Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Vice Chancellors Ki Tainati, Merit Badal Gaya

Vice Chancellors Ki Tainati, Merit Badal Gaya

وائس چانسلرز کی تعیناتی، میرٹ بدل گیا

پچھلے سال جب پی ایم ڈی سی نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں فیکلٹی کے ممبران کی عمر کی حد کو بڑھا کر پچھہتر سال کیا تھا تو میرا اسی وقت ماتھا ٹھنکا تھا کہ اس بڑی تبدیلی کے پیچھے کوئی نہ کوئی بڑی خبر ضرور سامنے آئے گی۔ پھر پچھلے ماہ جب پنجاب کی پانچ میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کا موقع آيا تو محکمہ سپیشلایزڈ ہیلتھ نے جو اشتہار دیا اس میں امیدوار کی عمر کی حد پینسٹھ سال مقرر کی گئی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ کچھ موجودہ وائس چانسلر دوبارہ عہدہ حاصل کرنے کی گیم سے باہر ہو گئے ہیں۔

اس خیال کے ساتھ ہی کچھ لوگوں کی نیندیں اڑ گئیں اور بڑے پیمانے پر لابنگ ہوئی اور پرانے تعلقات اور احسانات یاد دلائے گئے تب جاکر پورا تعیناتی کا پراسس ہی روک دیا گیا اور کل وہ خبر سامنے آگئی جس کا خدشہ تھا یعنی وی سی حضرات کی تعیناتی کے لئے عمر کا معیار پینسٹھ سال سے بڑھا کر ستر سال کردیا گیا اور اب کچھ چہیتے لوگ جو پہلے اس گیم سے باہر ہوگئے تھے وہ واپس میدان میں ناصرف آچکے ہیں بلکہ یہ بات بھی اب کنفرم ہے کہ انھیں وی سی کی کرسی دوبارہ مل جائے گی اور فرق صرف اتنا پڑے گا کہ یونیورسٹی فار ہیلتھ سائنسز والے میو ہسپتال اور میو ہسپتال والے یو ایچ ایس چلے جائیں گے۔

مجھے کچھ دوستوں نے کہا کہ یہ حکومت من پسند افراد کو نوازنے کے لئے رولز میں تبدیلی کررہی ہے جو کہ زیادتی ہے۔ جبکہ میرا موقف ہے کہ شاید حکومت کی پرانے لوگوں کو مزید وقت دینے میں اتنی دلچسپی نہیں تھی جتنی امیدواران کی اپنی خواہش شامل تھی۔ کیونکہ اگر تو حکومت کا ایسا پلان ہوتا تو پھر حکومت پہلے پینسٹھ سال والا اشتہار دیتی ہی نہ بلکہ رولز کو بدل کر ہی ان تعیناتیوں کا اعلان کرتی۔ کیونکہ اخبارات میں اشتہار دینے کے بعد سارے معاملہ کو واپس لینے میں حکومت کی سبکی ہوئی ہے اور محکمہ سپیشلایزڈ ہیلتھ کی کریڈیبلٹی اور اختیارات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس سارے عمل نے میرٹ کے عمل کو نقصان پہنچایا ہے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات مزید تقویت پکڑ گئی ہے کہ اب ملک میں نوجوانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے بلکہ وہی گھسے پٹے کردار پلٹ پلٹ کر اختیارات پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ پہلے تو ریٹائرڈ فوجی اور جج عہدوں سے چپکے رہتے تھے اور اب بیوروکریسی اور ڈاکٹر بھی تاحیات عہدوں اور اختیارات کو ذاتی جاگیر سمجھ کر مسلط رہتے ہیں۔

ان لوگوں میں سے اکثریت وہ ہے جو سمجھتی ہے کہ وہ ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کے تحت یہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ پچھیتر سال کی عمر تک کونسی توانائی بچ جاتی ہے جو انتظامی معاملات کا بوجھ اٹھا سکے۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو کیا ضرورت تھی کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد مقرر کی جاتی بلکہ جو شخص ایک بار کسی جاب کو اختیار کرتا تو پھر اسے تاحیات عہدے پر قائم رکھا جاتا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ساٹھ سال کی عمر تک انسان اپنی زندگی میں جو حاصل کرنا چاہتا ہے کر چکا ہوتا ہے اور اس کے بعد کچھ بڑا کرنے کی طلب ختم ہو جاتی ہے۔ کامیاب لوگ اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنا متبادل تیار کردیتے ہیں اور فخر کے ساتھ نوکری چھوڑتے ہیں کہ اب ان کے جونئئر معاملات کو چلانے کے قابل ہوگئے ہیں اور نئی ہمت اور جذبہ کے ساتھ آرگنائزیشن کو چلا سکیں گے۔

