Wednesday, 20 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Main Property Dealer Hoon

Main Property Dealer Hoon

میں پراپرٹی ڈیلر ہوں

میرے ہم عصر احباب کے بخوبی علم میں ستر کی دہائی میں اسلام آباد میں آبپارہ مارکیٹ میں قائم کردہ "ارشاد ایکسچینج مارٹ" ہوگا، جو محض ایک پراپرٹی کا دفتر نہیں بلکہ اعتماد کا ایک استعارہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ دفتر مسوٹ مری سے میرے رشتے کے ماموں، ارشاد عباسی صاحب نے قائم کیا تھا۔ اُس زمانے میں مری اور گلیات کے بہت کم لوگ پراپرٹی کے میدان میں نمایاں تھے اور جن چند ناموں کا احترام سے ذکر کیا جاتا تھا، ان میں ارشاد ایکسچینج مارٹ کا نام سرفہرست تھا۔

یہ وہ دور تھا جب پراپرٹی ڈیلر کا مطلب صرف "کمیشن ایجنٹ" نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک ایسا شخص سمجھا جاتا تھا جس کی زبان، ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ لوگ لاکھوں روپے کے معاملات محض ہاتھ ملانے پر کر لیا کرتے تھے۔ ارشاد عباسی صاحب نے اگلی دو دہائیوں میں نہ صرف کامیاب سرمایہ کاری کی بلکہ خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پنڈی، مری اور گلیات کے اوورسیز پاکستانیوں کی بے شمار جائیدادوں کے معاملات کروائے۔ دیانت داری، تعلقات اور اعتماد نے ان کے نام کو ایک کامیاب اور معتبر پراپرٹی ڈیلر کے طور پر شہرت دی۔ بعد ازاں کچھ معاملات میں ان کا نام کافی متنازعہ ہوا مگر مجموعی طور پہ وہ بھرپور اننگ کھیل کے ریٹائر ہوئے۔

پھر نوے کی دہائی کے ساتھ ہی پاکستان بدلنے لگا۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی اوپر تلے حکومتیں بدلنے اور سیاسی ہنگاموں کے بعد جنرل مشرف کا دور آیا اور پھر پاکستان میں پراپرٹی ڈیلر ازم ایک باقاعدہ سماجی وبا کی طرح گھر گھر پھیل گیا۔ شوکت عزیز کے "ٹرکل ڈاؤن اکانومی" ماڈل، ڈالرائزیشن اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم نے پوری قوم کی توجہ ایک ہی نکتے پر مرکوز کر دی: "پلاٹ خریدو، پلاٹ بیچو، امیر بن جاؤ"۔

دو ہزار دو سے دو ہزار پانچ تک کا مختصر عرصہ پاکستان کی پراپرٹی تاریخ کا شاید سب سے بڑا بوم تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پورا ملک ایک دیوہیکل ہاؤسنگ سوسائٹی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ گھر گھر پراپرٹی ڈیلر پیدا ہو رہا تھا۔ میرے اپنے مرحوم بڑے بھائی، اپنے چند دوستوں کے ہمراہ، کریانے کی دکان چھوڑ کر اس کاروبار میں آ چکے تھے۔ میرے آبائی گاؤں مسوٹ کے درجنوں نوجوان اس شعبے سے وابستہ ہو گئے تھے۔ ہر دوسرا نوجوان یہی کہتا دکھائی دیتا تھا: "جی، پراپرٹی کا کام کرتا ہوں"۔

اسی دوران ایک اور خطرناک تبدیلی رونما ہوئی۔ یہیں سے فراڈ، دھوکہ دہی، جعلی فائلوں، ڈبل سیل، قبضہ مافیا اور امانت میں خیانت کے وہ سلسلے شروع ہوئے جنہوں نے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی نگل لی۔

پراپرٹی کا شعبہ، جو کبھی چند معتبر اور تجربہ کار لوگوں تک محدود تھا، مکمل طور پر غیر منظم ہوگیا۔ بغیر تعلیم، بغیر لائسنس، بغیر قانونی تربیت اور بغیر کسی ریاستی نگرانی کے ہزاروں لوگ اس میدان میں کود پڑے۔ کسی کے پاس دفتر تھا، کسی کے پاس صرف موبائل فون۔ کوئی شام کو دودھ کی دکان بند کرکے "پراپرٹی کنسلٹنٹ" بن جاتا تھا، کوئی رکشہ چلا کر اگلے ماہ "ایسٹ ایڈوائزر" کا بورڈ لگا لیتا تھا۔

یہ دراصل ریاست کی اُن نااہل معاشی پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ تھا جس نے صنعت، زراعت اور پیداواری معیشت کو کمزور کرکے پوری قوم کو غیر پیداواری سرمایہ کاری کی طرف دھکیل دیا۔ فیکٹری لگانے والا خسارے میں تھا، مگر فائل خریدنے والا چند مہینوں میں لینڈ کروزر کا مالک بن رہا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورا سماج محنت سے زیادہ "شارٹ کٹ" پر یقین کرنے لگا۔

مجھے یاد ہے بحریہ ٹاؤن نے پہلی دفعہ فائل سسٹم کا آغاز کیا۔ نیا فیز اعلان کیا جاتا اور عوام ٹوٹ پڑتی۔ یونہی فیز نائن کا اعلان ہوا، کھڑکی توڑ رش کے بعد لوگوں نے فائلیں خریدیں جو ایک سال بعد ہی کوڑیوں کے بھاؤ بیچیں کیوں کہ موقع پہ زمین ہی نہ تھی۔

