Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Kashif Hussain
  4. Shikwa: Allama Iqbal Ki Nazm Ka Mukhtasar Taruf (2)

Shikwa: Allama Iqbal Ki Nazm Ka Mukhtasar Taruf (2)

شکوہ: علامہ اقبال کی نظم کا مختصر تعارف (2)

شکوہ شاکی لوگوں کی ترجمانی ہے۔ معاشرے کے اس احساس کو زبان دینے کا نام شکوہ ہے۔ اگر اس نظم کا نفسیاتی تجزیہ کریں تویہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے معاشرے کا ایک کتھارس ہورہا ہے۔ میں جب غم میں ڈوبا ہوا ہوں اور میری عجیب حالت ہے تو اس وقت مجھے موقع دیا جائے کہ میں اپنے دل کا غبار بغیر کسی لگی لپٹی کے بیان کرسکوں۔ تاکہ میں سب کچھ اپنے دل سے باہر نکال سکوں اور اس عمل کے بعد ہلکا محسوس کروں۔ یہ اس شاکی کی تھیراپی کا سامان بھی کرے اور اسے ہم معاشرے کے ڈ سلپن آف کلیکٹیوتھیراپی کا نام دے سکتے ہیں۔ یعنی اس نظم سے لوگوں کو لگتا ہے کہ انکی جراحت قلبی کا تجربہ ہو رہا ہے۔ اس کے بعد جواب شکوہ میں اقبال معاشرے کی راہنمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کتھارس ہی تو ہے کہ مریض بیمار ہونے کے بعد درد اور پریشانی کی وجہ سے چیخنا اور چلانا چاہے اسے اظہار کا موقع دیا جائے تاکہ وہ یہ جان لے کہ حکیم نے اسکی اندرونی کیفیت اور پریشانی کو سمجھ لیا ہے۔ اب دل کا حال جان لینے کے بعد اس کو شفایاب کردیا جائے۔ لیکن کونسلنگ یا مشاورت میں میں حکیم کو اس چیز سے کوئی غرض نہیں کہ کن راہوں پر چلنے کے نتیجے میں مریض کا یہ حال ہوا ہے۔ منزل اورراستوں کا انتخاب اس میں اہم نہیں۔ جب کہ مینٹرنگ وہ راہنمائی ہے جس میں حکیم کو بیمار کا ہاتھ پکڑ کر منزل اور راستوں کے انتخاب میں بھی معاونت کرنا پڑتی ہے۔

پست کو بالا کردے کی ترکیب اور آگہی ایک راہنما ہی کر سکتا ہے۔ اس شاعرانہ روایت میں وہ تالیف قلب بھی کر رہے ہیں اور اصلاح قلب کا سامان بھی کر رہے ہیں۔ ان نظموں میں شاعر حکیم بن کر دکھا رہا ہے۔ یہاں شاکی کو سنا بھی گیا اور سمجھا بھی گیا کا احساس شکوہ میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ جس سے شاکی کا اضطراب کم ہو جاتا ہے اور اسے تھوڑا سا سکون مل جاتا ہے پھر جیسے شاکی کے درد و دل کو زبان مل گئی۔ اقبال کے کلام میں یہ عنصر نمایاں ہے۔ جس سے انہیں شاکی کا اعتماد حاصل ہواہے۔ اس کے نتیجے میں شاکی کا افق وسیع ہوا ہے اور اس کی ملی اوراجتماعی غیرت کی حس بیدار ہوئی ہے۔ شاکی کی شکایتوں کی منطقی کمزوریوں سے آگاہ کیا ہے۔ پھر ایمان کی بنیاد پران شکایتوں کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔ یعنی پہلے گلے لگایا پھرآیئنہ دکھایا اور پھر طمانچہ لگایا۔ بقول غالب۔

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

اس نظم میں یہ بات بہت خوبصورتی سے کہی جا رہی ہے۔ اس کی یہ بھی خاصیت ہے اس کا عروج جواب شکوہ میں نظر آتا ہے کی اللہ نے اس شکایت کو کیسے شرف قبولیت بخشا۔ اس میں دل بھی ہے۔ دلاسہ بھی ہے اور دھمک بھی ہے۔ اس پیغام کی جھلک آپ اقبال کی آخری دورکے کلام (ارمغان حجاز اور ساقی نامہ) میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کسی بھی بڑے کلام کو سمجھنے کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ اسے کلام مجموعی سے الگ کرکے نہ دیکھیں تاکہ اس کے مکمل فکری نظام کی روشنی میں پیغام سمجھا جائے۔ جب کلام کا ہر جزو الگ الگ پڑھا جائے تو اس کلام کی افادیت اور مزاج مجموعی سے ناآشنائی بات کو الجھا بھی دیتی ہے۔

