Monday, 15 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. General Asim Munir Bator Sifaratkar

General Asim Munir Bator Sifaratkar

جنرل عاصم منیر بطور سفارت کار

ایران امریکا امن معاہدے یا مفاہمتی معاہدے کا اعلان فریقین کی جانب سے ہو چکا ہے۔ انیس جون کو جینیوا میں دستخط ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز فوری کھل رہی ہے۔ امریکا واپس جا رہا ہے۔ ایران اسے اپنی فتح قرار دے رہا ہے۔ امریکا اسے اپنی فتح بتا رہا ہے۔ ایران کے میزائل پروگرام کا خاتمہ امریکی ایجنڈا نہیں تھا بات افزودہ یورینیم کی حوالگی اور ہرمز پر ٹیکس پر پھنسی ہوئی تھی۔ میزائل پروگرام دراصل امریکی مفاد میں ہے۔ خلیج ممالک اور اسرائیل اسی سبب امریکی اسلحہ خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ معاہدے پر تفصیلی جائزہ دستخط ہونے کے بعد کرنا مناسب رہے گا۔ یہاں میرا موضوع اور ہے۔

ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، بیانیوں سے بھی بنتی ہیں اور بیانیے ہمیشہ سادہ نہیں ہوتے۔ ان میں کشمکش بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات ایک ہی کردار میں روشنی اور سایہ دونوں ساتھ چلتے ہیں۔ عاصم منیر کا ذکر آج کے پاکستان میں محض ایک فرد کا ذکر نہیں بلکہ ایک پورے نظام، ایک طرزِ حکمرانی اور ایک تاریخی تسلسل کا حوالہ بن رہا ہے۔ ان کے بارے میں رائے قائم کرنا آسان نہیں کیونکہ یہاں معاملہ پسند یا ناپسند کا نہیں بلکہ مشاہدے اور سامنے آنے والے حقائق کا ہے۔

دفاعی محاذ پر استحکام، اعصابی مضبوطی اور دباؤ میں آئے بغیر مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت، یہ وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی فوجی قیادت میں مطلوب ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں معاملہ دلچسپ ہوتا ہے وہ سفارتکاری ہے کیونکہ سفارتکاری بندوق کی سیدھی نال نہیں بلکہ ایک پیچیدہ دائرہ ہے جس میں "ہاں" اور "نہیں" کے درمیان کئی مبہم راستے ہوتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر عاصم منیر صرف ایک جرنیل نہیں بلکہ ایک معاملہ فہم سفارتکار کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔ عموماً جرنیلوں میں یہ خوبی بالکل نہیں پائی جاتی اور یہ ان کے نیچر آف ورک کا حصہ ہوتی بھی نہیں۔ آج کے منظر نامے میں امریکا، ایران سمیت خلیجی ممالک بھی عاصم منیر کے شکریے ادا کرتے نظر آتے ہیں اور سچی بات بھی یہی ہے کہ انہوں نے ایران امریکا تنازعے کے حل میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔

مگر پاکستان کے اندرونی مسائل کے تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا کسی ایک فرد کی صلاحیتیں پورے نظام کی خامیوں پر پردہ ڈال سکتی ہیں؟ پاکستان کی تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ اس کے جواب کی تلاش میں ایک تلخ حقیقت سر اٹھاتی ہے کہ پاکستان ایک "سیکیورٹی اسٹیٹ" ہے اور جب کوئی ریاست خود کو اس پیرائے میں دیکھنے لگے تو وہاں طاقت کا توازن فطری طور پر عوام سے ہٹ کر طاقت کے مرکز کی طرف جھک جاتا ہے۔ ایسے میں جمہوری عمل ایک رسم بن جاتا ہے اور انتخابی عمل ایک انجینئرڈ نتیجے کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

