Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Fazal Tanha Gharshin
  4. Baap Par Bete Ka Haq

Baap Par Bete Ka Haq

باپ پر بیٹے کا حق

زیر نظر تحریر ہیری ایچ ہیریسن جونیئر کی کتاب "فادر ٹو سن" کا اردو خلاصہ ہے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ بیٹے سے ایک ذمہ دار فرد بنانا صرف ماں کی نہیں، باپ کی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک باپ کو ہمیشہ اپنے بیٹے کے ارد گرد رہنا چاہیے اور اس کا دوست نہیں، بل کہ باپ بن کر رہنا چاہیے، کیوں کہ دوست کبھی بھی دوست کو نظم و نسق کا پابند نہیں بنا سکتا۔ باپ اپنا قیمتی وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزاریں اور کھانا بھی بچوں کے ساتھ گھر پر کھائیں۔ وہ بچوں کو طعام و قیام کے آداب اور وقت پر سونے اور جاگنے کی اہمیت سکھائیں۔ وہ رات کو بچوں کو کہانیاں سنائیں، مگر ان کو اپنے ساتھ اپنے بستر میں کبھی نہ سلائیں۔ بچوں پر یہ ذمہ داری عائد کریں کہ رات کو سونے سے پہلے گیٹ کو تالا لگائیں، گاڑی کو لاک کریں اور غیر ضروری سوئچز کو آف کریں۔ وہ بچوں کو اپنا اصل نام، پیشہ، رابطہ نمبر، گھر کا پتہ اور ایمرجنسی رابطہ نمبرز ضرور ازبر کرائیں تاکہ بہ وقت ضرورت مشکل سے دوچار نہ ہو۔ بالفرض اگر آپ سفر میں ہیں یا مسافر ہیں تو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمیشہ بچوں کو میسر رہیں تاکہ بچے خود کو آپ کی عدم موجودگی میں بھی محفوظ تصور کریں۔

مصنف لکھتے ہیں کہ والد کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے ساتھ سیر و تفریح پر جایا کریں اور ان کو نئی دنیا کی ضرورتوں، چیلنجز اور خطرات سے آگاہ کریں۔ بچوں کو پارک اور چڑیا گھر پر لے جایا کریں اور ان کو وہاں کھیلنے دیں۔ بچوں کو پھول، درخت اور پودے اگانا، بائیسکل چلانا، گھریلو جانور پالنا اور اپنے کمرے کی صفائی کرانا، گھر کا خیال رکھنا، محلے کو صاف رکھنا، ناخن تراشنا، دانت برش کرنا، واش روم کو صاف رکھنا اور اپنے بوٹ پالش کرانا سکھائیں۔

باپ کو چاہیے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر بچوں سے پوچھیں کہ ان کا دن کیسا، کہاں اور کس کے ساتھ گزرا اور آج کیا کیا۔ بچوں سے پوچھ لیا کریں کہ ان کے پسندیدہ کردار کون کون سے ہیں اور وہ کیا بننا چاہتے ہیں۔ بچوں کو سن لیا کریں تاکہ وہ محسوس کریں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ بچوں کو اپنے دفاع کے لیے لڑنا اور حفاظتی چالیں سکھائیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی سکھائیں کہ از خود کسی سے لڑائی نہ مول لیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی لکھائی، ہوم ورک اور آرٹ اپنے گھر اور دفتر میں آویزاں کریں۔ اپنے بچوں کو بھوک اور تھکن کا احساس مت دلائیں کہ وہ ناخوش ہوجائیں۔ پریشان ہونے کی صورت میں بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اور منفی سوچنا شروع کردیتے ہیں۔ بچے سے یہ مت کہو کہ مت رو، بل کہ پوچھ لو کہ وہ کیوں روتا ہے۔ کبھی کبھار ان کے اساتذہ سے ملنے ان کے اسکول جایا کریں تاکہ آپ کو بچے کی پڑھائی اور کردار کے متعلق درست معلومات حاصل ہوسکیں۔

مصنف لکھتے ہیں کہ والد پر لازم ہے کہ اپنے بچوں کو منشیات، شراب نوشی، فحش فلمیں، جنسیات اور جرائم کے نقصانات سے اچھی طرح آگاہ کریں، تاکہ وہ محفوظ زندگی بسر کر سکیں۔ بچوں کو کتاب سے محبت، ادب سے شغف، بروقت قرض واپسی، مشکلات کا سامنا کرنے، والدین کا ہاتھ بٹانے، گروپ میں کام کرنے، معاف کرنے، معافی مانگنے، اپنی غلطی تسلیم کرنے، تنقید برداشت کرنے اور شکست قبول کرنے جیسی اعلیٰ اقدار سے روشناس کرائیں۔ والد کی قوت خرید خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو پھر بھی بچوں کی تمام تر خواہشات پوری نہ کریں، کیوں کی ان کا ہر مطالبہ درست نہیں ہوتا اور مستقبل میں وہ شتر بے مہار بن سکتے ہیں۔ بچوں کو فضول خرچی کرنے اور برانڈڈ مہنگی چیزیں نہ خریدنے دیں۔ اگر بچے کا مطالبہ جائز ہے اور والد کے پاس پیسے نہیں ہیں تو والد کو چاہیے کہ قرض لے کر بچے کو مایوس نہ کریں۔