دو ہزار سات میں لال مسجد کے واقعے، سیاسی بے یقینی، دہشت گردی اور پھر معاشی بحرانوں نے پاکستان میں موجود واحد عوامی کاروبار یعنی پراپرٹی مارکیٹ کو شدید دھچکا پہنچایا۔ کاروبار طویل عرصہ سست روی کا شکار رہا۔ بعد میں ڈی ایچ اے اور بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ذریعے یہ شعبہ دوبارہ زندہ تو ہوا، مگر اس کے ساتھ ہی ایک نئی قسم کی speculative economy نے جنم لیا جہاں زمین ضرورت سے زیادہ "سرمایہ" بن گئی اور رہائش ایک خواب۔

پاکستان میں پراپرٹی فراڈز کی تمام تر برائیوں کا منبع گوروں کا عطا کردہ پٹوار سسٹم اور محکمہ مال ہے۔ ہر تحصیل و ضلع میں موجود تحصیل دار اور رجسٹرار آفس ان پڑھ مگر شاطر پٹواریوں کے ہمراہ اس منظم کاروبار کے سرخیل ہوتے ہیں اور بے بس شہری یا دیہی پراپرٹی کی خرید وفروخت کرنے والا شہری، جب تک ہمراہ رشوت پٹواری کے دربار میں حاضری نہ دے تو مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا۔ ہر حکومت نے پٹوار سسٹم کو ڈیجیٹائز کرنے کا نعرہ لگایا جو اس سسٹم کے بینفشریوں نے بری طرح ناکام بنایا۔

پچھلی دو دہائیوں میں ڈیلر بھائیوں نے شہریوں کے مضافات میں دس دس، بیس بیس کمال کے رقبے پلاٹنگ کرکے رجسٹری انتقال کے "محفوظ اعلان" کے بعد فروخت کئے، جہاں موجود مقیم پندرہ فٹ کی گلیوں میں قائم اپنے مکانات میں ساری عمر سیوریج، واٹر سپلائی اور بجلی کی وولٹیج کی جنگ لڑتے رہتے ہیں، جب کہ بیچنے والا پتلی گلی سے نکل چکا ہوتا ہے۔ حیران کن طور پہ یہ "محفوظ پلاٹ" جس خسرہ نمبر میں ہوتا ہے، وہ وہاں سے دو میل دور کسی اور موضعے کا ہوتا ہے۔ ان ڈویلپرز کا کیا گلہ کریں یہاں تو لوگ لٹ چکے ہوتے ہیں تو سی ڈی اے، آر ڈی اے اور دیگر ریگولیٹری ادارے ون فائن مارننگ اچانک غیر قانونی سوسائٹیوں کے اشتہار لگا دیتے ہیں۔ زندگی بھر کی کمائی لگا کر پلاٹ خریدتا ہے مگر اس کے پاس کوئی حقیقی ریاستی تحفظ موجود نہیں۔

جو لوگ بیرون ملک جاتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مغربی ممالک میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں پراپرٹی ڈیلر صرف ایک دلال نہیں بلکہ ایک لائسنس یافتہ پروفیشنل ہوتا ہے۔ وہاں ہر پراپرٹی ڈیل ریاستی نگرانی، قانونی معاہدوں، بینکنگ چینلز، ٹائٹل سرچ، اِنشورنس اور "ایسکرو سسٹم" کے تحت مکمل ہوتی ہے۔ خریدار کی رقم کسی پراپرٹی ڈیلر کی جیب میں نہیں جاتی بلکہ ایک غیر جانبدار قانونی ادارہ اسے اپنے ٹرسٹ اکاؤنٹ میں رکھتا ہے۔ سرکاری ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے کہ جائیداد متنازع تو نہیں، رہن تو نہیں، جعلی تو نہیں۔ پھر ریاستی سطح پر محفوظ رجسٹرڈ ڈیڈ کے ذریعے ملکیت منتقل کی جاتی ہے۔

اسی لیے وہاں دو اجنبی لوگ کروڑوں ڈالر کی ڈیل بھی نسبتاً اطمینان سے کر لیتے ہیں، کیونکہ اعتماد کسی فرد پر نہیں بلکہ نظام پر ہوتا ہے۔ ایک روپے کی رشوت اس پورے پراسس میں کہیں لی جاتی ہے، نہ دی جاتی ہے۔

قومیں صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں بنتیں، نظام سے بنتی ہیں اور جہاں نظام کمزور ہو، وہاں پلاٹ صرف زمین نہیں ہوتے، اکثر لوگوں کے خوابوں کی قبریں بھی بن جاتے ہیں۔ ہم اسی لئے قوم کے مستقبل سے مایوس ہیں، اتنے بڑے مافیا سے کون لڑے گا اور اس نظام کو کون سے فرشتے درست کریں گے؟ ہم گلہ بھی کس سے کریں، جو سب سے بڑا ادارہ نظام کی درستگی کا دعویدار ہے، وہی خود پراپرٹی ڈیلنگ میں انوالو ہے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Barhti Hui Garmi Aur Badalta Pakistan

By Bisma Ahmed