Wednesday, 10 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Pakistan Ke Namak Mein Kya Khami Hai

Pakistan Ke Namak Mein Kya Khami Hai

پاکستان کے نمک میں خامی کیا ہے

میں آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے علاقے کیرن میں دریا کنارے ہوٹل کے لان میں بیٹھا تھا جب ایکشن کمیٹی کے کچھ مقامی رہنما میرے پاس آئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مجھے بیبون ویلی میں دیکھا، جیب کے ڈرائیوروں سے ہوٹل کا پوچھا اور رات کو میرے پاس آ گئے۔ وہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے مطالبات کا مقدمہ لڑ رہے تھے اور میں ان کی شکایات سنتے ہوئے حیرت سے ان کے چہرے تک رہا اور سوچ رہا تھا کہ کیا پاکستان کے نمک میں کوئی خامی ہے کہ جو بھی یہ نمک کھاتا ہے حلال نہیں کر پاتا۔

انہوں نے بات ہی سامنے بہتے ہوئے دریائے نیلم کی طرف اشارہ کرکے شروع کی کہ جس کے دوسری طرف بھارتی سیاحوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے اور اگر دریا کا شور کم ہو تو یہ ممکن ہوجاتا ہے ایک دوسرے سے چیخ کر بات کر لی جائے۔ میں نے وہاں بہت سارے پاکستانیوں کوہندوستانیوں کو دیکھ کے اور بہت سارے ہندوستانیوں کو ہم پاکستانیوں کو دیکھ کے بازو لہراتے ہوئے پایا، یہ دو ملکوں کے درمیان ایک اچھا منظر ہے خاص طور پر جب دونوں کے درمیان دشمنی بھی ہو۔ وہ شکوہ کر رہے تھے کہ ایک پاکستانی نے دریا کے اس کنارے سے دوسرے کنارے پر موجود ہندوستانی سے پوچھا کہ تمہارے ہاں پٹرول کتنے روپے لیٹر ہے توجواب آیا، اٹھانوے روپے لیٹر۔ یہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔

میں نے ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے چہروں کو غور سے دیکھا اور پوچھا کہ وہ کون سی چیز ہے جو آپ کوبھارت کی تعریف کرنے پر مجبور کر رہی ہے اور پاکستان کی بدتعریفی کرنے پر۔ وہ میری بات سن کر چونکے، ٹھٹکے اور بولے، ہم نے کب پاکستان کی بدتعریفی کی۔ میرا جواب تھا کہ جب آپ دشمن کی تعریف کرتے ہیں تو آپ اپنی بدتعریفی کرتے ہیں۔ کیا آپ کو علم ہے کہ دلی سے کلکتہ تک انڈیا میں پٹرول 98 روپوں سے 105روپے لیٹر تک ہے اور پاکستانی روپوں میں رقم سوا تین سو روپے لیٹر کے لگ بھگ بنتی ہے۔ بھارت اپنے عوام سے یہ قیمت پچھلے ڈیڑھ پونے دوسال سے لے رہا ہے جب پاکستان میں پٹرول اڑھائی سو روپے لیٹر تھا۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ آپ اپنے معصوم عوام کو گمراہ نہ کریں۔ سید علی گیلانی، برہان الدین وانی اور آسیہ ترابی ہی کی شرم کر لیں جو نعرے لگاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔

وہ مہاجرین کی نشستوں کے ذریعے دھاندلی پر بات کر رہے تھے اور میں ان سے کہہ رہا تھا کہ یہ ان کا اور ان کے آباواجداد کا مسئلہ ہے جو جموں سے ہجرت کے کرکے پاکستان آئے مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ ان ساڑھے چار لاکھ ووٹروں کو کشمیر کی ووٹر لسٹ سے نکالتے ہیں تو آپ مسئلہ کشمیر پر بھارت کا کھیل کھیلتے ہیں۔ بھارت نے عمران خان کے دور میں 5اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کا خصوصی متنازع سٹیٹس ختم کر دیا جس کے بعد وہاں آبادی کا تناسب بدلا جا رہا ہے۔

پاکستانی، آزاد کشمیر میں جائیدادنہیں خرید سکتے، کاروبار نہیں کرسکتے مگر انڈیا نے اپنے ہندو کروڑ پتیو ں کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ جنت نظیر کشمیر میں ا ٓباد ہوں اور وہاں کی آبادی کاتناسب بدلیں۔ آپ خود سوچیں کہ اگر بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز آبادی بڑھ جاتی ہے اور دوسری طرف کشمیر ایکشن کمیٹی اپنے ہی لاکھوں ووٹ منفی کروا لیتی ہے تو یہ کس کا فائدہ ہوگا۔ کشمیر ایکشن کمیٹی مکمل طور پر بھارت کا کھیل کھیل رہی ہے۔

