Thursday, 04 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Kya Waqai Ye 6 Dino Mein Bani Hai?

Kya Waqai Ye 6 Dino Mein Bani Hai?

کیا واقعی یہ 6 دنوں میں بنی ہے؟

عصرِ حاضر کے نامور مسلم مفسرین اور جدید طبقے میں مقبول سائنسی مائنڈ سیٹ کے حامل اسکالرز نے جب قرآنِ مجید میں مذکور کائنات کے "چھ ادوار" (ستۃ ایام) کی تشریح کی، تو ان کا پورا زور اس بات پر رہا کہ کس طرح ان آیات کو جدید مادی سائنس کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ مثال کے طور پر، ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنی تصنیف "تخلیقِ کائنات" میں ان ادوار کو مروجہ سائنسی جیو-لوجیکل مراحل (Geological Eras) کے عین مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری طرف، لبرل مسلمانوں کے ہاں مقبول بین الاقوامی اسکالرز (جیسے ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ان کے ہم مکتب ریسرچرز) کا بھی پورا اصرار یہی رہا ہے کہ کائنات کی تخلیق کے یہ چھ دن دراصل بگ بینگ (Big Bang) سے لے کر زمین، سورج اور نظامِ شمسی کے بننے کے وہی ارتقائی مراحل ہیں جنہیں جدید اسٹرونومی اربوں سال پر محیط بتاتی ہے۔ اس طبقے کا بنیادی مقصد قرآنی اصطلاحات کو کھینچ تان کر جدید فزکس کے اصولوں پر پورا اتارنا ہے۔ بظاہر یہ طرزِ استدلال نئی نسل کو متاثر کرتا ہے، لیکن گہرائی میں جا کر دیکھیں تو یہ مفسرین نادانستہ طور پر اللہ رب العزت کی لامتناہی سلطنت کے کینوس کو بہت چھوٹا اور محدود کر دیتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم فکرکے اندر یہ دفاعی رجحان آیا کہاں سے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری فکری بھول بھلیاں عیسائی الہیات (Christian Theology) اور بائبل کی پیش کردہ انسانی ٹائم لائن کی فاش غلطی کا شاخسانہ ہیں، جسے دورِ جدید کے مسلمان چیلنج کرنے کے بجائے خود اس کے بنے ہوئے جال میں پھنس گئے۔ بائبل (Book of Genesis) کا تصورِ کائنات یہ ہے کہ خدا نے یہ پوری کائنات محض چوبیس گھنٹے کے چھ دنوں میں بنائی اور پھر عیسائی الہیات نے "سات آسمانوں" (Seven Heavens)، جنت، جہنم اور فرشتوں کی پوری دنیا کو اسی نظر آنے والی مادی کائنات کی حدود کے اندر ہی گھسا دیا۔ جب جدید سائنس نے اربوں سال پر محیط کائناتی عمر دریافت کی، تو عیسائی پادریوں کا دفاعی نظام زمین بوس ہوگیا۔ اب مسلم مفسرین نے عیسائیت کے اس پیدا کردہ فکری خلا کو پُر کرنے کے لیے قرآن کے "چھ دنوں" کو زبردستی کائناتی ارتقا پر فٹ کرنا شروع کر دیا، جبکہ اسلام کا آفاقی بیانیہ اس عیسائی محدودیت سے بالکل پاک ہے۔

آئیں اب اس کائناتی کینوس کو قرآنی زاویے سے دیکھیں جو انسانی عقل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ قرآنِ مجید جب "خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالُاَرُضَ" (آسمانوں اور زمین کی تخلیق) کا تذکرہ کرتا ہے، تو وہ صرف ہماری اس نظر آنے والی دنیا کا ذکر نہیں کر رہا ہوتا۔ آقا کریمﷺ نے آسمانوں کی اس حقیقی وسعت کا نقشہ ایک نہایت جامع حدیثِ مبارکہ میں کھینچا ہے۔ رسول کریمﷺ کا ارشادِ پاک ہے:

"ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اگر کرسی کے سامنے ہوں، تو ان کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے ایک وسیع میدان میں لوہے کا ایک چھوٹا سا چھلا پھینک دیا جائے اور عرشِ الٰہی کے سامنے کرسی کی وسعت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی بڑے میدان میں وہ انگوٹھی پڑی ہو"۔ (صحیح ابنِ حبان، حدیث نمبر: 361 / السلسلہ الصحيحہ للالبانی، حدیث نمبر: 109)

