Wednesday, 10 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Umar Farooq
  4. Main Ab Thak Gaya Hoon

Main Ab Thak Gaya Hoon

میں اب تھک گیا ہوں

شام کے سات بج کر چالیس منٹ تھے۔ گوجرانوالہ کا ایک شادی ہال۔ سٹیج پر دولہا بیٹھا تھا۔ میں اس کے ٹھیک پیچھے کھڑا تھا تصویر کی باری کے انتظار میں۔ پچھلے تین گھنٹے سے اس کے چہرے پر ایک ہی مسکراہٹ تھی۔ جو ایک پل کے لیے بھی نہ ہٹی۔ فوٹوگرافر آواز دیتا۔ ماموں آتا، ہاتھ ملاتا، فوٹو۔ چچا آتا، ہاتھ ملاتا، فوٹو۔ پھپو، خالہ، نانی کی بہن، باپ کا پینتیس سال پرانا کلاس فیلو، دوست، دوست کا بھائی، دوست کے بھائی کی بیوی۔ ہر آدمی آتا، ایک ہی بات کہتا "اللہ کا شکر ہے، ماشاءاللہ" اور چلا جاتا۔ دلہا ہر کسی کو ایک ہی جواب دیتا۔ ایک ہی مسکراہٹ سے۔ میں نے غور سے دیکھا۔ اس کے بائیں جبڑے کا پٹھا ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔ گال شاید دکھنے لگے تھے۔ پلکیں چپک چپک کر کھل رہی تھیں۔ کوئی پوچھتا تو وہ کہتا، "بھائی، خوشی کا دن ہے"۔ مگر وہ خوش نہیں تھا۔ وہ ایک کام کر رہا تھا۔ شادی کے دن بھی۔

سن انیس سو تراسی میں امریکی ماہرِ سماجیات آرلی ہاکشلڈ نے ایک اصطلاح ایجاد کی "ایموشنل لیبر"۔ یعنی ایسے جذبات کا اظہار جو دل میں نہیں ہیں، صرف اس لیے کہ معاشرے کا تقاضا ہے۔ ائیر ہوسٹس مسکراتی ہے جب اسے غصہ آ رہا ہوتا ہے۔ کسٹمر سروس والا "مزید کیا خدمت کر سکتا ہوں" بولتا ہے جب اسے گالی دینی ہوتی ہے اور دلہا تین چار گھنٹے مسکراتا ہے جب اس کا اعصابی نظام چلا چلا کر آرام مانگ رہا ہوتا ہے۔

ہاکشلڈ کے بعد چالیس سال کی تحقیق نے ثابت کیا یہ کام مفت نہیں ہے۔ پین سٹیٹ یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات ایلیشیا گرینڈی نے دو ہزار پندرہ کی اپنی تحقیق میں دکھایا کہ اس کیفیت کو "سرفیس ایکٹنگ" کہتے ہیں اوپر سے ایک چہرہ، اندر سے دوسرا۔ مسلسل سرفیس ایکٹنگ جسم میں کورٹیسول ہارمون کی سطح بڑھاتی ہے، نیند کو تین سے سات راتوں تک خراب کرتی ہے اور لمبے عرصے میں دل کی شریانوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔

ماہرین اس کے بعد کی تھکن کو "پوسٹ ایونٹ ڈپلیشن" کہتے ہیں بڑی تقریب کے ختم ہونے کے بعد کی وہ تھکاوٹ جو بظاہر نہیں دکھتی، اندر کھاتی رہتی ہے اور یہ صرف چار گھنٹوں کی بات نہیں۔ پاکستانی مرد کو پانچ سال کی عمر سے ایک ہی پاٹھ پڑھایا جاتا ہے "تم مرد ہو، روتے نہیں۔ تم مرد ہو، تھکتے نہیں۔ تم مرد ہو، ٹوٹتے نہیں"۔ بچپن کا گرا ہوا گھٹنا ماں نے صاف کرکے کہا، "مرد بنو"۔ سکول میں مار کھایا ہوا بچہ گھر آ کر بولا نہیں، کیونکہ "مرد بنو"۔ بائیس سال بعد وہی بچہ دلہا بنا اور سب سے بڑی پرفارمنس دینے سٹیج پر بیٹھا ہے۔ مسلسل خوش۔ مسلسل پُرسکون۔ مسلسل دلہا۔

