Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Chor Kon Hai?

Chor Kon Hai?

چور کون ہے؟

ہم ایک عجیب معاشرے میں رہتے ہیں۔ یہاں ہر شخص کرپشن کے خلاف ہے، بشرطیکہ کرپشن دوسرا کر رہا ہو۔ ہم سیاست دانوں کو چور کہتے ہیں، حکمرانوں کو لٹیرے قرار دیتے ہیں، سرکاری افسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں اور ملک کی تباہی کا سارا ملبہ چند لوگوں پر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہم نے شاید کبھی یہ سوال خود سے نہیں پوچھا کہ اگر ہمیں بھی وہی اختیارات، وہی وسائل اور وہی مواقع مل جائیں تو کیا ہم واقعی مختلف ثابت ہوں گے؟

یہ سوال تلخ ضرور ہے، مگر ناگزیر بھی۔ کیونکہ قوموں کا اخلاقی معیار صرف ان کے حکمرانوں سے نہیں ناپا جاتا، بلکہ اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ ایک عام شہری عوامی امانت کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص سرکاری اینٹ، ایک ٹائل، ایک گملا، ایک حفاظتی راڈ یا بجلی کے ٹرانسفارمر کا تیل اپنا حق سمجھنے لگے، تو پھر مسئلہ صرف حکمرانوں کی کرپشن نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ اس بیماری میں مبتلا ہو چکا ہوتا ہے۔

میرے گھر کے باہر فیروزپور روڈ پر پیدل چلنے والوں کے لیے ایک لوہے کا پل بنا ہوا ہے۔ روزانہ سینکڑوں لوگ اس پل کے ذریعے مصروف شاہراہ عبور کرتے ہیں۔ چند سال پہلے اس پل پر خوبصورت گملے رکھے گئے تھے تاکہ ماحول خوشگوار محسوس ہو، لیکن وہ چند ہی دنوں میں غائب ہو گئے۔ کسی نے انہیں اپنے گھر کی زینت بنا لیا، کسی نے شاید فروخت کر دیے۔

اس کے بعد پل کے کناروں پر لگے اسٹیل کے حفاظتی راڈ ایک ایک کرکے غائب ہونا شروع ہو گئے۔ پہلے ایک راڈ اترا، پھر دوسرا، پھر تیسرا اور آج پل کا تقریباً آدھا حصہ حفاظتی جنگلے سے محروم ہے۔ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔ کئی مہینوں میں ہوتا رہا، لیکن نہ کسی نے روکا، نہ کسی نے پوچھا، نہ کسی نے دوبارہ لگائے۔

کسی شخص نے وہاں رسیاں باندھ دی ہیں تاکہ اگر کوئی بچہ یا بزرگ پھسل جائے تو شاید وہ رسی اس کی جان بچا لے۔ لیکن کیا رسی کبھی اسٹیل کے مضبوط حفاظتی جنگلے کی جگہ لے سکتی ہے؟

میں جب بھی وہاں سے گزرتا ہوں تو ایک ہی منظر میری آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اگر خدا نہ کرے کسی دن کسی ماں کا معصوم بچہ کھیلتے کھیلتے اس خلا سے نیچے جا گرے تو اس ماں پر کیا گزرے گی؟ اس کے بعد کیا ہوگا؟ میڈیا پہنچ جائے گا، انتظامیہ جاگ جائے گی، انکوائریاں شروع ہو جائیں گی، نوٹس جاری ہوں گے، متعلقہ افسر معطل ہوں گے اور چند دن بعد نئے راڈ بھی لگ جائیں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حادثہ ہونے کے بعد کارروائی ہونی ہے تو حادثے سے پہلے ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا صرف اس شخص کی جس نے حفاظتی راڈ چرایا؟ یا اس سرکاری محکمے کی بھی جس نے مہینوں تک عوام کی جانوں کو خطرے میں دیکھتے ہوئے بھی آنکھیں بند رکھیں؟ میرا خیال ہے دونوں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ایک نے جرم کیا اور دوسرے نے جرم کو ہونے دیا۔

اگر، خدانخواستہ، کسی دن اس پل سے گر کر کسی بچے یا بزرگ کی جان چلی جاتی ہے تو یہ محض ایک حادثہ نہیں ہوگا بلکہ ایسے سانحے کی ذمہ داری ان تمام افراد پر بھی عائد ہوگی جنہوں نے حفاظتی راڈ چرائے، انہیں خرید کر اس جرم کی حوصلہ افزائی کی، یا اپنی سرکاری ذمہ داری کے باوجود بروقت مرمت اور حفاظت کو یقینی نہ بنایا۔ عوامی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری میں مجرمانہ غفلت بھی ایک سنگین اخلاقی اور قانونی مسئلہ ہے۔

