Munafiqaton Ka Nisab Parh Kar Mohabbaton Ki Kitab Likhna
منافقتوں کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا

نفرت کی فصل ببول جیسی ہوتی ہے، بنا پانی کے ہی پنپتی ہے۔ انتہاپسندی کیا ہوتی ہے اس کے مشاہدے واسطے آپ کو لمبے چوڑے فلسفیانہ نظریے یا کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں البتہ اس کی وجوہات جاننے کے لیے آپ کو تاریخ کے مطالعہ کی ضرورت رہتی ہے۔ میں چونکہ مسافر ہوں۔ گوادر سے خیبر اور کراچی سے خنجراب تک سفروں میں رہا اس واسطے میرے مشاہدے کی حِس نری حِس نہیں بلکہ گواہ بھی ہے۔ شہر بھی انسانوں کی طرح حافظہ رکھتے ہیں۔ ان کے چہرے پر جھریاں پڑتی ہیں، گلیوں میں یادیں بسیرا کرتی ہیں اور چوکوں میں تاریخ سانس لیتی ہے۔ مگر بعض قومیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے شہروں کے حافظے پر چونا پھیر دیتی ہیں۔ انہیں پرانے ناموں سے الجھن ہوتی ہے، پرانی تختیوں سے وحشت آتی ہے اور تاریخ کے ماتھے پر نیا نام لکھ کر گمان کرتی ہیں کہ ماضی بدل گیا۔
مسافر ہونا ایک عجیب نعمت ہے۔ یہ آدمی کو صرف راستے نہیں دکھاتا زمانے بھی دکھا دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر شہر اپنا حال سنانے سے پہلے اپنے ماضی کا تعارف کراتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں اکثر شہروں کی زبان کاٹ دی گئی ہے بات شاید کچھ طویل ہو جائے مگر بات مکمل ہوگی تو سمجھ آئے گی۔
ہر شہر میں دو باتیں مشترک ہوتی ہیں۔ کم سے کم پنجاب کی حد تک۔ ایک تو ایسا چوک ضرور ہوتا ہے جس میں پلاسٹر آف پیرس سے بنا دیو ہیکل گھوڑے کا مجسمہ ٹانگیں اٹھائے کھڑا ہوتا ہے۔ چونکہ اسلامی جمہوریہ ہے لہذا گھوڑے کا نچلا حصہ فنکار نے ایک دم قومی شعور کی مانند فلیٹ بنایا ہوتا ہے تا کہ بے حیائی پھیلنے کا خدشہ نہ رہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہر شہر میں نصب گھوڑا اصل میں گھوڑی ہو۔ بہاولنگر میں بھی گھوڑا چوک ہے اور اکثر شہروں کی مانند گھوڑا چوک کے اطراف ہی کمشنر آفس بھی ہے۔ دوسری مشترکہ بات کہ ہر شہر میں کم سے کم ایک چوک ایسا بھی ہوتا ہے جس کا اصل نام جو مرضی ہو مگر چونکہ پاکستانی مسلمانوں کو چودہ سو سال بعد بھی اس بات پر یقین نہیں آ سکا کہ نبوت ختم ہو چکی ہے اور ہمارے پیغمبر خاتم المرسلین تھے لہذا یاد دہانی کو کسی نہ کسی چوک کا نام "ختم نبوت" چوک رکھ دیا جاتا ہے۔ بس نہ چلے تو چوک میں تختی نصب کر دی جاتی ہے یا پھر وال چاکنگ سے بھی اسلام زندہ ہوتا ہے۔ بہاولنگر اس اجتماعی نفسیات سے کیسے فرار ہوتا؟ چنانچہ کہیں ٹانگیں اٹھائے گھوڑا بھی ہے اور آزو بازو ختم نبوت چوک بھی ہے۔