کچھ مہینے پہلے ہمارے پاس ایک نوجوان آیا تھا۔ چھبیس سال کا، شادی کو پندرہ دن گزرے تھے۔ ساتھ اس کی ماں تھی۔ جب پوچھا، " کیا ہوا ہے؟" وہ خاموش رہا۔ ماں بولیں، "بیٹا گم سُم ہے، بستر سے نہیں اٹھتا، نئی بہو سے بات نہیں کرتا، آفس بھی نہیں گیا۔ ابھی پندرہ دن پہلے شادی ہوئی ہے اور یہ سب کیا ہے؟" میں نے دوبارہ نرمی سے پوچھا۔ اس نے میری طرف دیکھا اور بس اتنا کہا "میں تھک گیا ہوں"۔ ماں چونک گئیں۔ "تھک گیا ہوں؟ کس چیز سے؟ ابھی تو ہنسی خوشی کا وقت ہے۔ ابھی تو ہنی مون پر جانا ہے"۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہم سب ہار جاتے ہیں۔

مغرب میں اس کیفیت کا ایک نام ہے "ہنی مون ڈپریشن" یا "پوسٹ ویڈنگ بلوز"۔ شادی کے فوراً بعد دلہا یا دلہن کا اچانک خاموش، چِڑ چِڑا، یا اداس ہو جانا۔ تحقیق دکھاتی ہے کہ ایک بڑی تعداد میں نئے شادی شدہ جوڑے اس کیفیت کا تجربہ کرتے ہیں۔ مغرب نے اسے نام دیا، اس لیے علاج بھی دیا۔ کاؤنسلنگ، سپورٹ گروپ، تھراپی۔ پاکستان میں اس کا نام نہیں ہے۔ نام نہیں ہے، تو علاج بھی نہیں ہے۔

ہم کہتے ہیں "موڈ خراب ہے"۔ بیویاں شکایت کرتی ہیں، "شادی سے پہلے تو ٹھیک تھے، اب کیوں ایسے ہو گئے؟" ساس کہتی ہیں، "میرے بیٹے کو نظر لگ گئی ہے"۔ والد کہتے ہیں، "مرد ہو، یہ کیا حال بنا رکھا ہے"۔ کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ بیماری نہیں ہے۔ یہ تھکن ہے۔ چار گھنٹے مسلسل مسکرانے کی تھکن نہیں پچیس سال مسلسل "ٹھیک ہوں" کہنے کی تھکن۔ اگلی بار جب آپ کا کوئی دوست شادی کے بعد دو ہفتے کے لیے خاموش ہو جائے، اس سے یہ نہ پوچھیے کہ "یار، کیا ہوا تجھے؟" یہ سوال اسے دوبارہ پرفارمنس پر مجبور کرتا ہے۔ بس اسے فون کیجیے، گھر بلائیے، چائے کا کپ پکڑائیے اور خاموشی سے ساتھ بیٹھیے۔ کوئی سوال نہیں۔ کوئی نصیحت نہیں۔ کوئی "مرد بن جا" نہیں۔ بس ساتھ۔ ایسی جگہ جہاں اسے مسکرانا نہ پڑے۔ خوش رہنا فطرت ہے۔ خوش دِکھنا محنت اور ہر محنت ایک نہ ایک دن تھکا دیتی ہے۔

کیا آپ کے گھر میں کوئی ایسا مرد یا عورت ہے جو شادی کے بعد بدل گیا؟

Check Also

Nai Nasal Ke Samajhdar Bache

By Qurratulain Shoaib