Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Insaf Ki Talash: Pakistan Siasi Bedari

Insaf Ki Talash: Pakistan Siasi Bedari

انصاف کی تلاش: پاکستان سیاسی بیداری

"عدل کسی معاشرے کی زینت نہیں، اس کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب بنیاد کمزور ہو جائے تو عمارت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو، ایک دن گر جاتی ہے"۔

پاکستان کی تاریخ کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی قوم کی تاریخ ہے جو مسلسل انصاف کی تلاش میں ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک عوام کے خواب، ان کی امیدیں، ان کے احتجاج، ان کی قربانیاں اور ان کی سیاسی جدوجہد ایک ہی لفظ کے گرد گھومتی رہی ہیں: انصاف۔

لیکن انصاف آخر ہے کیا؟ کیا انصاف صرف عدالتوں کا نام ہے؟ کیا انصاف صرف آئین میں درج چند اصولوں کا نام ہے؟ کیا انصاف صرف انتخابات کے انعقاد سے حاصل ہو جاتا ہے؟ یا پھر انصاف ایک ایسی اجتماعی کیفیت ہے جس میں ریاست، قانون اور طاقت سب کمزور ترین شہری کے تحفظ کے لیے استعمال ہوں؟

یہ سوال صرف پاکستان کا نہیں، پوری انسانی تاریخ کا سوال ہے۔ اسی سوال نے فلسفیوں، مفکروں، انبیاء، مصلحین اور انقلابیوں کو صدیوں سے متحرک رکھا ہے۔

جان راولز سے امرتیہ سین تک

جدید سیاسی فلسفے میں جان راولز John Rawls نے انصاف کو منصفانہ اداروں کی تشکیل سے جوڑا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر انسان اپنے ذاتی مفادات سے بے خبر ہو کر معاشرے کے قوانین بنائیں تو وہ لازماً ایسے اصول وضع کریں گے جو سب کے لیے منصفانہ ہوں۔

یہ تصور اپنی جگہ اہم ہے، لیکن پاکستان جیسے معاشروں کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے ادارے کیسے بنائے گئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو ادارے موجود ہیں، وہ اکثر عام آدمی کو انصاف دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

یہیں امرتیہ سین Amartya Sen کی فکر زیادہ عملی محسوس ہوتی ہے۔

سین کہتے ہیں کہ ہمیں "مثالی انصاف" کی تلاش میں وقت ضائع کرنے کے بجائے "واضح ناانصافیوں" کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔

ایک غریب کسان جو اپنے حق سے محروم ہے۔ ایک مزدور جو اپنی اجرت کے لیے دربدر ہے۔ ایک بیوہ جو برسوں عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے۔ ایک نوجوان جو میرٹ کے باوجود مواقع سے محروم ہے۔ یہ سب ناانصافیاں ہیں اور انصاف کا آغاز ان کے خاتمے سے ہوتا ہے۔

ایڈم اسمتھ اور اخلاقی بحران

ایڈم اسمتھ Adam Smith کو اکثر صرف سرمایہ داری کا نظریہ دان سمجھا جاتا ہے، حالانکہ انہوں نے اپنی مشہور کتاب The Theory of Moral Sentiments میں واضح کیا تھا کہ کوئی معاشرہ اخلاقی بنیادوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔

قانون اخلاق کے بغیر کمزور ہو جاتا ہے۔ ادارے کردار کے بغیر کھوکھلے ہو جاتے ہیں اور ریاست احتساب کے بغیر استحصال کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

پاکستان کا بحران صرف سیاسی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ جب بدعنوانی کو ذہانت سمجھا جائے، جب طاقت کو حق سمجھا جائے اور جب عوامی خدمت کو ذاتی کاروبار بنا دیا جائے تو انصاف محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔

کارل مارکس کا اہم سوال

کارل مارکس نے ایک ایسا سوال اٹھایا جو آج بھی زندہ ہے: "موجودہ نظام سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟"

ہر معاشرے میں ایسے طبقات موجود ہوتے ہیں جو طاقت، دولت اور مراعات کے موجودہ ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی طبقات تبدیلی کی مزاحمت بھی کرتے ہیں۔

پاکستان میں بھی دہائیوں سے ایک ایسا نظام موجود رہا ہے جس میں اقتدار، وسائل اور مواقع محدود حلقوں میں مرتکز رہے ہیں۔ مارکس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف صرف قانونی مسئلہ نہیں، طاقت کے غیر منصفانہ ارتکاز کا مسئلہ بھی ہے۔

اسلام اور تصورِ عدل

اسلام میں عدل محض ایک سیاسی اصول نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔

قرآن مجید کا حکم ہے: "اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دو، اگرچہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو"۔ (النساء: 135)

یہ آیت انسانی تاریخ کے عظیم ترین انقلابی اعلانات میں سے ایک ہے۔ یہ انصاف کو خاندان، قبیلے، جماعت اور ذاتی مفاد سے بالاتر کر دیتی ہے۔

