Trump Re Trump, Teri Kon Si Kal Seedhi?
ٹرمپ رے ٹرمپ، تیری کون سی کل سیدھی؟

اپنے آپ کو سب سے بہتر اور برتر سمجھنا جسے نفسیات کی دنیا میں احساسِ برتری کہا جاتا ہے، ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جو اکثر انسان کو حقیقت سے دور لے جاتی ہے۔ جدید نفسیات کے بانی Sigmund Freud کے مطابق احساسِ برتری دراصل اکثر اوقات احساسِ کمتری کی ایک شکل ہوتا ہے۔ یعنی جو شخص اندر سے کمزور ہوتا ہے وہ خود کو دوسروں سے زیادہ بڑا اور اہم ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی لیے تاریخ میں بڑے بڑے مفکرین اور رہنماؤں نے خود پسندی سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اسلامی تاریخ میں خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروقؓ کا ایک قول مشہور ہے کہ "مجھے سب سے زیادہ جس چیز سے ڈر لگتا ہے وہ خود پسندی ہے"۔ یعنی انسان اگر یہ سمجھنے لگے کہ وہ سب سے بہتر ہے تو یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔
آج کی عالمی سیاست میں اگر کسی شخصیت کو اس نفسیاتی کیفیت کی علامت سمجھا جائے تو بہت سے ناقدین کی نظر میں وہ امریکی صدر Donald Trump ہیں۔ ان کے طنزیہ اور خود پسند بیانات، رنگین طرزِ زندگی اور جارحانہ انداز نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں سیاست، میڈیا اور عوامی رائے کو متاثر کیا ہے۔ یہی وہ پہلو ہیں جو ٹرمپ کو ایک متنازع مگر ہمیشہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنائے رکھتے ہیں۔
ٹرمپ اس وقت تقریباً 80 برس کی عمر کو پہنچنے والے ہیں۔ وہ امریکہ کی تاریخ کے زیادہ عمر رسیدہ صدور میں شمار ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے Joe Biden 78 برس کی عمر میں صدر بنے تھے، جبکہ ٹرمپ پہلی بار 2017 میں صدر بنے تو ان کی عمر تقریباً 70 برس تھی۔ عمر کے اس مرحلے میں بھی ان کی گفتگو اور بیانات اکثر دنیا بھر میں بحث اور طنز کا موضوع بن جاتے ہیں۔
ٹرمپ کے چند ایسے بیانات ہیں جو آج بھی سیاسی مباحث اور سوشل میڈیا پر مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ انہوں نے اپنی ذہانت کے بارے میں کہا:
"I am a very stable genius."
یعنی "میں ایک انتہائی مستحکم ذہین انسان ہوں"۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بے شمار مذاق اور تبصرے ہوئے اور یہ جملہ ٹرمپ کی شخصیت کے طنزیہ حوالوں میں شامل ہوگیا۔
اسی طرح ایک موقع پر انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ سمندری طوفان کو روکنے کے لیے شاید ایٹم بم استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین نے اس خیال کو غیر عملی قرار دیا، مگر یہ بیان بھی میڈیا میں خوب زیرِ بحث رہا۔
ٹرمپ نے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنز کے بارے میں بھی ایک عجیب دعویٰ کیا کہ یہ کینسر پیدا کرتی ہیں، حالانکہ سائنس دانوں نے اس دعوے کی تردید کی۔ اسی طرح انہوں نے موسمیاتی تبدیلی یعنی Climate Change کو بھی کئی مرتبہ "دھوکہ" قرار دیا، جس پر عالمی ماہرینِ ماحولیات نے سخت ردعمل دیا۔
ان کے بیانات میں ایک عجیب قسم کا طنز اور غیر روایتی انداز بھی نظر آتا ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے ہاتھ کے سائز پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا:
"My hands are not small. Everything else is fine."
یہ جملہ بھی دنیا بھر میں میمز اور مذاق کا موضوع بنا۔
ٹرمپ کا مشہور نعرہ "Make America Great Again" بھی عالمی سیاست میں ایک علامت بن گیا۔ اس نعرے کے حامیوں کے لیے یہ امریکی طاقت اور قوم پرستی کی علامت تھا، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ ایک سیاسی نعرہ تھا جس پر طنزیہ تبصرے بھی ہوتے رہے۔
اسی طرح انہوں نے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحدی دیوار بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی قیمت میکسیکو ادا کرے گا۔ اس بیان پر بھی عالمی سطح پر بحث اور مذاق دونوں ہوئے۔
سن 2020 میں کورونا وبا کے دوران ان کا ایک بیان خاصا متنازع ہوا۔ ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ اگر جسم کے اندر جراثیم کش دوا یا روشنی پہنچائی جائے تو شاید وائرس ختم ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے اس خیال کو طبی لحاظ سے خطرناک قرار دیا، مگر سوشل میڈیا پر اس بیان پر بے شمار طنزیہ تبصرے ہوئے۔
ٹرمپ کی میڈیا کے ساتھ کشمکش بھی خاصی مشہور رہی ہے۔ وہ اکثر بڑے امریکی میڈیا اداروں کو "Fake News" کہتے رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے The New York Times کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ایک ایسا اخبار قرار دیا جو ان کے بقول امریکہ کے بارے میں منفی خبریں پھیلاتا ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات، جنہیں اکثر "Trumpisms" کہا جاتا ہے، غیر روایتی، سنکی اور بعض اوقات مزاحیہ بھی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگ ان بیانات کو سنجیدگی کے ساتھ ساتھ طنز اور مزاح کے انداز میں بھی دیکھتے ہیں۔
بعض مبصرین کے نزدیک ٹرمپ کی شخصیت جدید سیاست کی ایک نئی علامت ہے، جہاں سیاستدان صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ اپنی شخصیت، اندازِ گفتگو اور میڈیا کی توجہ سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو کبھی حیران کن، کبھی متنازع اور کبھی طنزیہ ہوتی ہے، مگر ایک بات طے ہے کہ وہ عالمی سیاست کے منظرنامے میں ہمیشہ بحث کا مرکز بنے رہتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی شخصیت ایک عجیب امتزاج ہے: خود اعتمادی، جارحیت، طنز اور غیر روایتی بیانات کا۔ یہی امتزاج انہیں دنیا کے سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے سیاسی رہنماؤں میں شامل کرتا ہے اور شاید اسی لیے بعض ناقدین طنزیہ انداز میں پوچھتے ہیں: "ٹرمپ رے ٹرمپ، تیری کون سی کل سیدھی؟"