اگر کسی پل کے حفاظتی جنگلے مسلسل چوری ہوتے رہیں، متعلقہ محکمہ خاموش رہے اور آخرکار کوئی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو کیا صرف چور پر مقدمہ کافی ہوگا؟ کیا متعلقہ افسران اور اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت کا بھی احتساب نہیں ہونا چاہیے؟ آخر قانون صرف عمل کرنے والے کو ہی کیوں دیکھے، اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے والے کو کیوں نہ دیکھے؟

یہ صرف ایک پل کی کہانی نہیں۔ فیروزپور روڈ کے گرین بیلٹ کے لوہے کے جنگلوں پر کبھی اسٹیل کے خوبصورت گلوب لگے ہوتے تھے۔ آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں۔ شاید اب کسی کو یاد بھی نا ہو کہ یہاں کبھی ایسے گلوب بھی ہوا کرتے تھے۔

اسی طرح فٹ پاتھوں کے کناروں پر لگے سیاہ اور پیلے رنگ کے سیمنٹ بلاکس بھی آہستہ آہستہ غائب ہوتے گئے۔ کسی نے اپنے گھر کے گیٹ کے آگے رکھ لیے، کسی نے دکان کے سامنے، کسی نے ریڑھی کا سہارا بنا لیا۔

حال ہی میں پنجاب حکومت نے سروس روڈز پر نئی ٹف ٹائلز لگوانا شروع کیں۔ کام ابھی جاری تھا کہ لوگ دھڑا دھڑ نئی ٹائلیں اٹھا کر لے جانے لگے۔ کسی نے اپنے صحن میں بچھا لیں، کسی نے دکان میں استعمال کر لیں۔

یہ سب آخر کیا ہے؟ کیا یہ غربت ہے؟

ہرگز نہیں۔

غربت انسان کو بھوکا ضرور بنا سکتی ہے لیکن بے ایمان نہیں بناتی۔ یہ اخلاقی غربت ہے اور اخلاقی غربت مالی غربت سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

یہی اخلاقی غربت اس وقت پوری دنیا نے دیکھی جب ایک آئل ٹینکر حادثے کا شکار ہوا۔ لوگ زخمیوں کی مدد کرنے کے بجائے گھروں سے بالٹیاں، گیلن اور ڈرم لے آئے تاکہ بہتا ہوا تیل جمع کر سکیں۔ چند لمحوں بعد آگ بھڑکی اور کئی قیمتی جانیں راکھ بن گئیں۔

چند دن پہلے ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی۔ ایک بجلی کا ٹرانسفارمر پھٹ گیا اور اس میں سے تیل رسنے لگا۔ بجائے اس کے کہ لوگ متعلقہ ادارے کو اطلاع دیتے یا دوسروں کو خطرے سے بچاتے، کئی افراد گیلن، بوتلیں اور شاپر لے کر تیل اکٹھا کرنے پہنچ گئے۔ کسی نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہ سوچا کہ یہ عوامی ملکیت ہے، یہ چوری ہے اور یہ کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

میں اکثر ایک بات کہتا ہوں اور شاید بہت سے لوگوں کو میری یہ بات پسند نہ آئے، لیکن حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ فلاں حکمران نے اربوں روپے کھا لیے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہمیں ایک اینٹ چرانے کا موقع ملے تو شاید ہم بھی اسے نہ چھوڑیں۔ فرق صرف موقع اور مقدار کا ہے۔ ایک شخص کو اربوں روپے تک رسائی ملی، اس نے اربوں لوٹ لیے۔ دوسرے کو صرف ایک اینٹ، ایک ٹائل، ایک راڈ یا ایک گملا ملا، اس نے وہ چرا لیا۔ جرم کی نوعیت ایک ہی ہے، صرف اس کا حجم مختلف ہے۔

یہ بات ماننا شاید ہمارے لیے مشکل ہو، لیکن قومیں اسی دن بدلنا شروع ہوتی ہیں جب وہ دوسروں کے احتساب سے پہلے اپنا احتساب کرتی ہیں۔ جب تک ہم اپنی چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں کو جائز سمجھتے رہیں گے، اس وقت تک بڑے چوروں کے خلاف ہمارے نعرے بھی کھوکھلے رہیں گے۔

اسلام نے امانت کے معاملے میں انتہائی سخت معیار قائم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: "بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو"۔ (سورۃ النساء: 58)

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: "اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ"۔ (سورۃ البقرہ: 188)

