Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Saif Wallahray
  4. Jab Kalma e Haq Baghawat Thehra

Jab Kalma e Haq Baghawat Thehra

جب کلمۂ حق بغاوت ٹھہرا

رات اپنی پوری تاریکی کے ساتھ شہر پر جھکی ہوئی تھی۔ بارش ابھی تھمی تھی اور سڑکوں پر پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب شہر کی شکستہ روشنیوں کو اپنے اندر قید کیے ہوئے تھے۔ دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور پھر خاموشی ہر آواز کو نگل لیتی تھی۔ ایک نوجوان پل کے کنارے کھڑا نیچے بہتے گندلے پانی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں موبائل فون تھا جس پر مسلسل خبریں چل رہی تھیں، کہیں ظلم، کہیں جنگ، کہیں بھوک، کہیں مذہب کے نام پر نفرت، کہیں طاقت کے نام پر انسانیت کی تذلیل۔ وہ دیر تک اس اسکرین کو دیکھتا رہا، پھر اچانک اس نے موبائل بند کر دیا۔ شاید وہ سچائی سے تھک چکا تھا یا شاید اس میں سچائی کو بدلنے کی ہمت باقی نہ رہی تھی۔

اسی پل کے قریب ایک درویش بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا۔ نوجوان اس کے قریب آیا اور بے اختیار پوچھ بیٹھا: "بابا! یہ دنیا اتنی خاموش کیوں ہے؟ لوگ ظلم دیکھ کر بولتے کیوں نہیں؟"

درویش نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "بیٹا! جب معاشرے اپنے ضمیر بیچ دیتے ہیں تو آوازیں باقی نہیں رہتیں، صرف تماشے رہ جاتے ہیں۔ پھر لوگ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے محفوظ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہر شہر میں ایک نیا یزید پیدا ہوتا ہے اور ہر دور اپنے حسینؑ کو تلاش کرنے لگتا ہے"۔

یہ سن کر نوجوان خاموش ہوگیا۔ اس خاموشی میں صدیوں کی تھکن، خوف اور شکست کی بازگشت تھی۔ یہی ہمارے عہد کی سب سے بڑی المیہ حقیقت ہے کہ ہم یاد تو بہت کرتے ہیں مگر سیکھتے کم ہیں۔ ہم مجالس سجاتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، نوحے پڑھتے ہیں، مگر جب حق بولنے کا وقت آتا ہے تو ہماری زبانیں مصلحت کی زنجیروں میں جکڑ جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں واصف علی واصف کا جملہ پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ "اگر تم کلمۂ حق نہیں کہنا چاہتے اور صرف یادیں منانا چاہتے ہو تو تم امام حسینؑ کے دشمن ہو"۔

یہ جملہ محض ایک صوفیانہ قول نہیں بلکہ عصر حاضر کے انسان کے لیے آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہم اپنی اجتماعی منافقت، خوف، بزدلی اور خاموشی کو واضح دیکھ سکتے ہیں۔ محرم ہمیں صرف گریہ نہیں سکھاتا بلکہ شعور دیتا ہے۔ کربلا ہمیں صرف جذبات نہیں دیتی بلکہ کردار عطا کرتی ہے۔ امام حسینؑ کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان حق پر قائم رہے، چاہے اس کے مقابل پوری دنیا کیوں نہ کھڑی ہو جائے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کربلا تلواروں کی جنگ سے پہلے نظریات کی جنگ تھی۔ ایک طرف اقتدار تھا، طاقت تھی، جبر تھا، دربار تھا، خوف تھا، مفاد تھا، دوسری طرف حق تھا، صداقت تھی، ضمیر تھا اور ایک ایسا انسان تھا جو پوری تاریخ کے سامنے یہ اعلان کر رہا تھا کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا انسانیت کی توہین ہے۔ امام حسینؑ نے بیعت سے انکار کرکے دراصل انسان کو یہ سکھایا کہ باطل کے نظام میں خاموش شمولیت بھی جرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا محض شہادت کا واقعہ نہیں بلکہ انسانی آزادی کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔

آج کا انسان اسی مقام پر کھڑا ہے جہاں کبھی کوفہ کھڑا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج تلواروں کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔ لوگ ظلم کو پہچانتے ہیں مگر اس کے خلاف بولنے سے ڈرتے ہیں۔ ملازمت چلی جائے گی، تعلقات خراب ہو جائیں گے، سوشل میڈیا پر تنقید ہوگی، طاقتور ناراض ہو جائیں گے، یہ وہ خوف ہیں جنہوں نے جدید انسان کی روح کو قید کر رکھا ہے۔ یہی خوف معاشروں کو مردہ بنا دیتا ہے۔ زندہ معاشرے وہ ہوتے ہیں جہاں سچ بولنے والے موجود رہیں۔ جہاں قلم ضمیر کے تابع ہو، اقتدار کے تابع نہ ہو۔ جہاں دانشور حکمرانوں کے قصیدے نہ لکھیں بلکہ سماج کے زخموں کی نشاندہی کریں۔

محرم ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی ظلم میں شریک ہونا ہے۔ امام حسینؑ نے اگر صرف اپنی جان بچانے کا سوچا ہوتا تو وہ بیعت کر لیتے، خاموش ہو جاتے، مدینہ کی تنہائی میں عبادت کرتے رہتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک دین صرف عبادت کا نام نہیں تھا بلکہ عدل، سچائی اور انسانی حرمت کا نام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت نے وقت کے سب سے بڑے جابر اقتدار کو اخلاقی شکست دے دی۔

آج ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں حق اور باطل کی سرحدیں دھندلا دی گئی ہیں۔ میڈیا سچ کو بیچتا ہے، سیاست مفاد کے گرد گھومتی ہے، مذہب کو طاقت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور انسان اپنی ذات کے خول میں بند ہو چکا ہے۔ ایسے ماحول میں کربلا صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ فکری مزاحمت کی سب سے بڑی علامت بن جاتی ہے۔

ہمارے معاشروں میں ایک عجیب تضاد پیدا ہو چکا ہے۔ لوگ امام حسینؑ سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور ظالم نظاموں کے سامنے خاموش بھی رہتے ہیں۔ وہ ماتم بھی کرتے ہیں مگر مظلوم کے حق میں آواز بلند نہیں کرتے۔ وہ نوحے بھی سنتے ہیں مگر اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافی پر خاموش رہتے ہیں۔ شاید یہی وہ منافقت ہے جس کی طرف شاعر نے اشارہ کیا تھا:

دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

یہ شعر ہمارے پورے سماج کی تصویر ہے۔ ظلم صرف وہ نہیں جو تلوار سے کیا جائے، ظلم وہ بھی ہے جو خاموشی سے برداشت کیا جائے۔ جب انسان ناانصافی دیکھ کر خاموش رہتا ہے تو وہ ظالم کو مزید طاقت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کا راستہ صرف شہادت کا راستہ نہیں بلکہ مزاحمت کا راستہ ہے۔

کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تعداد حق کی دلیل نہیں ہوتی۔ حسینؑ کم تھے مگر حق پر تھے۔ یزید کے پاس لشکر تھا، اقتدار تھا، وسائل تھے مگر وہ تاریخ کے کٹہرے میں مجرم بن گیا۔ آج بھی یہی اصول قائم ہے۔ سچ ہمیشہ طاقتور نہیں ہوتا مگر آخرکار وہی باقی رہتا ہے۔ باطل وقتی شور پیدا کرتا ہے مگر تاریخ کے حافظے میں زندہ نہیں رہتا۔

عصر حاضر کا سب سے بڑا بحران یہی ہے کہ انسان نے حق گوئی کو نقصان سے جوڑ لیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سچ بولنے سے کیا فائدہ؟ نظام نہیں بدلتا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ہر بڑی تبدیلی ایک آواز سے شروع ہوئی تھی۔ اگر حسینؑ بھی یہ سوچ لیتے کہ ان کے چند ساتھی دنیا نہیں بدل سکتے تو کربلا کبھی انسانیت کی علامت نہ بنتی۔ اصل کامیابی نتیجے میں نہیں بلکہ موقف میں ہوتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ محرم کو صرف ایک رسم نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اجتماعی احتساب کا موسم بنایا جائے۔ ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ اگر ہم کربلا کے زمانے میں ہوتے تو کس صف میں کھڑے ہوتے؟ کیا ہم حق کے ساتھ ہوتے یا خاموش تماشائیوں میں شامل ہوتے؟ یہ سوال صرف تاریخ کا نہیں، ہمارے حال کا بھی ہے۔ ہر دور انسان سے اس کا موقف مانگتا ہے۔