شکوہ جب انجمن حمایت اسلام کے اجلاس میں پڑھی گئی۔ اس وقت ملت کے درد کے احساس کے ساتھ لوگ جمع ہوتے تھے تاکہ اس سے منسلک مختلف موضوعات پر بات کی جائے اور سوچا جائے۔ اقبال کے کلام کا صوتی آہنگ بھی کافی زوردار ہے اور گرج رکھتا ہے۔ اقبال اس وقت اپنی نظمیں ترنم سے پڑھا کرتے تھے اور لوگوں میں کافی مقبول تھے۔ اس وقت لوگ شاعری سے متاثر ہو کر پیسے بھی نچھاور کرتے تھے۔ بلکہ ان کا کلام جس کاغذ پر لکھا ہوتا تھا وہ بھی نیلام ہو جاتا تھا اس کو آج کے دورکا گرینڈ فنڈ ریزنگ ایوینٹ کہ سکتے ہیں۔

اقبال نے جب نظم شروع کرنے سے پہلے سامعین کو آگاہ کیا کہ یہ نظم ترنم سے نہیں پڑھی جائے گی تو لوگ کافی بے چین ہوئے اور اصرار کرنے لگے کہ ترنم سے ہی نظم پڑھی جائے۔ حتی کہ منتظمین نے بھی ترنم کی درخواست کی۔ ہماری تہذیبی روایت میں لوگ عموماََ اس درخواست کو رد نہیں کرتے تھی۔ لیکن اقبال نے کہا کہ میں شاعر ہوں اور جانتا ہوں کو کلام کیسے پڑھا جائے۔ اس کو پڑھنے کا استحقاق میرے پاس ہے اور میں ہی فیصلہ کروں گا۔ آج جب لوگ کلام اقبال اچھل کود اور ناچ گانے کے ساتھ ڈسکو کے انداز میں پڑھتے ہیں اور تھرکتے ہوئے جھومتے ہیں تو معلوم نہیں اقبال کی روح پر کیا گزرتی ہوگی۔

آج نہ کلام پڑھنے والے کو کلام سے وابستگی ہے اور نہ سننے والوں کو کلام کا پتہ ہے۔ اس ساری مشق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بڑا کلام حلق سے بھی نکل سکتا ہے اور دل سے بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ حلق سے نکلنے والی چیز کا نام گلوکاری ہے۔ کلام اقبال کو چھوڑیں ھم تو کلام الہی کو صرف حلق سے ہی نکالنا جانتے ہیں۔ قرات حلق سے بھی کی جا سکتی ہے جب دل اس کی یاد سے غافل ہو تو کلام الہی بھی دل پراثرنہیں کرتا۔ خوش نصیب لوگ ہیں جو کلام الہی کو دل کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں۔۔

لبھاتا ہے دل کو کلام خطیب
نظر لذت شوق سے بے نصیب

خدا ہمارے دل کی اصلاح کا سامان کرے۔ کلام الہی ہمارے قلب کی راحت کا سبب بنے۔ اقبال جب قران کی تلاوت کرتے تھے تو قلب اور وجود پر اسکی صداقت کا اثر آنسووں سے ہوتا تھا کہتے ہیں کو مصحف بھیگ جاتا تھا اور سکھانے کے لیے رکھنا پڑتا تھا۔ جس کلام کو اقبال نے ترنم سے پڑھنا گوارا نہیں کیا۔ آج ہم تھرک سے وہ کلام پڑھتے ہوے فخر محسوس کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کو کلام اقبال کو ترویج ہو رہی ہے۔ ہم اس دور جدید میں اخلاص اور جذبے سے عاری ہیں۔ اگر موسیقی ضروری ہے تو المیہ موسیقی ہوگی یا جاز اور پاپ میوزک لگا یا جائے گا۔ اس نظم کا آغاز کرتے ہیں۔

کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

سیکولر کا شکوہ مروت میں باہر نہیں آتا جب کہ ملحد کا شکوہ زور و شور سے باہر آتا ہے۔ کہ اگر کوئی خدا ہے تو ہمارے مسائل کو حل کیوں نہیں کرتا۔ سیکولرازم کے لئے انکار خدا ضروری نہیں اس میں ہم بس خدا کو ایک خانے میں بند کر دیں اور یہ یقینی بنا لیں کہ وہ اس خانے سے باہر نہ نکلنے پائے۔ مذہب کو کارنٹائن کرنے کا ایک نام سیکولرازم ہے۔ آج ہم کووڈ کی بدولت کارنٹائن کا مفہوم اچھی طرح جان گیے ہیں۔ مذہب کو کورنٹائن کرنے سے جو زندگی پیدا ہوتی ہے اس کو سمجھنا کافی آسان ہو جاتا ہے۔ سیکو لر کا شکوہ مختلف ہوتا ہے۔

جرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

اے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

اب اس کے کچھ منتخب اشعارپر نظر ڈالیں۔

ہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھی
ورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھی

یہاں شکایت کی تمہید چل رہی ہے کہ ہم تو وہی پرانے مسلمان ہیں۔

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر

خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر

یعنی جو چیزیں خدا کی عبادت میں مصروف ہیں۔ انسان ان کی پوجا کر رہا تھا۔

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا
قوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

شکایت کرنے والا جب بہت شکایت کرتا ہے تو پھر اکثر غیر منظقی جواز ڈھونڈ لاتا ہے۔ خدا کے پیامبروں کی کوششوں کے نتیجے میں جو معاشرت پیدا ہوی اور خیرکی روایت سامنے آئی۔ آج کا مسلمان اس کو اپنے کھاتی میں ڈال کو انعام کا متمنی ہے۔ روایتی معاشرے میں خدا کے بجائے نظر آنے والے اورفائدہ نہ پہنچا سکنے والے خدائوں کی عبادت کی جاتی تھی۔ جدید معاشرے نے فائدہ نہ پہنچا سکنے والے خدائوں کو چھوڑ کر فائدہ پہنچا سکنے والے خدائوں کو ترجیح دے رکھی ہے۔ اس وقت ایک غیر مرئی نظام کی بادشاہت ہے۔ سب اسی کواپنا مشکل کشا سمجھتے ہیں۔

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھی
اہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھی

اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی

پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے

یعنی ماضی میں ہمارے اسلاف نے اپنے عمل اور کردار سے جس تہزیب کی آبیاری کی تھے اور جھوٹے خداوں کی تہزیب کا انکار کیا تھا۔ اس معاشرے سے لڑے اوراسے زیر کیا۔ ہم چونکہ انکی اولاد ہیں۔ اس لیے ہمارا بھی وہی حق ہے کہ اب آپ ہمارے ساتھ وہی معاملہ کریں۔

بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں

خشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

کبھی افریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی

کلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کی
ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے

اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے

سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے
قوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتی

بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی

یعنی جتنی بھی مسلم امہ کی خوبیاں تھی ساری اپنے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہیں۔

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نے
شہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نے

در خیبر کو اکھاڑنے کا سہرہ بھی ہمیں ہی جاتا ہے۔

توڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نے

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو
کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو

کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی
اور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئی

کس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کے ھو اللہ احد کہتے تھے

یہ سب کے سب ھمارے ہی کام ہیں۔ پھراسکے بعد بہت مشہورشعرآتا ہے۔

آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

محفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفت جام پھرے

کوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرے

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

یعنی تاریخ میں مسلمانوں کے جتنے بھی کارنامے ہیں۔ عہد حاضر کا مسلمان اس کو اپنے کھاتے میں ڈالے جا رہا ہے۔

جاری ہے۔۔

کتاب روشن کی آیات جھلملاتی ہیں اور نگاہ اس مقام پرجا رکتی ہے جہاں خدائے رب العزت کا وعدہ موجود ہے۔ بے شک اللہ کسی قوم کو اس وقت تک تبدیل نہیں کر تا جب تک وہ اپنے آپ کوتبدیل نہیں کرتی۔ (سورت رعد۔ آیت 11 جزوی)

Check Also

Sohail Bhai Ke Column

By Najam Wali Khan