وہ اپنی حکومتوں کی کارکردگی نہ ہونے کے شکوے کر رہے تھے اور میں ان سے کہہ رہا تھا کہ اگر پنجاب میں کام نہیں ہوگا تومیں پنجاب کی حکومت سے سوال کروں گا، آزاد کشمیر والوں سے نہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ان بارہ نشستوں سے اسمبلی میں اکثریت بدل دی جاتی ہے تو میرا جواب تھا کہ اس بدلی اکثریت سے بھی کشمیری ہی حکمران بنتے ہیں کوئی پنجابی یا سندھی تو آزاد کشمیر کا وزیراعظم نہیں بن جاتا، کیا اس شکایت پر جموں کے مہاجرین کی بنیاد اور شناخت چھین لی جائے؟

جب ایکشن کمیٹی اور اس کے ہم نوا پی ٹی آئی اکاونٹس پاکستان پر گرجتے، برستے ہیں، جب وہ راولا کوٹ ہسپتال پراسی طرح حملہ کرتے ہیں جس طرح جی ایچ کیو اورکور کمانڈر ہاوسز پر نو مئی کو کئے گئے تو ذہن میں سوال تو آتا ہے کہ پاکستان کے نمک میں کیا خامی ہے کہ یہ اس حد تک نمک حرامی کر رہے ہیں۔ جب کشمیر کے مہاراجہ نے کشمیر کو بھارت کو بیچنے کا فیصلہ کیا تو یہ پاکستانی ہی تھے جو مجاہدین بن کے کشمیر گئے اور تقریباََ ایک تہائی کے قریب کشمیر آزاد کروا لیا ورنہ کشمیریوں کا یہ کہنا مشہور رہاکہ تپ سی تے ٹھُس کر سی۔

بات یہاں تک محدود نہیں بلکہ اس کے بعد ہم نے کشمیر کے مدعے پر باقاعدہ جنگیں لڑیں۔ ہمارا بھارت کے ساتھ کشمیر کے علاوہ تنازع ہی کیا ہے کہ ہم اس پر اربوں ڈالر بجٹ خرچ کر رہے ہیں۔ جی ہاں، بات یہاں تک محدود نہیں ہے بلکہ جب نوے کی دہائی میں جہاد کشمیر نے انگڑائی لی تو میں نے جہلم، منڈی بہاوالدین سے میاں چنوں، ملتان تک روزانہ ایسے غائبانہ جنازے ہوتے دیکھے کہ ہمارے بیٹے ان کشمیریوں کو آزادی دلا نے کے لئے مقبوضہ کشمیر گئے تو ان کی ڈیڈ باڈی بھی واپس ماں باپ تک نہ آئی۔ مائیں ان کے چہرے تک نہ دیکھ سکیں اور باپ خالی چارپائی سامنے رکھ کے ان کی نماز جنازہ پڑھتے رہے۔

خدا کی قسم، ہم نے ایمان کے رشتے سے مال ہی نہیں جانوں کی قربانیاں بھی انہی کشمیریوں کے لئے دی ہیں۔ کیا کہا، ڈیم بنوائے تو ان ڈیموں کا جو معاوضہ پاکستان نے دیا اس نے میرپوریوں کی نسلوں کی زندگیاں بدل کے رکھ دیں اور ابھی ایکشن کمیٹی کی بلیک میلنگ سے جو بجلی کا یونٹ ہمیں چالیس روپے کا ملتا ہے جو کشمیریوں کوتین روپے کا ملتا ہے اور جو آٹا ہمارے کسان کو چار ہزار روپے من پڑ رہا ہے وہ کشمیریوں کو دو ہزار روپے من دیا جا رہا ہے، کشمیر کا سارا ترقیاتی بجٹ پاکستان دیتاہے اور مجموعی بجٹ کا پچاس فیصد سے زیادہ بھی۔ ہم نے تو کلمے کے رشتے کی لاج نبھا دی ہے اور ہمیں جواب میں کیا مل رہا ہے، گولی اورگالی؟

مجھے یہاں افغان بھی یاد آ گئے جنہیں ہم نے آن دی ریکارڈ چالیس لاکھ (آف دی ریکارڈ اسی لاکھ) کو پناہ دی۔ ان کے لئے سرحدیں کھولیں۔ ان کی بیویوں کو چادریں، ان کے بچوں کو دودھ اور تعلیم، ان کے بزرگوں کو ادویات، ان کے جوانوں کوروزگار بلکہ پورے پورے خاندانوں کو چھتیں دیں تو انہوں نے ہمیں جواب میں کیا دیا، سب سے پہلے ناجائز اسلحہ، منشیات اور جرائم کی بھرمار۔ بات یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ پاکستان سے پڑھ کر جانے والے اور پاکستان کی مدد سے وہاں حکومت لینے والے بھارت کی گود میں بیٹھ کے پاکستان کو ہی دہشت گردی اور پاکستانیوں کو ہی موت دے رہے ہیں، کیوں، کیا میں غلط سوال کر رہا ہوں کہ پاکستان کے نمک میں خامی کیا ہے؟

بشکریہ: نئی بات

Check Also

Falsafa, Science Aur Quran

By Asif Masood