ہمارے تعلیمی ادارے اگر صرف ڈگریاں دیں اور کردار نہ پیدا کریں تو وہ یزیدی سماج کو مضبوط کرتے ہیں۔ ہمارے مذہبی مراکز اگر صرف جذبات ابھاریں مگر ظلم کے خلاف شعور نہ دیں تو وہ کربلا کے پیغام کو محدود کر دیتے ہیں۔ ہمارے دانشور اگر اقتدار کے خوف سے خاموش رہیں تو ان کی تحریریں زندہ نہیں رہتیں۔ امام حسینؑ کا راستہ انسان سے قربانی مانگتا ہے، سچائی مانگتا ہے، جرات مانگتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا استعارہ بن گئی۔ دنیا کے بڑے مفکرین، انقلابی رہنما اور آزادی کی تحریکیں حسینؑ کے کردار سے متاثر ہوئیں کیونکہ انہوں نے ثابت کیا کہ انسان جسمانی شکست کے باوجود اخلاقی فتح حاصل کر سکتا ہے۔

ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر طرف ایک نئی کربلا بپا ہے۔ کہیں انصاف طاقت کے ہاتھوں قتل ہو رہا ہے، کہیں سچائی مفاد کی قربان گاہ پر ذبح کی جا رہی ہے، کہیں غربت انسانیت کی تذلیل بن چکی ہے، کہیں مذہب کو نفرت کے ہتھیار میں بدل دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں حسینؑ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ظلم ہمیشہ تلوار لے کر نہیں آتا۔ کبھی وہ قانون کی شکل میں آتا ہے، کبھی میڈیا کی صورت میں، کبھی معاشی استحصال کی شکل میں، کبھی مذہبی منافقت کے پردے میں۔ اسی طرح حق بھی ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا، کبھی ایک سچا جملہ، ایک دیانت دار قلم، ایک مظلوم کا ساتھ دینا، ایک ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا بھی حسینی کردار بن جاتا ہے۔

معاشرے اس وقت تباہ ہوتے ہیں جب وہاں کے لوگ ظلم کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ جب ضمیر مفاد کے ہاتھ فروخت ہو جائے تو تہذیبیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ آج ہم بظاہر جدید دنیا میں رہتے ہیں مگر روحانی اور اخلاقی سطح پر شدید بحران کا شکار ہیں۔ انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر بصیرت کم ہے۔ رابطے بہت ہیں مگر تعلقات نہیں۔ شور بہت ہے مگر سچائی کی آواز کمزور ہو چکی ہے۔

ایسے وقت میں محرم انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان صرف عقیدت کا نام نہیں بلکہ موقف کا نام ہے۔ محبت صرف آنسو بہانے سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے سے ثابت ہوتی ہے۔ اگر ہماری زندگیوں میں سچائی، انصاف، جرات اور انسانی ہمدردی موجود نہیں تو محض رسمیں ہمیں حسینی نہیں بنا سکتیں۔

کربلا کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ ہر دور میں زندہ رہتی ہے۔ جب بھی کوئی مظلوم اپنے حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، جب بھی کوئی قلم جبر کے خلاف لکھتا ہے، جب بھی کوئی انسان سچ بولنے کی قیمت ادا کرتا ہے، وہاں کربلا کی روح موجود ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ تاریخ کے ایک کردار نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی دائمی آواز بن چکے ہیں۔ ان کی شہادت نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا ایمان کی کمزوری ہے اور حق کے لیے کھڑا ہونا انسانیت کی معراج۔

کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان کو ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، چاہے اس کی قیمت تنہائی، محرومی یا قربانی ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ وقت گزر جاتا ہے، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، مگر سچائی کی آواز باقی رہتی ہے اور شاید اسی لیے تاریخ آج بھی انسان سے یہی سوال کرتی ہے کہ تم کس کے ساتھ ہو؟ طاقت کے ساتھ یا حق کے ساتھ؟ خاموشی کے ساتھ یا سچائی کے ساتھ؟

یہی سوال محرم کا سوال ہے۔ یہی سوال کربلا کا سوال ہے۔ یہی سوال انسانیت کے ضمیر کا سوال ہے۔

Check Also

Jab Kalma e Haq Baghawat Thehra

By Dr. Saif Wallahray