Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Behissi Waqt Ki Awaz Bana Di Jaye

Behissi Waqt Ki Awaz Bana Di Jaye

بے حسی وقت کی آواز بنا دی جائے

معاشروں کی شناخت صرف شرح نمو، اخلاقی اقدار اور نظامِ مملکت سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہاں ایک عام انسان خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتا ہے۔ شہری جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے دل میں یہ یقین ہونا چاہیے کہ ریاست اس کی محافظ ہے اس کے لیے خطرہ نہیں۔ لیکن لگتا ہے ہمارے ہاں سب کچھ تلپٹ ہو چکا ہے۔ سانحہ ساہیوال سے سانحہ خروٹ آباد تک پھیلے سانحوں میں تازہ اضافہ چکوال کا حالیہ سانحہ ہے جس میں سیکیورٹی کے محافظ ادارے کی جانب سے جان لی گئی ہے۔

ایک خاندان آسٹریلیا سے پاکستان آیا تھا۔ ایک روایتی پاکستانی خاندان ایسا ہوتا ہے جو ہزاروں میل دور رہ کر بھی اپنے وطن کی محبت دل میں بسائے رکھتا ہے۔ ان کے لیے پاکستان صرف ایک ملک نہیں ہوتا یادوں کا خزانہ ہوتا ہے۔ بچپن کی گلیاں، بہن بھائی دوستوں کی محبت، بزرگوں کی قبریں اور مٹی کی وہ خوشبو جو پردیس میں برسوں بعد بھی ذہن سے محو نہیں ہوتی۔ وہ شاید اپنے بچوں کو بتانا چاہتے تھے کہ یہی وہ سرزمین ہے جہاں سے ہماری کہانی شروع ہوتی ہے۔ مگر اس کہانی کا اگلا باب خون سے لکھا گیا۔ سڑک پر چلتی گاڑی پر ایک شبہ پیدا ہوا، ایک غلط اندازہ لگایا گیا اور پھر گولیوں نے وہ کام کر دیا جو عقل، احتیاط اور تحقیق نہ کر سکیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک نو سالہ بچی کی زندگی ختم ہوگئی، ماں باپ شدید زخمی ہو کر اسپتال میں پڑے ہیں اور ایک خاندان ہمیشہ کے لیے جیتی جاگتی لاشوں میں بدل گیا ہے۔

ہم کس قسم کے معاشرے میں تبدیل ہو رہے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ شبہ ہمارے ہاں ثبوت سے زیادہ طاقتور ہوگیا ہے؟ کیوں تحقیق اور تصدیق کی جگہ فوری ردعمل نے لے لی ہے؟ کیوں ہر شخص دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا ہے؟ یہ مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں۔ یہ پورے معاشرے کے مزاج کا مسئلہ ہے۔

سوشل میڈیا پر روزانہ کردار کشی ہوتی ہے۔ کسی کے بارے میں ایک افواہ پھیلتی ہے اور لوگ بغیر تحقیق کے اسے سچ مان لیتے ہیں۔ کسی پر الزام لگتا ہے اور فیصلہ ثبوت آنے سے پہلے ہی سنا دیا جاتا ہے۔ سیاست میں مخالف غدار قرار پاتا ہے، صحافت میں اختلاف رکھنے والا دشمن سمجھا جاتا ہے اور سماج میں مختلف سوچ رکھنے والا مشکوک قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے سارا سماج اوپر سے نیچے تک مالیخولیا کا شکار ہے۔

چکوال کے سانحہ کا ایک اور پہلو بھی ہے جو زیادہ افسوسناک ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانی بستے ہیں۔ وہ اپنی محنت سے کامیابیاں حاصل کرتے ہیں مگر دل کا ایک حصہ ہمیشہ پاکستان میں چھوڑ آتے ہیں۔ ہر سال وہ اپنے بچوں کو لے کر واپس آتے ہیں تاکہ انہیں اپنی شناخت سے جوڑ سکیں۔ لیکن جب ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو صرف ایک خاندان متاثر نہیں ہوتا بلکہ بیرون ملک بسے لاکھوں پاکستانیوں کے دِلوں میں بھی ایک خوف جنم لیتا ہے۔ یہ سوال لامحالہ اٹھتا ہے کہ ہمارا ملک ہمارے لیے اتنا ہی محفوظ ہے جتنا ہماری یادوں میں تھا؟ اور نئی نسل جو بیرون ممالک میں پیدا ہوئی وہ اپنے والدین کے دیس سے بیزاری اختیار کرنے لگتی ہے۔

معاشرے اس وقت بنتے ہیں جب وہ طاقت سے زیادہ احتیاط، غصے سے زیادہ عقل اور شبہے سے زیادہ ثبوت کو ترجیح دینے لگیں۔ جب معاشروں میں خوف بڑھ جائے اور ریاستی اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے تو وہاں گولیاں صرف جسموں کو نہیں چیرتیں وہ ریاست اور شہری کے درمیان موجود رشتے کو بھی ہلاک کر دیتی ہیں۔ سی سی ڈی چکوال کے ان تمام اہلکاروں پر ضابطے کی کارروائی شاید خانہ پُری کے لیے ظاہراً ہو لیکن مجھے اور آپ کو معلوم ہے کہ سانحہ ساہیوال کا جو بنا، خروٹ آباد واقعہ کا جو بنا وہی اس کا بلآخر بنے گا۔ وللہ، میں اس ملک میں رہتے ہوئے سمجھتا ہوں کہ ایسے المیہ جات پر لکھنا یا آواز اُٹھانا وقت اور انرجی کا ضیاع ہی نہیں بلکہ صدر ضیاع ہے لیکن فطرت خون جلاتی ہے تو سوچتا ہوں کسی کو فرق پڑے نہ پڑے لیکن لکھ کر اس ذہنی کیفیت سے شاید نکل پاؤں جو اعصاب کے تناؤ کا باعث بننا شروع ہو جاتی ہے۔

بنام مذہب قتل و غارت گری، بنام سیاست اخلاقیات کی پامالی اور بنامِ حب الوطنی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کا جواز بڑے سنجیدہ مسائل ہیں۔ اس پر جب ایسے سماجی سانحات سامنے آ جائیں تو میرے احباب، عزیز و اقارب سوال کرنے لگتے ہیں تم مواقع میسر ہونے کے باوجود بال بچوں کو لے کر ہجرت کیوں نہیں کر گئے اور اس کا جواب دیتے میں خود فکر میں ڈوب جاتا ہوں۔ اندھی گولی، نامعلوم قاتل یا معلوم وردی پوش قاتل، مشتعل ہجوم یا ایک مشتعل لونڈا کبھی بھی، کہیں بھی، کسی کا بھی کام تمام کر سکتا ہے۔ سنجیدہ موضوعات پر لکھ لکھ بہت خون جلایا ہے اور پھر اس مزاج کا ہوتا گیا ہوں کہ اس نظام میں زیست کرنا بھی ایک ہُنر ہے۔ بے حسی شرط ہے اور میرے ہم وطن فائن آرٹ آرٹسٹ ہیں۔ پیرزادہ قاسم کا شعر یاد آیا ہے۔

خواہش ہے کہ اب لوگ نہ روئیں نہ ہنسیں
بے حسی وقت کی آواز بنا دی جائے

Check Also

Vice Chancellors Ki Tainati, Merit Badal Gaya

By Shahid Mehmood