Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Babar Ali
  4. Jab Aik Ghareeb Ne Meri Biryani Chori Kar Li

Jab Aik Ghareeb Ne Meri Biryani Chori Kar Li

جب ایک غریب نے میری بریانی چوری کر لی

ہماری سوسائٹی میں ایک عجیب فیشن چل نکلا ہے۔ سیاست دانوں کو ہر برائی کی جڑ قرار دو، بیوروکریٹس کو قوم کا دشمن ثابت کرو اور غریب آدمی کو معصوم فرشتہ بنا کر پیش کرو۔ سوشل میڈیا کے بہت سے ویلاگرز اور یوٹیوبرز اسی نسخے پر چل رہے ہیں۔ غریبوں کی ہمدردی بیچ کر ویوز سمیٹو، جذبات بھڑکاؤ اور ڈالر کماؤ۔

مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں نے غریب آدمی کو دور سے دیکھا ہے، قریب سے نہیں۔ یا یہ لوگ آ وجہ سے انھیں نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ ان غریبوں کی کرپشن معمولی سطح کی ہوتی ہے، مثلاً سو پچاس کی یا چند ہزار کی۔ میرا ماننا ہے کہ اگر یہ دانشور کچھ عرصہ مزدوروں، دیہاڑی داروں اور عام لوگوں کے درمیان گزاریں تو غریبوں کے متعلق ان کی رومانوی سوچ کا بخار اتر جائے۔

یہ تصور کہ غریب آدمی لازماً نیک، ایماندار اور اعلیٰ کردار کا مالک ہوتا ہے، محض ایک خوش فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا کردار اس کی جیب سے نہیں بلکہ اس کی تربیت اور ضمیر سے بنتا ہے۔ بلکہ سماجی ماحول سے اور کوئی سماج جب برباد ہوتا ہے تو اس کا ہر طبقہ برباد ہوتا ہے۔ صرف امرا نہیں، غریبوں میں بھی چور ہیں، دھوکے باز ہیں، جھوٹے ہیں اور بددیانت ہیں، بالکل اسی طرح جیسے امیروں میں۔

فرق صرف پیمانے کا ہے۔

ایک سیاست دان اربوں کھاتا ہے۔ کیونکہ اسے اربوں تک رسائی ہے۔ ایک کلرک ہزاروں کی رشوت لیتا ہے کیونکہ اس کی پہنچ اتنی ہے اور ایک عام آدمی سو پچاس یا ہزار کی کرپشن کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی پہنچ یہیں تک ہے۔ اگر یہ بڑا موقع پائے تو یہ بھی بڑی کرپشن کرے گا۔

میں یہ بات کسی فلسفیانہ بحث کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا بلکہ مشاہدے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔

چلیں، ایک خود بیتی پڑھیں۔ تاکہ آپ کو خبر ہو کہ مزدور بھی بےایمان ہے۔

ایک دن میں نے مزدوروں کے کمرے میں اپنی بریانی کا ڈبہ رکھ دیا۔ دل میں خوشی تھی کہ شام کو گھر جا کر کھانا بنانے یا خریدنے کی زحمت نہیں ہوگی۔ لیکن جب شام کو کمرے میں پہنچا تو بریانی سمیت ڈبہ بھی غائب تھا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ ایک مزدور نے ڈبے پر نظر پڑتے ہی چند منٹوں میں پوری بریانی صاف کر دی اور رخصت ہوگیا۔

یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا۔ ایسے واقعات میں نے درجنوں بار دیکھے ہیں۔ کبھی کسی کا سامان غائب، کبھی کسی کے اوزار، کبھی کسی کی چیز استعمال کرکے واپس نہ کرنا، کبھی جھوٹ بول کر فائدہ اٹھانا۔

یہ سب وہ لوگ تھے جنہیں سوشل میڈیا پر "مظلوم عوام" کہا جاتا ہے۔

میرا مقصد سیاست دانوں کی کرپشن کا دفاع کرنا نہیں۔ جو چور ہے، وہ چور ہے، چاہے وہ پارلیمنٹ میں بیٹھا ہو یا مزدوروں کے کمرے میں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کرپشن کو صرف اقتدار کے ایوانوں میں کیوں تلاش کرتے ہیں؟

کرپشن صرف اربوں روپے کھانے کا نام نہیں۔ کسی کی چیز چوری کر لینا، جھوٹ بول کر فائدہ اٹھانا، امانت میں خیانت کرنا اور دوسروں کے حق پر ہاتھ صاف کرنا بھی کرپشن ہی ہے۔ اگر ہم انصاف پسند ہیں تو ہمیں کردار کو دولت کے ترازو میں نہیں تولنا چاہیے۔ غریب ہونا نیکی کی سند نہیں اور امیر ہونا بدکرداری کا ثبوت نہیں۔

مسئلہ طبقہ نہیں، مسئلہ سماج کا ہے، جس کی اخلاقیات کا تانا بانا ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اہلِ مذہب نے، جرنیلوں نے، ویلاگرز و یوٹیوبرز نے۔ جب تک یہ معاشرہ سائنسی نہیں بنے گا، یہ ایسے ہی رہے گا اور جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے، ہم کرپشن کے اصل مسئلے کو سمجھ ہی نہیں سکیں گے۔

Check Also

Baap Par Bete Ka Haq

By Fazal Tanha Gharshin