوم جان کو غلط شناخت کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اتار دے، تو اس ایک جان کی حرمت کم نہیں ہو جاتی۔ انسانی جان کا تصور اعداد و شمار کے تابع نہیں ہوتا۔ ایک معصوم زندگی کا نقصان کسی بھی کامیابی کے پلڑے میں رکھ کر ہلکا نہیں کیا جا سکتا۔

یہ کہنا کہ "غلطیاں تو ہر جگہ ہوتی ہیں اور کسی سع بھی ہو سکتی ہیں" دراصل مسئلے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ بلاشبہ دنیا کے ہر ملک میں غلطیاں ہوتی ہیں، پولیس سے بھی ہوتی ہیں، عدالتوں سے بھی ہوتی ہیں، عوام سے بھی ہوتی ہیں۔ مگر کسی غلطی کا پہلے سے وجود اس بات کا جواز نہیں دیتا کہ آئندہ بھی غلطیوں کو معمول سمجھ لیا جائے۔

اگر کل کسی اور ادارے نے اختیارات سے تجاوز کیا تھا تو وہ بھی غلط تھا، اگر کسی ہجوم نے قانون ہاتھ میں لیا تھا تو وہ بھی غلط تھا، اگر پولیس نے ماورائے عدالت کارروائی کی تھی تو وہ بھی غلط تھا اور اگر آج کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی غفلت سے ایک معصوم بچی کی جان گئی ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ ظلم کی مذمت کسی مخصوص جماعت، ادارے یا نظریے کے خلاف نہیں ہوتی، ظلم جہاں بھی ہو، جس کے ہاتھوں بھی ہو، قابلِ مذمت ہوتا ہے۔

درحقیقت ریاستی اداروں کے لیے معیار عام افراد سے کہیں زیادہ سخت ہونا چاہیے۔ وجہ یہ ہے کہ انہیں طاقت، اسلحہ اور قانونی اختیار عوام کی حفاظت کے لیے دیا جاتا ہے۔ جب ایک عام شہری غلطی کرتا ہے تو وہ اپنی حیثیت میں نقصان پہنچاتا ہے، مگر جب ریاستی اختیار رکھنے والا فرد غلطی کرتا ہے تو اس کے اثرات پورے نظامِ کو متاثر کرتے ہیں۔

اس واقعے کا سب سے پریشان کن پہلو یہ نہیں کہ فائرنگ ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ فائرنگ سے پہلے تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ شناخت کیوں نہ کی گئی؟ خطرے کی نوعیت کو یقینی بنائے بغیر جان لیوا کارروائی کیوں کی گئی؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت کا بنیادی اصول ہی یہی ہوتا ہے کہ تحقیقات سے چلیں اور طاقت کا استعمال آخری راستہ ہو، پہلا نہیں۔

بعض افراد یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ اس واقعے کو صرف اس لیے زیادہ توجہ ملی کیونکہ متاثرہ خاندان بیرونِ ملک مقیم پاکستانی تھا۔ فرض کر لیجیے یہ بات درست ہے، تب بھی سوال یہ ہے کہ اس میں اعتراض کیا ہے؟

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اس ملک کا سرمایہ ہیں۔ وہ ہزاروں میل دور رہ کر بھی اپنی شناخت پاکستان کے نام سے جوڑے رکھتے ہیں۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں، اپنے وطن سے تعلق برقرار رکھتے ہیں اور اپنی اولادوں کو بھی پاکستان سے محبت کرنا سکھاتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ پیش آنے والے کسی سانحے پر قوم حساسیت کا اظہار کرتی ہے تو اسے تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے قومی یکجہتی کی علامت سمجھنا چاہیے اور متاثرین کا ساتھ دینا چاہیے۔

متاثرہ خاندان آسٹریلیا سے آیا ہو یا پاکستان کے کسی دور دراز گاؤں سے، مگر اس سے پہلے وہ انسان تھے، پاکستانی تھے، بے گناہ تھے اور ریاست پر بھروسہ کرتے تھے اور ریاست کی ذمہ داری تھے۔ انصاف کی بنیاد شہریت کی نوعیت نہیں بلکہ انسانی جان کی حرمت ہونی چاہیے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سی سی ڈی نے جرائم میں نمایاں کمی کی ہے، خطرناک مجرموں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ اگر یہ سب درست بھی ہو تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ادارہ تنقید سے بالاتر ہوگیا ہے۔ درحقیقت مضبوط ادارے وہی ہوتے ہیں جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں، ان کی شفاف تحقیقات کرتے ہیں اور آئندہ کے لیے اصلاحات متعارف کراتے ہیں۔ احتساب اداروں کو کمزور نہیں کرتا بلکہ ان پر عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں ریاستی طاقت کا جواز صرف اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک وہ قانون، احتیاط اور جوابدہی کے دائرے میں رہے۔ جس لمحے معصوم جانیں غلط شناخت، ناقص معلومات یا غیر ضروری طاقت کے استعمال کی نذر ہونے لگیں، اس لمحے سوال اٹھانا صرف حق نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

ایک بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ چکوال کے اس سانحے پر آواز اٹھانا سی سی ڈی سے ہرگز دشمنی نہیں، بلکہ انصاف سے دوستی ہے، پاکستان کے محنتی لوگوں سے دوستی ہے۔ یہ جرائم پیشہ عناصر کی حمایت نہیں، بلکہ اس اصول کی حمایت ہے کہ کوئی بھی ادارہ، خواہ کتنا ہی مؤثر کیوں نہ ہو، انسانی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتا۔

بیشک ادارے کی طرف سی اس سنگین واقعہ کی تائید ہوئی اور سخت مذمت کی گئی، مگر شاید اب ساری دنیا بھی مذمت کر لے سے ان ماں باپ کا نقصان پورا نہیں ہو سکے گا بدقسمتی سے۔

آخر میں سوال صرف ایک ہے: اگر ایک نو سالہ بچی کی جان کے ضیاع پر بھی ہم یہ کہنے لگیں کہ "ایسا تو ہوتا رہتا ہے"، تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ آخر ایسا کون سا سانحہ باقی رہ گیا ہے جو ہمیں جھنجھوڑ سکے؟ ہاں اس سے پہلے بھی معصوم جانیں ضائع ہوئی ہونگی مگر تب قاتل عوامی تحفظ کے لیے بنائے جانے والے ادارے نہیں تھے۔

ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیار نہیں، بلکہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر عوام کا اعتماد ہوتی ہے اور اعتماد اسی وقت قائم رہتا ہے جب ہر معصوم خون کو برابر اہمیت دی جائے، ہر غلطی کا حساب لیا جائے اور ہر ادارے کو یہ یاد دلایا جائے کہ اختیار کے ساتھ احتیاط اور جوابدہی بھی لازم ہے۔

Check Also

Hum Ke Thehre Ajnabi

By Rauf Klasra