ہاں، تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان سے معاملات سخت خراب ہیں۔ اس کا سبب عمران خان صاحب اور ان کے درمیاں بیڈ بلڈ کا ہونا ہے۔ اس کی ایک تاریخ ہے۔ خان صاحب نے ان کا راستہ روکنے اور کیرئیر ختم کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں نو مئی کے واقعات اس بیڈ بلڈ کو مزید ہوا دے گئے۔ یہ وجوہات سنگین ہیں۔ قومی انتخابات کو مینج کرنا ہمیشہ سے رہا ہے۔ یہ اس ملک کی تاریک تاریخ ہے۔ ہر بار کارروائی کا انداز بدل جاتا ہے لیکن کارروائی ڈالی ضرور جاتی ہے۔ کبھی آر اوز کے ذریعہ، کبھی آر ٹی ایس بٹھا کر، کبھی عدلیہ کے توسط سے، اس بار فارم سینتالیس ہے اور اگلی بار کوئی اور طریقہ کار ہوگا۔ اصل مقصد تو یہی ہوتا ہے جس کو لانا مقصود ہو اس کے لیے سارا الیکٹورل پراسس ہی الٹا کر دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس کا حل بھی دور تک نظر نہیں آتا۔ یہ ہمارے تلخ اور پتھریلے حقائق ہیں۔

ایسے میں عاصم منیر کی شخصیت ایک دلچسپ تضاد بھی پیش کرتی ہے۔ ایک طرف ان کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ پیشہ ور، نسبتاً صاف دامن اور سنجیدہ مزاج کے حامل ہیں۔ دوسری طرف وہ اسی نظام کے سربراہ ہیں جس پر سیاسی انجینئرنگ، اظہارِ رائے پر قدغن اور جمہوری عمل میں مداخلت کے ننگے کھُلے ثبوت بھی ہیں۔ علاوہ ازیں حقائق کی لمبی فہرست ہے جس پر دل کڑھتا ہے۔ جو نہیں ہونا چاہئیے وہی دہائیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ چونکہ یہ ملک "سیکئورٹی سٹیٹ" ہے اور خود اعتراف بھی کرتا ہے اس لیے ایسے ممالک میں یہ سب کچھ نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔

تو سوال پھر اٹھتا ہے کیا ایک فرد کی صلاحیت کافی ہے؟ ریاستی معاملات میں کسی ٹاپ پر بیٹھے شخص کی پیشہ وارانہ صلاحیت ایک اہم عنصر ضرور ہے مگر کافی نہیں۔ اصل امتحان عوامی فلاح کا ہوتا ہے۔ اگر سرحدیں محفوظ ہوں مگر گھر کے اندر بے یقینی ہو، اگر عالمی سطح پر ساکھ بہتر ہو مگر عوام مہنگائی اور بے بسی میں پس رہے ہوں تو یہ کامیابیاں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ اندرونی مسائل گھمبیر ہیں اور توجہ طلب ہیں۔ ملک کے اندر بھی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ سیاسی افراتفری کم کرنے یا سیاسی تفریق کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی مفاد میں ڈلیور کرنے کی ضرورت ہے۔ معیشت کو بہتر کرنے اور اس کا اثر گراس روٹ تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ میرا مدعا دفاعی و سفارتی محاذ تھا لیکن یہ سب بے اثر رہ جاتا ہے جب عوام بنیادی ضروریات اور انسانی حقوق سے محروم رہ رہی ہو۔

یہاں ضرورت کسی ایک فرد کی تعریف یا تنقید کی نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور کی ہے۔ ایک ایسے مکالمے کی جس میں طاقت اور جوابدہی ساتھ ساتھ چلیں۔ جہاں دفاعی استحکام اور جمہوری آزادی ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کا جزو بنیں۔ عاصم منیر کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک قابل جرنیل ہیں، انتھک ہیں، دباؤ میں نہیں آتے، بولڈ فیصلے لیتے ہیں، ان کی نیت صاف بھی ہو سکتی ہے مگر ان کی اصل میراث کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آیا ان کے دور میں پاکستان کا نظام عوام دوست بنا یا نہیں، نظام نے اپنی خرابیاں سدھاریں یا نہیں اور عوام کی جیب میں کچھ جمع ہو پایا یا نہیں۔ وقت ہمیشہ فرد سے بڑا ہوتا ہے اور تاریخ صلاحیت یا نیت نہیں صرف نتیجہ یاد رکھتی ہے۔

Check Also

Karachi Ya Lahore?

By Teeba Syed