Sindh Tas Moahida Or Modi Sarkar
سندھ طاس معاہدہ اور مودی سرکار

اگر اس صدی کی جنگ تیل پہ ہوئی ہے تو اگلی صدی کی جنگ پانی پہ ہوگی، یہ مشہور قول عالمی بنک کے سابق نائب صدر اسماعیل گیلڈان کا ہیں، پاکستان کو ہمیشہ بین الاقوامی سطح پہ بھارتی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کوئی اور سرکار ہو یا مودی ہمیشہ عوام کو پاکستان مخالف چورن بیچ کر عوام کے پہلے جزبات خریدتی ہے پھر ووٹ۔ برصغیر میں قانون آزادی ہند کے رائج ہوتے ہی سینکڑوں تنازعات شروع ہو چکے تھے۔ جہاں ایک نومولود ریاست کو اپنی سیاسی، معاشی، معاشرتی، مہاجرین کی آبادکاری اور انتظامی مشکلات پہ قابو پانا تھا وہی ریڈکلف ایوارڈ کی صورت میں ہمیں مسئلہ کشمیر پہ پاکستان بھارت جنگ کا تحفہ مل گیا۔ جھاں بھارت نے مالیاتی تقسیم کے تحت پاکستانی اثاثہ جات جس میں کچھ رقم ادا کی گئی اور باقی مسئلہ کشمیر کے نزد ہوگئی اب بچا پاکستان کا صرف ایک ہی ذریعہ معاش زراعت۔
پاکستان کا نہری نظام دنیا بہترین نہری نظام ہے جس سے زراعت کا شعبہ اپنی کارکردگی دکھا رہا اگر پانی نہیں تو ہم زراعت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس ضمن میں صدر ایوب خان نے عالمی بنک بطور ثالثی بھارت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے سندھ طاس معاہدہ کہتے ہیں جس نے دونوں ریاستوں کو بہت سے تنازعات سے محفوظ کیا اور ڈپلومیسی کو بتدریج پروان چڑھایا۔ مودی سرکار کی ہٹ دھرم پاکستان مخالف پالیسی نے پھلگام اٹیک کشمیر کے واقعہ کے بعد پھر سے سر اٹھا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کے مودی سرکار نے پہلے بھی اس معاہدے کو معطل کرنے کی کوششیں کی ہے جیسے کے کشن گنگا منصوبہ جو کہ دریائے نیلم پہ بنایا جا رہا ہے اور دریا کا رخ موڑ کر جموں و کشمیر کی طرف کر رہے ہیں اور یہ نیلم جہلم پراجیکٹ کے لیے اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہے
راتلے پراجیکٹ جو کہ دریائے چناب پہ بنایا جا رہا ہے پاکستان کو پانی کی کمی کے شدید تحفظات ہیں اور یہ زرعی علاقے اور زراعت کو نقصان پہنچانے کا ایک منصوبہ ہے۔ پھلگام کے واقعہ کے بعد مودی سرکار نے یک طرفہ معاہدے کی معطلی کا اعلان کر دیا ہے جو کہ بین الاقوامی قانون کے بالکل خلاف ہے۔ معاہدے کی معطلی کے بعد مودی نے کچھ سیاسی بیانات بھی دیے۔۔
خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، ٹائمز آف انڈیا
پاکستان یہ معاملہ عالمی بنک لےکے جا چکا ہے اور ثالثی عدالت کی اپیل کی ہے کیونکہ یہ ایک نہایت معاشی مسئلہ ہے اب دوسری طرف بھارت اسے ایک تکنیکی ڈیزائن کا مسئلہ قرار دے کر ایک غیر جانب دار ماہر نیوٹرل ایکسپرٹ کا مطالبہ کیا ہے اب دونوں ادارے اس مسئلے پہ کام کر رہے ہیں اور فعال ہیں۔ معاہدے کی تاریخ میں یہ ایک پیچیدہ قانونی بحران ہے۔ ہالینڈ نے پاکستان کے حق ثالثی عدالت نے ایک سپلیمینٹل ایوارڈ جاری کیا۔ بھارت نے اس فیصلے کو یک طرفہ قرار دے کر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ لیکن ابھی نیوٹرل ایکسپرٹ کا فیصلہ ابھی باقی ہے جو بھی فیصلہ ہوگا معاہدہ کے تحت یہ فیصلہ دونوں ریاستوں پہ لاگو ہوگا۔ لیکن تاریخ میں ایسے بہت سے کیس ہیں جو کے پانی کے روایتی قانون کے مطابق نچلے ملک کا پانی نہیں روک سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی کس حد تک جاتا ہے پاکستان مخالف چورن کو بیچنے میں؟