اس شہر کے نام سے ملتا جلتا شہر بہاولپور ہے۔ آپ اس شہر کے مقدر دیکھئیے کہ فوارہ تو دے ملکہ وکٹوریا اور چوک کا نام پڑ جائے "فوارہ چوک" مگر اگلے فوارے کے ختنے کرکے جگہ جگہ وال چاکنگ کرکے لکھ جائیں "ختم نبوت چوک"۔ اب تو باقاعدہ اسی نام کی تختی لگ چکی ہے۔ وہیں فرید گیٹ ہے جس کی ایک گلی پر تختی لگی دیکھی" گندی گلی"۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ گلی کا اصل نام تو گاندھی گلی تھا مگر اب اسے گندی گلی کہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پہلے نام ٹھیک تھا یا اب ٹھیک ہوگیا ہے مگر اتنا معلوم ہے کہ اپنی تاریخ کو مسخ کرنے والی قوم خود بھی مسخ شناخت رکھتی ہے۔
ہر تاریخی نام کو بلا جواز بدلنے کا مطلب اس نام سے جڑے ماضی، برادری، مذہب اور شہریوں کو اس کی اوقات یاد دلانے اور اپنی حاکمیت جتانے کے مترادف ہے۔ ہم اس پر تو چیختے رہتے ہیں کہ فلاں بارہ دری کیوں ڈھا دی، کٹاس راج کا تالاب کیوں خشک ہوگیا، تاریخی عمارتوں کا حلیہ کیوں بدل دیا گیا مگر اتنے ہی سنگین جرم یعنی نام کی تبدیلی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی؟ تاریخ صرف عمارتوں، کتابوں اور عجائب گھروں میں محفوظ نہیں رہتی، شہروں کے نام بھی تاریخ کی یادداشت ہوتے ہیں۔ جب کسی شہر کی سڑک، چوک، باغ یا بستی کا نام بدلا جاتا ہے تو اصل میں صرف تختی نہیں بدلتی، اجتماعی حافظہ بھی تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان میں ناموں کی تبدیلی ایک سیاسی، نظریاتی اور نفسیاتی عمل بن گئی۔
ہرچند بشن داس دس برس بلدیہ کراچی کے چیرمین رہے اور انہی کے دور میں کراچی میں بجلی آئی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں کراچی کی ایک شاہراہ کا نام ہرچند بشن داس روڈ رکھا گیا مگر تقسیم کے بعد اس کا نام بلدیہ کراچی کے ایک افسر صدیق وہاب کے نام سے بدل دیا گیا۔ کیوں؟ کیا ہرچند بشن داس کوئی ڈاکو تھا یا صدیق وہاب ہرچند داس سے بھی بڑی شخصیت تھے؟ رام باغ، آرام باغ کیسے ہوگیا؟ کیا پاکستان میں آباد رام کا نام لینے والے سب کوچ کر گئے؟ برنز روڈ کا نام شاہراہِ لیاقت رکھنے کے بجائے لیاقت علی خان کو خراِج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک نئی سڑک بنانا کتنا ناممکن تھا؟
میر پور خاص کی سندھڑی روڈ سر سید روڈ کیوں ہوگئی؟ حیدرآباد میں گرلز ہائی اسکول تو بنایا کندن مل نے اور نام اس کا بدل کے رکھ دیا گیا جامعہ عربیہ ہائی اسکول۔ کوئی ٹھوس وجہ؟ لائل پور کا سنگِ بنیاد تو سر جیمز لائل نے اٹھارہ سو اسی میں رکھا تھا۔ کیا کبھی شاہ فیصل لائل پور بھی تشریف لائے؟ سعودی عرب نے بدلے میں اپنے کسی شہر کا نام الجناح یا الضیا الحق رکھا؟ کیا بھگت سنگھ برٹش انٹیلی جینس کا جاسوس تھا کہ لاہور کا شادمان چوک اس ہستی سے منسوب کرنے کی اتنی مخالفت ہوئی کہ بلدیہ لاہور نے بھی ہتھیار ڈال دیئے؟ لکشمی چوک کا نام مولانا ظفر علی خان چوک سے کیا اس لیے بدلا گیا کہ لکشمی چوک کی زمین دراصل مولانا کی خاندانی زمین تھی کہ جس پر کسی ہندو سیٹھ نے قبضہ کرکے چوک بنا دیا؟ کرشن نگر کو اسلام پورہ یا دھرم پورہ مصطفیٰ آباد کرکے نظریہ پاکستان کتنا مضبوط ہوگیا؟ منٹگمری نے بھی صلیب اتاری اور ساہیوال ہوگیا۔ کیا پرانے نام برقرار رکھنے سے نئی نسل مزید بگڑ جاتی ہے یا بت پرست ہو جاتی ہے؟