حضرت عمرؓ کا وہ تاریخی جملہ آج بھی دنیا کے ہر مظلوم کے دل کی آواز ہے: "تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟"

یہی وہ روح تھی جس نے اسلام کو محض مذہب نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیبی قوت بنایا۔

علم، شعور اور انصاف

مسلم مفکر الرازی اور عصر حاضر کے دانشور ضیاء الدین سردار دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انصاف اور علم ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔

جہالت ظلم کی حلیف ہے۔ شعور انصاف کا ساتھی ہے۔ اسی لیے ہر بڑی تبدیلی سے پہلے فکری بیداری آتی ہے۔ لوگ سوال پوچھنا سیکھتے ہیں۔ طاقت کو جواب دہ بنانا سیکھتے ہیں اور پھر معاشرے بدلنا شروع ہوتے ہیں۔

پاکستان میں "انصاف" کی سیاسی بیداری

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں اگر کسی ایک سیاسی نعرے نے عوامی شعور کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تو وہ "انصاف" کا نعرہ ہے۔ یہ محض ایک انتخابی وعدہ نہیں تھا۔ یہ ایک نفسیاتی اور فکری بیداری تھی۔

کئی دہائیوں تک پاکستانی عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ کرپشن ناگزیر ہے، طاقتور قانون سے بالاتر ہیں اور عام آدمی کبھی نظام نہیں بدل سکتا۔ مگر پھر ایک سیاسی تحریک نے ان تصورات کو چیلنج کیا۔

عمران خان کی سیاست سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ انہوں نے احتساب، قانون کی حکمرانی، میرٹ اور انصاف کو قومی مباحثے کا مرکز بنا دیا۔

خاص طور پر نوجوان نسل، خواتین، متوسط طبقے، تعلیم یافتہ شہریوں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں میں ایک نئی سیاسی آگہی پیدا ہوئی۔

لوگ پہلی مرتبہ سنجیدگی سے سوال کرنے لگے: قانون سب کے لیے برابر کیوں نہیں؟ احتساب صرف کمزوروں کا مقدر کیوں ہے؟ ریاست عوام کی خدمت کے بجائے طاقتور طبقات کی محافظ کیوں بن جاتی ہے؟ یہ سوالات خود ایک انقلاب ہیں۔

فیض احمد فیض نے شاید ایسے ہی لمحوں کے لیے کہا تھا:

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

لیکن تاریخ گواہ ہے کہ قومیں ہمیشہ جھکے ہوئے سروں کے ساتھ زندہ نہیں رہتیں۔ کبھی نہ کبھی شعور بیدار ہوتا ہے اور لوگ سر اٹھا کر سوال پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔

حبیب جالب کی آواز آج بھی گونجتی محسوس ہوتی ہے:

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

یہ صرف شاعری نہیں، انصاف کی اجتماعی آرزو کا اظہار ہے۔

انصاف: ایک فرد نہیں، ایک نظریہ

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انصاف کسی ایک جماعت، ایک رہنما یا ایک انتخابی نتیجے کا نام نہیں۔ انصاف ایک نظریہ ہے۔ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔

راولز ہمیں منصفانہ ادارے بنانے کا سبق دیتے ہیں۔ امرتیہ سین ہمیں ناانصافی کے خاتمے کی راہ دکھاتے ہیں۔ ایڈم اسمتھ ہمیں اخلاقیات کی اہمیت سمجھاتے ہیں۔ مارکس طاقت کے ڈھانچوں پر سوال اٹھانا سکھاتا ہے۔ اسلام ہمیں عدل کو ایمان کا تقاضا قرار دیتا ہے اور پاکستان کی نئی سیاسی بیداری ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ عوام جب انصاف کو اپنا حق سمجھ لیں تو تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔

پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، انصاف کی کمی ہے۔ یہ ملک اس دن بدلنا شروع ہوگا جب قانون طاقتور کے دروازے پر بھی اسی طرح دستک دے گا جیسے کمزور کے دروازے پر دیتا ہے۔ جب ریاست شہری کو رعایا نہیں بلکہ صاحبِ حق سمجھے گی۔ جب احتساب انتخابی ہتھیار نہیں بلکہ قومی اصول بنے گا اور جب قوم یہ فیصلہ کر لے گی کہ ظلم کو معمول اور ناانصافی کو تقدیر ماننے سے انکار کرنا ہے۔

کیونکہ آخرکار قوموں کی تقدیر ہتھیاروں، عمارتوں یا خزانوں سے نہیں بدلتی۔ وہ اس وقت بدلتی ہے جب عوام کے دل میں انصاف کی طلب بیدار ہو جائے اور جب انصاف ایک مطالبہ نہیں بلکہ قومی شعور اور تحریک انصاف بن جائے، تو پھر تاریخ کا پہیہ روکنا ممکن نہیں رہتا۔

Check Also

Insan Khasare Mein Hai

By Aamir Mehmood