سرکاری مال بھی عوام ہی کا مال ہے۔ اس میں سے ایک راڈ، ایک ٹائل، ایک گلوب یا ایک اینٹ اٹھانا بھی اسی حکم کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ کسی فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا حق ہے۔

صحیح بخاری میں ایک نہایت سبق آموز واقعہ موجود ہے۔ خیبر کے موقع پر ایک شخص کے بارے میں لوگوں نے کہا کہ وہ شہید ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اس چادر کی وجہ سے عذاب میں ہے جو اس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے چھپا لی تھی۔ غور کیجیے! وہ کوئی خزانہ نہیں تھا، صرف ایک چادر تھی، لیکن چونکہ وہ اجتماعی مال میں خیانت تھی، اس لیے نبی کریم ﷺ نے اسے معمولی جرم قرار نہیں دیا۔

اسی طرح صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کو ہم کسی کام پر مقرر کریں اور وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کم کوئی چیز چھپائے تو یہ خیانت ہے"۔

اگر اسلام ایک سوئی کے برابر چیز میں خیانت کو بھی جرم قرار دیتا ہے تو پھر عوامی پل سے حفاظتی راڈ اتار لینا، سرکاری ٹائلیں اٹھا لینا، گرین بیلٹ کے گلوب چرا لینا یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانا کس قدر سنگین جرم ہوگا، اس کا اندازہ ہر صاحبِ شعور خود لگا سکتا ہے۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی تلخ ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اوقات عوامی املاک صرف چور نہیں لے جاتے بلکہ بعض بدعنوان اہلکاروں کی ملی بھگت یا مجرمانہ غفلت بھی ان املاک کے ضائع ہونے کا سبب بنتی ہے۔ اگر متعلقہ محکموں کے بعض افسران اور ملازمین اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کریں، بروقت کارروائی کریں، چوری روکیں اور عوامی املاک کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں تو شاید اتنا نقصان کبھی نا ہو۔

اگر کسی پل کے حفاظتی راڈ مہینوں سے غائب ہوں، ان کی مرمت نہ ہو اور پھر خدانخواستہ کوئی معصوم بچہ یا بزرگ اس خلا سے نیچے گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذمہ دار کون ہوگا؟

کیا صرف وہ شخص جس نے راڈ چرایا؟

یا وہ اہلکار بھی جن کی غفلت نے اس خطرے کو مہینوں تک برقرار رکھا؟

میری رائے میں قانون کو دونوں کا احتساب کرنا چاہیے، کیونکہ ایک نے خطرہ پیدا کیا اور دوسرے نے اسے ختم کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

ریاست صرف سڑکیں، پل، پارک اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں، بلکہ ان کی حفاظت کا بھی نام ہے۔ اسی طرح شہری ہونا صرف ٹیکس ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ عوامی امانت کی حفاظت کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

ہم اکثر یورپ کی مثال دیتے ہیں۔ وہاں کی اصل طاقت صرف جدید عمارتیں، چوڑی سڑکیں یا ترقی یافتہ معیشت نہیں، بلکہ شہریوں کا کردار ہے۔ وہ پارک کی بینچ کو بھی اپنی ذاتی ملکیت نہیں سمجھتے، مگر اسے نقصان بھی نہیں پہنچاتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ پوری قوم کی امانت ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہم سرکاری چیز کو "کسی کی نہیں" سمجھتے ہیں، اس لیے اسے اٹھا لینا یا نقصان پہنچانا اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قانون چور کو سزا دے سکتا ہے، لیکن قوم کا کردار صرف تربیت سے بدلتا ہے۔ اگر گھروں میں والدین، اسکولوں میں اساتذہ، مسجدوں میں علما اور معاشرے کے باشعور لوگ نئی نسل کو یہ سکھائیں کہ عوامی مال بھی اتنا ہی مقدس ہے جتنا ان کے اپنے گھر کا مال، تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے بہتر ثابت ہوں۔

آج ہمیں صرف کرپٹ حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے اندر چھپے اس چھوٹے چور کا بھی احتساب کرنا ہوگا جو موقع ملتے ہی سرکاری اینٹ، سرکاری ٹائل، سرکاری گلوب، سرکاری راڈ یا سرکاری تیل کو اپنا حق سمجھ لیتا ہے۔

کیونکہ قومیں صرف اس وقت تباہ نہیں ہوتیں جب ان کے حکمران بے ایمان ہو جائیں، بلکہ اس وقت بھی تباہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں جب عام آدمی اپنی چھوٹی بے ایمانی کو جرم سمجھنا چھوڑ دے۔

Check Also

Bherion Ke Narghe Mein Bher

By Saadia Bashir