کنٹونمنٹ ایریاز میں آپ کو شامی روڈ، عابد مجید روڈ، عزیز بھٹی روڈ، راشد منہاس روڈ ملے گا۔ یقیناً یہ سب ہمارے ہیرو ہیں اور انہیں یاد رکھنا ہمارا قومی فرض ہے۔ کبھی سنہ 65 کی جنگ میں دو بار ستارہ جرات حاصل کرنے والے ونگ کمانڈر مارون لیزلی مڈل کوٹ شہید یا اسکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی شہید ستارہ جرات کے نام پر کوئی شاہراہ ملے تو ضرور بتائیے گا۔۔ انہوں نے بھی مادر وطن کے لئے تھوڑی سی خدمات انجام دی ہیں یا اپنی جان نچھاور کی ہے۔
شہر بسایا سید نواب شاہ نے اور نام بدل کر رکھ دیا گیا بینظیر آباد۔ سلام ہے جیکب آباد کے شہریوں کو کہ جب ضیا دور میں ان کے شہر کی شناخت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو نہ صرف بلدیہ کے ارکان بلکہ عام شہریوں نے بھی احتجاج کرکے یہ کوشش ناکام بنا دی تھی۔ بستیاں، قصبے، محلے، شاہراہیں اک طرف، دریاؤں کو بھی کافر سے مومن بنانے کا آغاز ہوا۔ چندر بھان سرحد بدلتے ہی چناب کہلایا۔ کشن گنگا کے ختنے ہوئے اور نیلم جہلم بنا۔
یہ عجیب بات ہے کہ ہم اپنے ہیروز کو خراجِ عقیدت دینے کے لیے ہمیشہ کسی پرانی شناخت کی قبر کھودتے ہیں۔ نئی سڑک بنانے کی زحمت نہیں کرتے، پرانی سڑک پر نئی تختی لگا دیتے ہیں۔ جیسے عقیدت بھی وراثت چھین کر ہی ثابت ہوتی ہو۔ پرانے اور تاریخی ناموں پر نئے ناموں کا ٹھپہ لگا دینا واقعی کوئی صحت مند عمل ہے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ آپ چاہیں تو ایبٹ آباد کا نام بدل کے بن لادن آباد رکھ دیں، لاہور کا قبل از اسلام نام بدل کے داتا نگر رکھ دیں۔ آپ کسی رکشے والے کو کہیں کہ بھائی مجھے ظفر علی خان چوک لے چلو تو وہ ضرور پوچھے گا کہ وہ کہاں ہے؟ اور اگر آپ گوگل میپ لگا کر اسے راستہ بتاتے لے چلیں تو وہ اتارتے وقت یہ ضرور کہے گا "باؤ جی اسی ان پڑھ لوک آں۔ سدھا سدھا لکشمی چونک کہندے تے اینا چکر تے نہ پیندا"۔
پھر ہم کو گلہ ہے کہ تہذیب کی موت کیسے ہوئی اور تاریخ مسخ کیونکر ہوئی۔ اپنے ماضی سے فرار حاصل کرنے والی قوم کچھ بھی بن سکتی ہے مگر تہذیب کی وارث نہیں بن سکتی۔ ملک، مذہب اور جنیات سے نفرت کبھی مثبت بدلی میں نہیں ڈھلا کرتی۔ قومیں اپنے ہیروز ضرور پیدا کرتی ہیں مگر مہذب قومیں دوسروں کے کردار بھی تسلیم کرتی ہیں۔ ورنہ پھر تاریخ وقت کے ساتھ خاموشی سے بدلہ لیتی ہے۔ نئی نسل اپنے شہروں سے اجنبی ہو جاتی ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں رہتا کہ اس کی گلیوں، چوکوں اور باغوں کے نیچے کتنی تہذیبیں دفن ہیں۔
منافقتوں کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا
بڑا کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پر داستانِ گلاب لکھنا