اسی طرح، جسے جدید سائنس "قابلِ مشاہدہ کائنات" (Observable Universe) کہتی ہے، جس میں کھربوں کہکشائیں، ستارے اور بلیک ہولز شامل ہیں، وہ قرآنِ مجید کی رو سے صرف پہلا آسمان یعنی "آسمانِ دنیا" ہے۔ جیسا کہ سورہ الفصّلت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَزَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنُیَا بِمَصَابِیُحَ" (اور ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کے چراغوں سے آراستہ کیا)۔ (سورہ الفصّلت، آیت: 12)

اب یہاں ایک ایسا کائناتی اور ریاضیاتی استدلال سامنے آتا ہے جو مادی سائنسدانوں اور سائنسی مفسرین دونوں کی فکر کو حیران کر دیتا ہے۔ اگر مفسرین کی بات مان کر زیادہ سے زیادہ اس "آسمانِ دنیا" کے بننے سے لے کر اس کے ٹوٹنے (قیامت) کے پورے عمل کو تخلیق کا آخری یا چھٹا دن بھی تسلیم کر لیا جائے، تو آج کے جدید ترین سائنسی مشاہدات کے مطابق یہ کائنات بگ بینگ کے بعد سے اب تک کم از کم 93 ارب نوری سال (93 Billion Light Years) کے رقبے جتنی پھیل چکی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ کائنات کا یہ صرف ایک مادی دن (یا ایک کائناتی مرحلہ)، انسانی اندازوں اور زمینی حساب سے کم از کم 93 ارب سال کا بنتا ہے!

جب پہلے آسمان کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ اس کا ایک دن ہمارے اربوں کھربوں سالوں پر بھاری ہے، تو اس دوسرے آسمان کی تخلیق کے ادوار کا کیا عالم ہوگا جس کے سامنے یہ پوری 93 ارب نوری سال پر محیط کہکشاؤں کی کائنات محض ایک "صحرا میں پڑی ہوئی انگوٹھی" کی طرح ہے؟ اللہ کریم نے ان تمام جہانوں کو ان کے فرشتوں، ان کی مخلوقات اور ان کے قوانین سمیت اپنے مخصوص چھ الٰہی ادوار (Divine Eras) میں پیدا فرمایا ہے، جن کی حقیقی تشریح اور حقیقت تک رسائی انسانی عقل و سائنس کے لیے قطعاً ناممکن ہے۔

اللہ رب العزت کی اس لامتناہی قدرت اور مخلوقات کی کثرت کا ایک ایمان افروز موازنہ سیدنا حضرت موسیٰؑ کے اس جلیل القدر واقعے سے بھی ملتا ہے جو انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰؑ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے پوچھا کہ یا رب! اگر سیدنا جبرائیلؑ جیسا عظیم المرتبت فرشتہ خدانخواستہ نافرمان ہو جائے، تو تیری سلطنت پر کیا اثر پڑے گا؟ اب ذرا غور کیجیے کہ یہ جبرائیلِ امیں کون ہیں؟ یہ وہ عظیم فرشتہ ہیں جن کے بارے میں آقا کریمﷺ کی مستند احادیث گواہ ہیں کہ جب رسول کریمﷺ نے ان کو ان کی اصل خلقت اور شکل میں دیکھا، تو ان کے چھے سو (600) پر تھے اور انہوں نے اس پوری زمینی کائناتی فضا اور پورے افق کو گھیر رکھا تھا (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4857)۔ یعنی جس ہستی کی صرف ایک جھلک اس پوری دنیا کی فضا کو بھر دیتی ہے، ان کے بارے میں جب حضرت موسیٰؑ نے سوال کیا تو رب العزت نے ملوکیتِ الٰہی کے غیبی پردوں میں سے ایک پردہ اٹھا کر فرمایا:

"اے موسیٰ! میری غیبی چراگاہوں میں ایسے ایسے عظیم الجثہ اونٹ موجود ہیں کہ اگر جبرائیل (اپنی تمام تر کائناتی وسعتوں، عظمت اور پروں سمیت) ان کے سامنے آ جائے، تو وہ ان کا صرف ایک لقمہ (نوالہ) بن کر رہ جائے!" (کتاب العظمۃ لابی الشیخ الاصبہانی، باب فی ذکر الملائکۃ / تنبیہ الغافلین للسمرقندی)

سبحان اللہ وابحمدہ! کہاں وہ جبرائیلِ امین جو اپنی اصل شکل میں اس پوری زمینی فضا کو بھر دیتے ہیں اور کہاں خدا کی سلطنت کی وہ گمنام اور عظیم الشان غیبی مخلوقات جن کے سامنے خود جبرائیلِ امیں کی حیثیت ایک لقمے سے زیادہ نہیں۔ تو پھر اس لامتناہی ملوکیت میں ساتوں آسمانوں، جنت اور جہنم کی وسعتوں کا حساب کتاب مادی انسان کیسے لگا سکتا ہے!

حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم مادی فزکس کے محدود نظریات اور قیاسات کے قید خانے سے باہر نہیں نکلتے، ہم اس کائنات کی اصل وسعت اور الٰہی ملوکیت کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ اجدادِ سائنس کے مطابق آج اگر ہم اس معلوم مادی کائنات (پہلے آسمان) کی حدود سے باہر نکلنا چاہیں، تو ہمیں روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے بھی کم از کم 93 ارب نوری سال یا 15 ارب سال کا طویل وقت درکار ہوگا اور تب جا کر کہیں دوسرے آسمان کی سرحدیں شروع ہوں گی۔ فزکس کی بے بسی کا اندازہ کیجیے کہ جس کائنات کے ہم مکین ہیں، وہ ان ساتوں آسمانوں کے تقابل میں محض ایک "چھلے" جتنی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی طرح رفتہ رفتہ یہ وسعتیں ساتوں آسمانوں، پھر سدرۃ المنتہیٰ تک جاتی ہیں اور پھر اس کے ساتھ ہی وہ جنت اور جہنم موجود ہیں جن کی وسعت ان ساتوں زمین و آسمان سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ جنت کی اسی بے پایاں وسعت اور اس کے بے حساب درجات کے بارے میں آقا کریمﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:

"بیشک جنت والے اپنے سے اوپر کے بالا خانوں (درجات) والوں کو ایسے (بلند و دور) دیکھیں گے جیسے تم لوگ آسمان کے افق میں مشرق یا مغرب میں چمکتے ہوئے دور دراز کے ستاروں کو دیکھتے ہو، ان کے درمیان درجات کی فضیلت کے فرق کی وجہ سے"۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3256 / صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2831)

سبحان اللہ وابحمدہ! جب جنت کے درجات کا یہ عالم ہو تو پوری تخلیقِ الٰہی کے کینوس کا اندازہ لگانا انسانی بساط سے باہر ہے۔ سب سے اہم اور فیصلہ کن نکتہ، جس پر ہمیں اپنی فکر کی بنیاد رکھنی چاہیے، وہ شبِ معراج کا وہ مبارک سفر ہے جو کائناتی مادی فزکس کے تمام قوانین کو لمحوں میں پامال کر دیتا ہے۔ ہم عیسائیوں کے دفاعی نظام کی پیدا کردہ سائنسی تاویلوں کو معیار بنانے کے بجائے آقا کریمﷺ کے اس سفرِ مبارک کو معیار کیوں نہیں بناتے؟ وہ معراج کا سفر کیسے ہوا جس میں یہ پورا آسمانِ دنیا پلک جھپکتے میں پیچھے رہ گیا؟

سچ تو یہ ہے کہ کائنات کی اس لاامتناہی ملوکیت کا اور رب العالمین کے ان "چھ دنوں" (ادوار) کی حقیقی عظمت کا نظارہ سوائے رسولِ کریمﷺ کے کائنات کی کسی مادی یا نوری مخلوق کو نصیب ہی نہیں ہو سکا۔ کیونکہ جن جن جہانوں اور عوالم کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ "رب العالمین" ہے، انہی تمام کے تمام عالمین کے لیے اس نے اپنے محبوب، آقا تبارک و تعالیٰ کو "رحمت اللعالمین" بنا کر بھیجا ہے۔ پس، یہ شبِ معراج دراصل ان بے شمار عالمین اور الٰہی ادوار کی سیر تھی جو ان مخصوص چھ دنوں میں تخلیق کیے گئے تھے اور جن کی وسعتوں کا حقیقی ادراک مادی سائنس کے بس سے ہمیشہ باہر رہے گا۔

Check Also

Kuch Zindani Aurat Ke Baare Mein

By Dr. Uzma Noreen