بچوں کو عمر اور ضرورت کے تناسب سے جیب خرچ دیا کریں اور ذمہ داریاں سونپ دیں تاکہ وہ ہمہ وقت مصروف رہیں۔ بچوں کو مسلسل ٹی وی دیکھنے اور موبائل فون استعمال کرنے نہ دیں۔ ان کے موبائل فونز، کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ کی مسلسل نگرانی کیا کریں۔ آپ کے بیٹے کی جو بھی بری عادت، بری بات، برا رویہ اور برے حرکات بیرونی دنیا کو پسند نہیں، تو آپ وہ گھر کے اندر بھی قطعا قبول نہ کریں۔ ورنہ آپ کو سکھ کبھی نصیب نہ ہوگا۔ بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ دوسروں کے مال، جائیداد، عزت نفس، مذہب، ثقافت اور زبان کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ ان کو یہ بھی بتائیں کہ تمام مذاہب، تہذیبیں، زبانیں اور جغرافیے قابل احترام ہیں۔ ان کو ماحولیات، خواتین، معذوروں، نیچر اور پانی کی اہمیت روشناس کرائیں تاکہ وہ ماحول دوست اور انسان دوست بھی بنیں۔ ان کو رشتوں کی اہمیت بھی بتائیں کیوں کہ کل انھوں نے بھی بیمار اور بوڑھا ہونا ہے۔

مصنف مزید لکھتے ہیں کہ بچوں کو آپس میں مہربانی اور اتفاق کا درس دیں۔ ان کو دوستی نبھانے کے گر، سماجی اقدار، ملکی قوانین، اسپورٹس اور ٹریفک کے اصول سکھائیں۔ ان کو بتائیں کہ اپنی باری آنے تک قطار میں پرامن کھڑے رہیں اور انتظار کریں۔ ان کو ڈرائیونگ، کمپیوٹر کی تعلیم، ای میل لکھنے کا طریقہ، بینک کے معاملات، ایمرجنسی کنٹرول کرنے کی مہارت، کاروباری لین دین، ٹیکنالوجی کا درست استعمال اور حلال طریقے سے پیسہ کمانے کا ہنر دلائیں۔ ان کو ہتھوڑا، آری، کدال، بیلچہ، فانہ، سان اور دیگر اوزار کا استعمال سیکھائیں، کیوں کہ معمولی معمولی کاموں کے لیے بازار سے کاریگر نہیں بلائے جاتے۔ بچوں پر چیخنا چلانا بند کردو۔ اگر ان کا استاد یا کوچ ان پر چلاتا ہے تو فوراََ اس کوچ یا استاد کو تبدیل کرلو، کیوں کی چیخنے چلانے سے بچوں کی تخلیقی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اور وہ حوصلہ شکنی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بچوں کو کوئی بھی کھیل، ماہی گیری، تیراندازی، تیرنا یا گھڑ سواری سکھائیں، کیوں کہ صحت مند دماغ صحت مند جسم میں ہوتا ہے۔

مصنف بچوں کی روحانی تربیت پر بھی زور دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے بچوں کو خدا، پیغمبر، مذہب، دعا، روحانی مقامات اور روحانی رہنماؤں سے ضرور متعارف کرائیں۔ روحانیت پر یقین رکھنے والے کبھی مایوسی، خودکشی اور ظلم نہیں کرتے۔

جب آپ کا بیٹا بڑا ہوجائے تو اس کو اپنے گرل فرینڈ اور دوستوں سے ملنے دو اور ان کو عزت دو، لیکن ان پر یہ واضح کریں کہ آپ منشیات، شراب نوشی، جوا اور فحاشی کے سخت خلاف ہیں۔ دوسروں کے سامنے اپنے بیٹے پر تنقید اور سرزنش نہ کریں، بل کہ تعریف کریں۔ اپنے بیٹے کے سامنے اس کی ماں کو بھرپور پیار دیں، مگر بیٹوں کے سامنے اس پر تنقید نہ کریں اور اس کے ہاتھوں کے پکائے گئے کھانے کی دل کھول کر تعریف کریں۔

بچوں کو کپڑے دھونا اور استری کرنا آتا ہو۔ کسی بھی امتحان میں فیل ہونے کی صورت میں بچوں کی حوصلہ شکنی نہ کریں، بل کہ یہ باور کرائیں کہ فیل ہونا بھی آپ کی کوشش کا ثبوت ہے۔ البتہ ان کے احمقانہ حرکات و سکنات اور غلط سرگرمیوں کا کبھی دفاع نہ کریں اور فوراََ اصلاح کریں۔ بچوں کو ہمیشہ اپنے سامنے جواب دہ رکھیں۔

آخر میں مصنف لکھتے ہیں کہ اپنے بچوں کو دوسروں سے ملاقات کے آداب سکھائیں۔ اپنے بچوں کو دوسروں سے ملنے کے دوران میں سیدھا کھڑا ہونا، آنکھ سے آنکھ ملانا، گرم جوشی سے ہاتھ ملانا اور خندہ پیشانی سے پیش آنا سیکھائیں۔ ان کو سیکھائیں کہ دنیا آپ کے ارادوں کو نہیں عمل کو اور الفاظ کو نہیں کردار کو دیکھتی ہے۔ ان پر واضح کریں کہ مسائل فرار سے نہیں عملی کام سے حل ہوتے ہیں۔ ان کو یقین دلائیں کہ آپ کی قسمت کا فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے اور جا۔۔ اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوجا!

Check Also

Baap Par Bete Ka Haq

By Fazal Tanha Gharshin