Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Waqai Dunya Badal Gayi Hai

Waqai Dunya Badal Gayi Hai

واقعی دنیا بدل گئی ہے

دنیا واقعی بدل گئی ہے۔ یہ بات ہمیں روزانہ کسی نہ کسی شکل میں سننے کو ملتی ہے۔ کبھی پریس کانفرنسوں میں کبھی اسمبلی کے فلور پر اور کبھی اُن تقریبات میں جہاں عام آدمی کی رسائی ویسی ہی ہوتی ہے جیسے چاند پر پلاٹ خریدنے والے کی اپنے پلاٹ تک چند روز قبل ایک بااختیار مگر عقل سے خالی نے بڑے اعتماد سے فرمایا کہ جیل میں بیٹھے شخص کو معلوم ہی نہیں کہ باہر دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔

میں نے سوچا شاید واقعی دنیا بدل گئی ہوگی اس لیے گھر سے نکلا اور تبدیلی تلاش کرنے لگا کیا واقعی دنیا بدل گئی ہے۔ پہلی تبدیلی پٹرول پمپ پر نظر آئی جہاں قیمتوں کے ہندسے عام آدمی کی پہنچ سے کہیں اوپر جا چکے تھے، دوسری تبدیلی سبزی منڈی میں دیکھی جہاں آلو، پیاز اور ٹماٹر اب سبزیاں کم اور سرمایہ کاری زیادہ محسوس ہوتے ہیں ریٹ ایسے کہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں، تیسری تبدیلی بجلی کے بل میں دیکھی جو ہر مہینے یہ احساس دلاتا ہے کہ اس ملک میں زندہ رہنے کے لیے جیب سے زیادہ دل کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ حکومت ہمیں بتاتی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے معیشت ترقی کر رہی ہے اور سرمایہ کار خوش ہیں یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی مریض کو بتایا جائے کہ آپ کے کمرے کے پردے بہت خوبصورت ہیں جبکہ وہ خود آئی سی یو میں پڑا ہو عام آدمی کی معیشت کا پیمانہ اسٹاک مارکیٹ نہیں بلکہ اُس کے گھر کا چولہا ہوتا ہے اگر چولہا بجھنے کے قریب ہو تو انڈیکس کے ہزاروں پوائنٹس بھی روٹی میں تبدیل نہیں ہوتے۔

ہماری سیاست کا ایک دلچسپ اصول ہے ہر نئی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اُس سے پہلے اندھیرا تھا اور روشنی صرف اُس کے آنے کے بعد پیدا ہوئی لیکن عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ روشنی ہمیشہ تقریروں میں پیدا ہوتی ہے جبکہ اندھیرا اُن کے گھروں میں برقرار رہتا ہے۔ حکمرانوں کی گاڑیاں تبدیل ہوتی ہیں پروٹوکول بڑھتا ہے دفاتر کی تزئین و آرائش ہوتی ہے مگر عوام کے مسائل وہیں کھڑے رہتے ہیں فرق صرف اتنا آتا ہے کہ مسائل کے نام بدل جاتے ہیں اور وعدوں کی پیکنگ نئی ہو جاتی ہے۔

مجھے اکثر لگتا ہے کہ اس ملک میں سب سے زیادہ ترقی اگر کسی چیز نے کی ہے تو وہ سرکاری دعووں نے کی ہے دعوے اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ اب اُن کا حقیقت سے ملنا ضروری نہیں رہا۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی حالات کے بوجھ تلے دبے ہوں تو بھی انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں کیونکہ اعداد و شمار اُن کے حق میں گواہی دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں دنیا بدل گئی ہے، ایک شخص جیل میں بیٹھا ہے اور اُسے معلوم نہیں کہ باہر قوم خوشیوں سے نہال ہے۔ آٹھ ہزار پانچ سو روپے کمانے والا امیر شخص ہے گویا سب کو راتوں رات امیر بنا دیا ہے مگر بازار میں سبزی والا آج بھی قیمت سناتے ہوئے نہیں شرماتا، بجلی کا بل آج بھی دل کا دورہ بن کر آتا ہے اور پٹرول کی سوئی آج بھی آسمان کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہے فرماتے ہیں ملک ترقی کر رہا ہے، معیشت دوڑ رہی ہے اور عوام خوشحال ہیں شاید یہ وہی خوشحالی ہے جو صرف پریس کانفرنسوں سرکاری اشتہارات اور ٹی وی اسکرینوں پر دکھائی دیتی ہے حقیقت کی گلیوں میں تو لوگ آج بھی مہنگائی کے ہاتھوں یرغمال ہیں روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند ہیں۔

جی ہاں، دنیا ضرور بدل گئی ہے، مگر شاید صرف اُن لوگوں کی جن کی دنیا اقتدار کے ایوانوں سے شروع ہو کر سرکاری مراعات اور شاہانہ طرزِ زندگی پر ختم ہو جاتی ہے ایک غریب آدمی کی دنیا آج بھی وہی ہے جہاں مہینے کے آخر میں جیب خالی، خواب ادھورے اور وعدے زندہ رہتے ہیں اس احمق اور نالائق چیف مینسٹر کو کوئی بتائے غربت ڈائیلاگ بولنے سے ختم نہیں ہوتی نہ پریس کانفرنسوں سے روزگار پیدا ہوتا ہے اس کے لیے محنت دیانت اور عملی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔

اصل تبدیلی اُس دن آئے گی جب حکومتیں اعداد و شمار کے بجائے عوام کے چہروں کو پڑھنا شروع کریں گی کیونکہ قومیں اسٹاک مارکیٹ کے گراف سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے معیارِ زندگی سے خوشحال سمجھی جاتی ہیں۔ تب تک عوام یہی پوچھتے رہیں گے کہ دنیا واقعی بدلی ہے یا صرف اُن لوگوں کی دنیا بدلی ہے جن کے ہاتھ میں اقتدار ہے۔ اصل میں دنیا نہیں بدلی صرف چوروں، مکاروں اور اقتدار کے مسافروں کی دنیا بدلی ہے عام آدمی آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں کل تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ وعدوں کے پوسٹر نئے ہیں اور محرومیوں کے زخم پرانے۔

Check Also

Vice Chancellors Ki Tainati, Merit Badal Gaya

By Shahid Mehmood