ہم مینیجمینٹ میں پڑھتے تھے اور عملی زندگی میں بھی اس کو دیکھ چکے ہیں کی بڑی کمپنیاں اور ادرے ایسے افراد کی پروموشن نہیں کرتے ہیں جب تک کوئی اپنا متبادل تیار نہیں کرتا ہے۔ ایسے مینیجر کو ہمیشہ ناکام ہی تصور کیا جاتا ہے جس کے ماتحت لوگ قابلیت سے خالی ہوتے ہیں اور اس کی غير موجودگی میں سسٹم کو نہیں چلاسکتے ہیں۔ جبکہ یہاں الٹی گنگا بہتی ہے کہ سرکاری محکموں اور اداروں میں لوگ بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے چلنے سے عاری ہوجاتے ہیں لیکن وہ عہدے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔

پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل غلام محمد سے شروع ہوکر موجودہ صدر اور وزیراعظم کو دیکھ لیں کہ ان کی یاداشت پر اثرات نمودار ہونے لگے ہیں لیکن عہدہ اور اختیار چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ وطن عزيز کی مٹی میں جانے کونسی خرابی ہے کہ بوڑھے لوگ اپنی نئی نسلوں کو اختیارات دینے کو راضی نہیں ہوتے ہیں بلکہ آمر بن کر ساری زندگی عہدوں سے چمٹے رہتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان تمام بوڑھوں کی کارکردگی بھی کوئی قابل ذکر نہیں ہے بلکہ پچھلی دھائی سے ملک اور ملکی نظام تباہی کا شکار ہیں اور ہر طرف انتظامی اور معاشی بدحالی صاف دکھائی دیتی ہے۔

ہم میڈیکل کے شعبہ کو ہی دیکھ لیں کہ ڈاکٹروں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ ہسپتالوں کا معمولی سکیورٹی گارڈ بھی ان سے بدتمیزی کرتا ہے۔ میڈیکل کالجوں سے نکلنے والے ڈاکٹر سخت معاشی دباؤ کا شکار ہیں جہاں سرکاری نوکریاں ملتی نہیں ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر میں چند ہزار روپے کے عوض ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور نوجوان ڈاکٹر تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملک سے فرار کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔ ایسے اداروں کی سربراہی کا کیا فایدہ کہ یہ ادارے اپنے ہی فارغ‌التحصیل ڈاکٹروں کو جاب نہ دے سکیں اور نہ ہی ان کے لئے کوئی مربوط کیرئیر پلان تیار نہ کرسکیں۔ اگر کرسیوں سے چپکے رہنا اور روزانہ کے معمولات کو چلانا ہی کسی بڑے عہدے کی ذمہ داری ہے تو یہ کام تو کلرک لوگ زیادہ اچھے طریقے سے کرسکتے ہیں یا پھر نوجوان جو آئی ٹی کا علم جانتے ہیں وہ بھی چلا سکتے ہیں۔ جبکہ سنئیر اور تجربہ کار لوگوں کو عہدوں پر بٹھانے کا مقصد نوجوانوں کے لئے مستقبل کے راستے ہموار کرنا ہوتا ہے۔

یہاں حالت یہ ہے کہ جس بھی سیاسی شخصیت کا دل کرتا ہے وہ ہسپتالوں میں آکر ڈاکٹر حضرات کو ڈانٹ ڈپٹ کرکے چلا جاتا ہے اور یہ وی سی حضرات پاس کھڑے خاموش تماشہ دیکھتے ہیں۔ ہم نے وزير اعلٰی پنجاب کا میو ہسپتال کا دورہ بھی دیکھا ہے جب وزیر اعلٰی ہسپتال کے ایم ایس کو عہدے سے فارغ کرنے کے احکامات دے رہی تھیں اور وائس چانسلر سامنے کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے اور وزیر اعلٰی نے وائس چانسلر کے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لیا تو انھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور انھوں نے استعفا کیا دینا تھا بلکہ دوبارہ وائس چانسلر بننے کو تیار ہیں۔ شاہد یہی وہ میرٹ ہے جس کی بنیاد پر ان افراد کو حکمران تاحیات عہدوں پر رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ حکمرانوں کی ہر برائی ہر بھی تالیاں بجاتے ہیں۔

پچھلے ایک سال میں ہم بارہا اپنے اخبار کے صفحات پر لکھ چکے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں جو مفت ادویات کی فراہمی کا دعوٰی ہے وہ سراسر جھوٹا ہے اور یہ بھی بیان کیا کہ مریضوں کو ان کی بیماری کے مطابق لکھی گئی ڈاکٹر کی دوائیاں ہسپتالوں میں نہیں ملتی ہیں اور مریضوں کو پیراسٹامول یا معدے کے کیپسول کے علاوہ کوئی دوا کم ہی ملتی ہے اور یہ بات ان تمام پرنسپل حضرات اور وی سی حضرات کو بخوبی معلوم ہے اور انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ ادویات نہ ملنے سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں لیکن انھیں ان چیزوں کی کوئی پروا نہیں ہے بلکہ یہ حکمرانوں کے جھوٹے دعوے کو خاموشی سے تسلیم کرتے ہیں اور سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ ملک میں قابل لوگوں کو ناپسند کیا جاتا ہے اور یس مين بھرتی کرکے سسٹم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہوارا نظام ہل کر رہ گیا ہے۔

Check Also

Insan Khasare Mein Hai

By Aamir Mehmood